تیل کی قیمتوں میں اضافہ: اوپیک ممالک تیل کی بڑھتی قیمتوں کو کم کرنے میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتے؟


A Russian oil rig in the Arctic
دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے تیل کی قیمتوں کو کم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے جس کے بعد تیل برآمد کرنے والے بڑے ممالک کا اجلاس پانچ مئی (جمعرات) کو ہونے جا رہا ہے۔

تاہم اوپیک پلس گروپ کے اراکین جن میں روس بھی شامل ہے، اس حوالے سے مدد کرنے میں زیادہ دلچسپی لیتے نظر نہیں آتے۔

اوپیک پلس کیا ہے؟

اوپیک پلس دراصل تیل برآمد کرنے والے 23 ممالک پر مشتمل ایک گروپ ہے جس کے رکن ممالک ہر ماہ ویانا میں ملتے ہیں تاکہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ عالمی منڈی میں انھیں کتنا تیل رکھنا چاہیے۔

’آرگنائزیشن آف آئل ایکسپورٹنگ کنٹریز‘ یعنی اوپیک کے 13 بنیادی رکن ممالک دراصل مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے ملک ہیں۔ اس تنظیم کو سنہ 1960 میں قائم کیا گیا تھا تاکہ دنیا بھر میں تیل کی ترسیل اور اس کی قیمت کے حوالے سے مسائل کا حل ڈھونڈا جا سکے۔

آج کل اوپیک ممالک دنیا میں خام تیل کا 30 فیصد پیدا کرتا ہے، یعنی یومیہ دو کروڑ 80 لاکھ بیرل۔ اوپیک ممالک میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک سعودی عرب ہے، جو یومیہ ایک کروڑ بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔

سنہ 2016 میں جب تیل کی قیمتیں خاصی کم تھیں تو اوپیک گروپ نے دیگر 10 ایسے ممالک سے شراکت کرنے کا فیصلہ کیا جو تیل پیدا کرتے تھے، اور یوں اوپیک پلس کا قیام عمل میں آیا۔

ان ممالک میں روس بھی شامل ہے، جو یومیہ ایک کروڑ بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ ممالک دنیا میں خام تیل کا 40 فیصد حصہ پیدا کرتے ہیں۔

انرجی انسٹیٹیوٹ کی کیٹ ڈوریئن کہتی ہیں کہ ’اوپیک پلس دراصل رسد اور طلب میں تبدیلی کر کے مارکیٹ میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ جب تیل کی طلب میں کمی آتی ہے تو یہ تیل کی فراہمی کم کر دیتے ہیں تاکہ قیمتیں بدستور زیادہ ہی رہیں۔‘

اوپیک پلس ممالک قیمتوں میں کمی لانے کے لیے مارکیٹ میں زیادہ تیل بھی فراہم کر سکتے ہیں، اور برطانیہ اور امریکہ جیسے بڑے درآمدی ممالک بھی اسی فیصلے کے منتظر ہیں۔

Bar chart showing daily crude output of leading Opec+ members

تیل کی قیمتوں میں اتنے زیادہ اضافے کی وجہ کیا ہے؟

سنہ 2020 کے موسم بہار میں جب کووڈ کا پھیلاؤ دنیا بھر میں عروج پر تھا اور مختلف ممالک لاک ڈاؤں میں تھے تو خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی کیونکہ اس کی طلب بہت کم ہو گئی تھی۔

ڈوریئن اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’تیل پیدا کرنے والے ممالک لوگوں کو پیسے دے کر تیل فراہم کر رہے تھے کیونکہ ان کے پاس اسے سٹور کرنے کے لیے جگہ موجود نہیں تھی۔‘

اس کے بعد اوپیک پلس ممالک نے تیل کی پیداوار میں ایک کروڑ بیرل یومیہ کی کمی پر اتفاق کیا تاکہ قیمتوں کو دوبارہ پرانی سطح پر لایا جا سکے۔

جون 2021 میں جب خام تیل کی طلب دوبارہ بڑھنے لگی تو اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی فراہمی میں بتدریج اضافہ ہونا شروع ہوا اور عالمی منڈیوں میں ان کی جانب سے مزید چار لاکھ بیرل فراہم کیے جانے لگے۔

آج ان کی جانب سے سنہ 2020 کے موسم بہار جتنا تیل فراہم کیا جا رہا تھا اس سے یومیہ 25 لاکھ بیرل کم تیل فراہم کیا جا رہا ہے۔

تاہم جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تو خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا، اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی۔

اس کے باعث عام صارفین کے لیے پمپس پر پیٹرول کی قیمتوں میںں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔ آرگس میڈیا میں چیف اکانومسٹ ڈیوڈ فائف کہتے ہیں کہ ’جب اوپیک پلس نے مئی 2020 میں تیل کی فراہمی میں ایک کروڑ بیرل یومیہ کی کمی لائی تھی تو یہ بہت زیادہ کمی تھی۔

‘اب انھوں نے تیل کی فراہمی کو بہت ہی سست رفتار سے بڑھایا ہے جس میں روس یوکرین جنگ کے باعث پیدا ہونے والے بحران کے نتائج کے بارے میں نہیں سوچا گیا۔’

فائف کہتے ہیں کہ تیل خریدنے والوں میں یہ خدشہ موجود ہے کہ یورپی یونین بھی امریکہ کی طرح روس سے تیل کی درآمد پر پابندی عائد کر سکتی ہے۔

یورپ اس وقت روس سے یومیہ 25 لاکھ بیرل تیل درآمد کرتا ہے۔

Petrol pump nozzle and euro notes

فائف کہتے ہیں کہ ’روسی تیل پر پابندی کے خطرے نے مارکیٹس میں خدشات بڑھا دیے ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو تیل کی رسد میں بڑی کمی واقع ہو سکتی ہے۔‘

اوپیک پلس کی جانب سے تیل کی پیداوار بڑھائی کیوں نہیں جا رہی؟

امریکی صدر جو بائیڈن نے سعودی عرب سے بارہا اپیل کی ہے کہ وہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کرے تاہم تاحال سعودی عرب کی جانب سے ایسا نہیں کیا گیا۔

برطانیہ کے وزیرِاعظم بورس جانسن بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے تیل کی پیداوار بڑھانے کا کہہ چکے ہیں۔ تاہم ان کی بات پر بھی کان نہیں دھرے گئے۔

British prime minister Boris Johnston makes a speech in Saudi Arabia, with Saudi dignitaries in the background.

Gertty Images

کیٹ ڈوریئن کہتی ہیں کہ ’سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پاس تیل پیدا کرنے کی اضافی صلاحیت موجود ہے لیکن وہ خود سے پیداوار بڑھانے سے انکار کر رہے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ انھیں مغرب کے کہنے پر عمل کرنا پڑے۔‘

’وہ کہہ رہے ہیں کہ رسد اور طلب کے درمیان موجود خلیج میں کمی واقع ہو رہی ہے، اور تیل کی موجودہ قیمتوں کی بلند سطح دراصل تیل خریدنے والوں کی گھبراہٹ کی عکاس ہے۔‘

دیگر اوپیک پلس ممالک کے لیے تیل کی پیداوار میں اضافہ کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

ڈاکٹر فائف کہتے ہیں کہ ’نائجیریا اور انگولا جیسے تیل پیدا کرنے والے ممالک گذشتہ ایک برس سے مجموعی طور پر یومیہ دس لاکھ بیرلز کم فراہم کر رہے ہیں۔‘

’عالمی وبا کے دوران سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی اور تیل پیدا کرنے والی صنعتوں کی دیکھ بھال نہیں کی گئی۔ اب انھیں معلوم ہو رہا ہے کہ وہ پیداوار میں اضافہ نہیں کر سکتے۔‘

Russia's president Putin and OPEC Secretary General Mohammad Barkindo shaking hands.

روس کا کیا مؤقف ہے؟

اوپیک پلس کو روس کی خواہشات کا بھی احترام کرنا ہے کیونکہ روس اس اتحاد میں دو بڑے شراکت داروں میں سے ایک ہے۔

کرسٹول انرجی کی سی ای او کیرول نخلے کہتی ہیں کہ ’روس تیل کی موجودہ قیمتوں سے خوش ہے۔ اس کا قیمتیں کم ہونے میں بظاہر کوئی نقصان نہیں ہے۔‘

’اوپیک روس کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتا ہے اس لیے وہ اس معاہدے کو برقرار رکھیں گے جو گذشتہ سال کیا گیا تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب سے ستمبر تک خام تیل کی رسد سست رفتار سے بتدریج بڑھائی جائے گی۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24071 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments