پاکستانیوں کے لیے 9 اپریل کا دن ایک تھکا دینے والا دن ثابت ہوا۔ پوری قوم صبح دس بجے سے رات کے گیارہ بج کر چالیس منٹ تک ٹی وی سکرینوں کے سامنے براجمان رہی۔ تاوقتیکہ اسد قیصر نے سپیکر کی کرسی ایاز صادق کے حوالے نہ کردی۔ دوسری طرف متحدہ اپوزیشن کے 174 اراکین اپنی نشستوں پر بڑے سکون کے ساتھ بیٹھے شاہ محمود، شیریں مزاری اور دیگر کی لمبی لمبی اور بے تکی تقاریر سنتے رہے۔

سابق وزیراعظم عمران خان رات دس بجے تک بڑے پر امید تھے۔ موصوف کا فرمانا تھا کہ وہ کسی بھی وقت سرپرائز دے سکتے ہیں۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔

بدقسمتی سے خان صاحب آخری بال کھیلے بغیر بڑی خاموشی کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس چھوڑ کر بنی گالہ سدھار گئے۔ ٹی وی پر عمران خان کے پارلیمنٹ ہاؤس آنے اور خطاب کی خبریں بھی گردش کرتی رہیں۔ لیکن وہ نہ آ سکے۔ کیا انہونی ہوئی کہ یکایک سرکاری پارٹی کا جوش و خروش بلبلے کی طرح بیٹھ گیا۔ رات کے دس بجے تک خان صاحب اور ان کے ساتھیوں کو اس بات کا یقین تھا۔ کہ بازی ان کے ہاتھ سے نہیں نکلے گی۔ مگر اچانک سپریم کورٹ کے دروازے کھلنے کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی عدالت لگا لی۔

خان صاحب نے دراصل یہ پلاننگ کر رکھی تھی۔ کہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کو کسی نہ کسی طرح تین چار دن کے لیے ٹال کر قومی اسمبلی کے اجلاس کو طوالت دے دی جائے۔ اس طرح اپوزیشن زچ ہو کر ہنگامہ آرائی کی طرف لازمی جائے گی۔ لہذا سپیکر کو اجلاس ملتوی کرنے کا بہانہ مل جائے گا۔

اس کے علاوہ عمران خان کے ذہن میں کسی قسم کی کھچڑی بھی پک رہی تھی۔ وہ اپنی حکومت کو بچانے کے لیے آخری گیند کرانے کے بارے میں سوچ بچار میں مصروف تھے۔ جب رات ساڑھے نو بجے وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب کرنے کی خبر نشر ہوئی۔ تو پورے ملک میں سنسنی پھیل گئی۔ کیوں کہ رات گئے وفاقی کابینہ کے اجلاس کی کوئی روایت موجود نہیں تھی۔ اس کے علاوہ اس طرح کے اجلاس عمومی طور پر کسی تعیناتی کی منظوری کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں۔ پوری قوم کی نظریں بنی گالہ میں منعقدہ اجلاس پر جم گئیں۔ دوسری طرف قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقفہ بھی طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا۔

رات پونے بارہ بجے قومی اسمبلی کے سپیکر اسد قیصر شدید غصے کے عالم میں پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے۔ اور مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ یوں اپوزیشن کے ساتھ ساتھ پوری قوم نے سکھ کا سانس لیا۔

بی بی سی جو خبروں اور دیگر واقعات کے بارے میں تبصرے اور تجزیے کرنے کا مستند ادارہ ہے۔ اس نے عمران حکومت کی برطرفی کے بارے میں ایک رپورٹ جاری کی۔ بی بی سی کے مطابق عمران خان نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو فوج کی سربراہی سے ہٹا دیا تھا۔ اور نوٹیفیکیشن کے لیے سمری وزارت دفاع کو ارسال کردی تھی۔ مگر سیکرٹری دفاع نے حکومت کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ اور ساتھ ہی آرمی کی ہائی کمان کو ساری صورت حال کے بارے میں آگاہ کر دیا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک ہیلی کاپٹر دو اعلی ’عسکری شخصیات کو لے کر وزیراعظم ہاؤس میں اترا۔ دونوں باوردی افسران نے عمران خان کے ساتھ علیحدگی میں ملاقات کی۔ جس کے بعد کشیدہ صورت حال نارمل ہوئی۔ ان شخصیات کی آمد سے پہلے وزیراعظم ہاؤس کی راہداریوں میں وزراء اور دیگر حکومتی اراکین خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ انہیں اپنی فتح کا پورا یقین تھا۔ وہ ایک ہیلی کاپٹر کے منتظر تھے۔ جس میں ان کے منظور نظر شخص کی آمد متوقع تھی۔ مگر پشاور کے بجائے پنڈی والوں کو پورے جاہ و جلال کے ساتھ آتا دیکھ کر سب کے اوسان خطا ہو گئے۔ چند منٹ کے اندر اندر وزیراعظم ہاؤس کا دفتر اور راہداریاں سنسان ہو گئیں۔ اور یوں بازی مکمل طور پر پلٹ گئی۔ آج جو عناصر ممکنہ لانگ مارچ کے خونی ہونے کی بڑھکیں مار رہے ہیں۔ اس رات ان کو عمران خان کے دفتر سے فرار ہونے کی جلدی پڑی تھی۔

گو کہ بی بی سی کی رپورٹ کو فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے گمراہ کن قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ مگر سابق وزیراعظم عمران خان کا اچانک پسپا ہونا بڑا حیران کن بھی تھا اور پراسرار بھی۔ یہ انہونی اب تاریخ کی کتابوں میں درج ہو چکی ہے۔ اور کبھی نہ کبھی اس اسرار سے پردہ اٹھ کر ہی رہے گا۔ جیسا کہ ماضی میں ہوتا آیا ہے۔ سیاستدان، ججز اور جرنلز اپنے مناصب سے ہٹنے کے بعد کتابی صورت میں تاریخ کے اوراق پلٹتے چلے آئے ہیں۔ اور بہت کچھ جو دبیز پردوں کے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ وہ ظاہر ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔

ماضی میں بھی حکمران مدت پوری کیے بغیر اقتدار سے بے دخل ہوتے رہے ہیں۔ مگر کسی نے اتنا واویلا نہیں مچایا۔ جتنا آج کل عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کا پیش ہونا ایک جمہوری اور آئینی عمل تھا۔ اس کو لے کر ملک دشمنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کی قطعی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ آپ ایک اکثریتی جماعت کے سربراہ تھے۔ آپ قومی اسمبلی میں بیٹھ کر شہباز حکومت کو ناکوں چنے چبواتے۔ اور موقع تاک کر حکومت کو گرانے کی سعی تو کرتے۔ اتنا شدید جذباتی ہونے اور سڑکوں پر اودھم مچانے اور غل غپاڑہ کرنے کی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی۔ عمران خان اپنے دور اقتدار میں کوئی کارکردگی تو دکھا نہیں سکے۔ لہذا وہ بیرونی سازش یا مداخلت کا چورن بیچ رہے ہیں۔ بدقسمتی سے سادہ لوح عوام کا تھوڑا بہت حصہ اس چورن کو دھڑا دھڑ خرید بھی رہا ہے۔ درحقیقت عمران خان کبھی بھی جمہوری ذہن کے مالک نہیں تھے۔ اس کے علاوہ ان کے اندر برداشت کا مادہ بھی نہیں ہے۔ اسی لیے ان کی سیاست جمہوری اقدار کی کسوٹی پر پورا نہیں اترتی۔