بلقیس ایدھی کی وہ ’لاوارث‘ بیٹیاں جن کے ہاتھوں پر مہندی رچی اور وہ اپنے گھروں میں آباد بھی ہوئیں

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی


20 برس کی عائشہ کی تین ماہ قبل شادی ہوئی اور اب وہ وہ کراچی میں کیماڑی کے علاقے میں رہتی ہیں۔ شادی پر انھیں سونے کے زیورات کا سیٹ، صوفہ، ٹی وی، برتن سمیت تقریباً گھریلو استعمال کی تمام ہی اشیا ملیں جو جہیز میں دی جاتیں ہیں لیکن یہ سارا انتظام کرنے والی ان کی حقیقی ماں نہیں بلکہ ’ممی‘ تھیں جن کا نام بلقیس ایدھی تھا۔

پاکستان میں لاوارثوں اور محتاجوں کی خدمت کے لیے سرگرم ایدھی فاؤنڈیشن کے بانی عبدالستار ایدھی کی ہمسفر اور سماجی خدمت گار بلقیس ایدھی رواں برس 15 اپریل کو انتقال کر گئیں۔

عائشہ بتاتی ہیں کہ وہ افطاری کر رہی تھیں جب انھیں بلقیس ایدھی کے انتقال کی خبر ملی۔

عائشہ اپنی ممی کو یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ جب بھی بلقیس ایدھی سے ملنے جاتی تھیں تو وہ پہلا سوال یہ ہی کرتی تھیں کہ اپنے گھر میں خوش تو ہو نا۔

’وہ ہمارا بہت بڑا سہارا تھیں، امی نہیں رہیں لیکن ہم وہاں جائیں گے کیونکہ وہاں امی کی یادیں ہیں۔‘

’بس خواہش کا اظہار کرنا ہوتا تھا‘

اس علاقے میں 20، 21 سال کی فائزہ بھی رہتی ہیں اور ان کی شادی بھی چند ماہ قبل ہوئی۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’جو چیز مانگتے تھے وہ مل جاتی تھی، بس ہماری سوچ و خواہش کا اظہار ہوتا تھا اور ممی وہ پوری کر دیتی تھی۔‘

’ہم جیسا کھانا چاہتے تھے ویسا ہی ہمیں مل جاتا تھا اور ہم حیران ہو کر سوچتے تھے کہ یہ کیسے ہو گیا۔‘

فائزہ بتاتی ہیں کہ وہ شاید دو سال کی ہوں گی جب گمشدگی کے بعد انھیں ایدھی ہوم لایا گیا تھا۔ جہاں ممی بلقیس ایدھی نے ان کی پرورش کی، انھیں کھانا پکانا، کڑھائی سلائی سیکھائی اور میٹرک تک تعلیم بھی دلوائی۔

’بیشک میری ماں نہیں تھیں لیکن ممی بلقیس نے مجھے ماں کی طرح سنبھالا۔ انھوں نے 13 مارچ 2022 کو میری شادی کرائی۔ اس وقت میں اپنے سسرال میں ہوں اور بہت خوش ہوں اور یہ ممی کی بدولت ہے۔‘

ایدھی وومین شیلٹر میں کئی لڑکیوں کی شادیاں کرائی گئی ہیں، جہاں شادی کی تمام رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ فائزہ اور عائشہ نے اپنی شادی کے البم بھی دکھائے جن میں موجود تصاویر بھی پروفیشنل فوٹو گرافر نے بنائی تھیں۔

رشتے کے لیے اپنا نظریہ اور نظام

عائشہ کے شوہر حسان رضا نے بتایا کہ ان کی والدہ بلقیس ایدھی کے پاس درخواست لے کر گئی تھیں جس کے بعد انھوں نے بلایا اور کام، کاج اور گھر کا پوچھا۔

’یہ بھی معلوم کیا کہ کوئی نشہ تو نہیں کرتے جس کے بعد حامی بھری اور رخصتی کے وقت کہا کہ میری بیٹی کو خوش رکھنا۔‘

رشتے کی بات سے لے کر حامی بھرنے تک بلقیس ایدھی کا اپنا ایک نظریہ اور نظام تھا۔

اقبال بانو ان کے پاس رشتے لے جاتی تھیں اور عائشہ اور فائزہ کا رشتہ بھی انھوں نے ہی کرایا۔ وہ بتاتی ہیں کہ لڑکے کے محلے میں جا کر رازدری سے اس کے کردار اور فیملی کے بارے میں معلومات کی جاتی اور اس سے بلقیس ایدھی کو آگاہ کرتے تھے۔

’وہ مولوی کو رشتہ نہیں دیتی تھیں اور 30 سال سے بڑی عمر کا رشتہ بھی نہیں لیتی تھیں، نہ ہی دوسری شادی کے لیے حامی بھرتی تھیں۔ اگر ایسا ہوا ہو کہ علیحدگی ہو گئی اور وہ سمجھتی تھیں کہ لڑکے کی غلطی نہیں تو اس صورت میں رشتے کے لیے راضی ہو جاتی تھیں۔‘

اقبال بانو نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک رشتے کے تمام معاملات طے ہو چکے تھے۔

’لڑکے نے سر پر ٹوپی پہن رکھی تھی۔ بلقیس ایدھی نے کہا کہ بیٹا ٹوپی اتارو اور جیسے ہی اس نے ٹوپی اتاری تو سر پر بال نہیں تھے انھوں نے رشتہ نہیں کیا اور مجھے کہا کہ میری بیٹی کل کو کہے گی کہ تم نے میری گنجے سے شادی کرا دی۔‘

جب نومولو بچہ سنگسار کیا گیا

ایدھی فاؤنڈیشن میں دو طرح کے بچے آتے ہیں، ایک وہ جو فائزہ اور عائشہ کی طرح گمشدگی کی وجہ سے ملتے ہیں اور دوسرے وہ جو جھولے میں ڈال دیے جاتے ہیں۔

عبدالستار ایدھی نے جب جھولے لگائے تو انھیں مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس میں اس وقت کے بڑے بڑے نام بھی شامل تھے لیکن انھوں نے کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنا مشن جاری رکھا۔

عبدالستار ایدھی کی سوانح عمری میں تہمینہ درانی ان کی زبانی لکھتی ہیں کہ ’جب ایک فتوے کے مطابق مسجد کے سامنے ایک لاوراث بچے کو سنگسار کیا گیا تو میں( ایدھی) اس ظلم پر تڑپ اٹھا کہ ایک نوازئیدہ بچے کو گناہ گار کس طرح ثابت کیا جا سکتا ہے۔‘

’اس مرحلے پر عملی طور پر کچھ کرنے کا خیال آیا اور میں نے ایدھی سینٹرز کے باہر جھولے لگوا دیے، جن کے ساتھ یہ عام درخواست مشتہر کر دی کہ ’دوسرے گناہ کے ارتکاب‘ یعنی معصوم جان کو قتل کرنے سے پہلے بچہ ہماری نگرانی میں دے دیجیے۔‘

ایدھی کے اس اقدام پر مذہب کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے لاؤڈ سپیکرز پر فتویٰ صادر کیا کہ ’ایدھی کافر ہے، انھیں عطیات نہ دو۔‘

بلقیس ایدھی نے بتایا تھا کہ جب اُنھوں نے کراچی میں دواخانہ قائم کیا تو لوگوں سے اپیل کی کہ ’بچوں کو کچرے میں نہ پھینکیں بلکہ ایسے بچوں کو ہمارے حوالے کر دیں۔‘

اس مقصد کے لیے انھوں نے دواخانے میں ایک جھولا لگایا تھا۔ پھر پاکستان کے تمام سینٹرز میں ایسے جھولے لگائے گئے جہاں لوگ بچوں کو چھوڑ جاتے ہیں اور ان سے کوئی سوال نہ کرتا۔

عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کے فرزند فیصل ایدھی بتاتے ہیں کہ ممی اور ایدھی صاحب کی زبانی ہم سنتے رہے ہیں کہ ان دنوں مرے ہوئے بچے زیادہ ملتے تھے، ایدھی صاحب ایمبولینس چلاتے تھے اور 1960 کی دہائی میں ایمبولینسیں بھی کم ہوتی تھیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن

عبدالستار ایدھی نے جب جھولے لگائے تو انھیں مذہبی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا

’ایدھی صاحب کو فون آتا تھا کہ فلاں جگہ پر بچے کی لاش پڑی ہے آ کر لے جائیں، فلاں جگہ پر بچہ رو رہا ہے، انھیں کبھی کتے تو کبھی بلیاں کھا گئی ہوتی تھیں وہ جا کر اس بچے کو زخمی حالت میں لے کر آتے اور پھر ممی ان کا علاج اور پرورش کرتیں۔‘

’اس صورتحال میں انھوں نے مل کر یہ فیصلہ کیا کہ کیوں نہ ہم اپنے سینٹر کے آگے جھولا رکھ دیں اور لوگوں کو درخواست کریں کہ آپ بچے کو قتل نہ کریں بلکہ جھولے میں ڈال دیں اور جب انھوں نے جھولا لگایا تو ان پر بہت تنقید ہوئی کہ یہ حرام خوری کو فروغ دے رہے ہیں، یہ سماج میں غلط قسم کی رسومات کو پروان چڑھائے گا حالانکہ ان کا ہرگز یہ مقصد نہیں تھا ان کا بس ایک ہی مقصد تھا کہ کس طرح ان بچوں کو بچایا جائے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’ایدھی بابا‘ اور لالو کھیت کا لاوارث بچہ

ہزاروں لاوارث بچوں کی ’ممی‘ جن کے بغیر ایدھی کا مشن پورا ہونا ناممکن تھا

’بلقیس ایدھی، ڈاکٹر رابعہ کی صورت میں زندہ ہیں‘

’ہمارے ابو کو کیوں کافر کہتے ہیں‘

فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ انھوں نے جب ہوش سنبھالا تو وہ کمیونٹی سکول جاتے تھے اور وہاں انھیں کہا جاتا کہ ایدھی کافر اور ملحد ہے۔

’مجھے ملحد کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا تھا تو میں نے ایدھی صاحب سے پوچھا کہ یہ کیا ہے تو انھوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو مذہب پر یقین نہیں رکھتے۔ میں نے انھیں کہا کہ آپ تو نماز پڑھتے ہیں پھر آپ کو ملحد کیوں کہتے ہیں؟ تو ان کا جواب تھا کہ جب اور کچھ نہیں ہوتا تو پھر یوں ہی یہ برا بھلا کہتے ہیں۔‘

فیصل ایدھی

عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کے فرزند فیصل ایدھی کئی سال سے ایدھی فاؤنڈیشن کے انتظامی امور دیکھ رہے ہیں

’ہمارے پاس جو زندہ بچے آتے تھے ان میں 95 فیصد لڑکیاں ہوتی تھیں‘

ایدھی فاؤنڈیشن کے باعث کئی بے اولاد جوڑوں کی زندگی میں اولاد کی خوشی آئی، میٹھادر میں واقع ایدھی فاؤنڈیشن کے دفتر کے باہر اور اندر ایسے پوسٹر لگے ہوئے ہیں جن پر لکھا ہے کہ چونکہ زندہ بچے نہیں آ رہے لہذا بچے لینے کے خواہشمند حضرات زحمت نہ کریں۔

فیصل ایدھی نے بتایا کہ جو بچے جھولے میں آتے ہیں وہ گود لینے کے لیے دے دیے جاتے ہیں اور باقی جو بچے ان کے پاس آتے ہیں ان میں بڑے بچے ہوتے ہیں یہ وہ بچے ہوتے ہیں جو ناقابل قبول ہوں جیسے جسمانی اور ذہنی معذور ہوں یا والدین سے بچھڑ گئے ہوں۔

’ہمارے پاس جو زندہ بچے آتے تھے ان میں 95 فیصد لڑکیاں ہوتی تھیں۔ حالیہ دنوں میں بچوں کی لاشیں بہت زیادہ مل رہی ہیں صرف کراچی سے بیس پچیس لاشیں مل جاتی ہیں جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی برابر ہیں۔‘

’اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی لاشیں ملنے کی وجہ کیا ہے ہمیں سمجھ نہیں آ رہا۔ اس سے قبل ہر مہینے بیس کے قریب زندہ بچے ملتے تھے تو وہ گود لینے کے لیے دے دیے جاتے تھے، ان میں زیادہ تر لڑکیاں اور ایک یا دو لڑکے ہوتے تھے۔‘

صبا ایدھی

فیصل ایدھی کی بیگم صبا ایدھی

ذمہ داری ایدھی کی نئی نسل پر

عبدالستار ایدھی اور بلقیس ایدھی کے فرزند فیصل ایدھی کئی سال سے ایدھی فاؤنڈیشن کے انتظامی امور دیکھ رہے ہیں جس میں ان کے بیٹے سعد ایدھی بھی شامل ہو گئے ہیں اور بلقیس ایدھی کے انتقال کے بعد اب فیصل ایدھی کی بیگم صبا ایدھی اور بیٹی رابعہ ایدھی بھی اس میں شامل ہو گئی ہیں۔

صبا ایدھی اور رابعہ سے میٹھادر میں اسی ڈسپینسری میں ملاقات ہوئی جہاں بلقیس ایدھی موجود ہوتی تھیں۔

صبا ایدھی کے مطابق ان کی ذمہ داری میں بچوں کو دیکھنا، جو شادی لائق لڑکیاں ہیں ان کی شادی کرانا اور جو دیگر ایدھی سینٹرز ہیں جہاں لڑکیاں رہتی ہیں ان کی دیکھ بھال، یہ ساری ذمہ داری ان پر ہے۔

’امی بہت بڑی ذمہ داری میرے کندھوں پر چھوڑ کر گئیں ہیں۔ میں نے سوچا ہی نہیں تھا کہ اتنی جلد وہ ہمیں چھوڑ جائیں گی۔ اب میری پوری کوشش ہو گی کہ جس طرح سے ممی یہ نظام چلا رہی تھیں ایسے چلتا رہے۔ میرے چار بچے ہیں انھیں وقت نہیں دے پا رہی ہوں لیکن وہ شکایت نہیں کر رہے بلکہ ساتھ دے رہے ہیں۔‘

رابعہ ایدھی

فیصل ایدھی کی بیٹی رابعہ ایدھی ایم بی بی ایس کر رہی ہیں

رابعہ فیصل اس وقت ایم بی بی ایس کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ پانچ سال سے میٹھادر اور کھارادر کے علاوہ ایدھی ولیج جا رہی ہیں۔

’جب بچوں میں آتی ہوں تو بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔ یہ اپنے کپڑے اور کھلونے لیکر آتے ہیں، میرے ساتھ کھیلتے ہیں۔ عید پر بھی ہم زیادہ تر یہاں ہی آتے تھے۔‘

’دوست اور لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ بچے کہاں سے آتے ہیں تو ہم انھیں بتاتے ہیں کہ انھیں ان کے ماں باپ معاشی وجہ یا کسی اور وجہ سے چھوڑ جاتے ہیں، یا ماں باپ فوت ہو جاتے ہیں تو ان کے جو فیملی ممبران ہیں وہ چھوڑ جاتے ہیں۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے ان بچوں کی تعلیم کو بہتر بنانا ہے اور انھیں ہنر دینا ہے تاکہ یہ کارآمد شہری بن سکیں اور میرے دادا دادی کا بغیر رنگ و نسل اور مذہب و قوم کے انسانیت کی خدمت کا جو خواب تھا، وہ جاری رہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24061 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments