چین: منہدم عمارت کے ملبے میں چھ دن سے دبی خاتون کو زندہ نکال لیا گیا

پیٹرک جیکسن - بی بی سی نیوز


Chinese rescuers with the 10th survivor
امدادی کام چھ دن بعد بھی جاری ہے
چین کے مرکزی شہر چانگشا میں امدادی کارکنوں نے چھ دن پہلے منہدم ہونے والی ایک چھ منزلہ عمارت کے ملبے کے نیچے سے ایک عورت کو زندہ نکال لیا ہے۔

ریاستی میڈیا کے مطابق جب انھیں چین کے مقامی وقت کے مطابق تقریباً آدھی رات کے قریب نکالا گیا تو وہ ہوش میں تھیں اور انھوں نے امدادی کارکنوں کو بتایا کہ انھیں حفاظت سے کیسے باہر نکالیں۔

بتایا جا رہا ہے کہ اس حادثے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 10 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ ابھی تک درجنوں افراد لاپتہ بھی ہیں۔

عمارت میں حفاظتی اقدامات کے متعلق تحقیقات ہو رہی ہیں اور اس دوران کچھ افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔

کمزور حفاظتی اور تعمیراتی معیارات اور مقامی حکام میں بدعنوانی چین میں کئی عمارتیں گرنے کا سبب بنی ہے۔

چانگشا میں امدادی کارکنوں نے زندگی کی علامات کا پتہ لگانے کے لیے روایتی طریقے استعمال کیے، جن میں زور زور سے آوازیں دینا، دستک دینا، سونگھنے والے کتوں اور اس کے علاوہ ڈرونز کا استعمال بھی شامل ہے۔

جن لوگوں کو ملبے کے نیچے جمعرات کو علی الصبح زندہ نکالا گیا وہ تقریباً 132 گھنٹے سے ملبے کے نیچے پھنسے ہوئے تھے۔

ایک اور خاتون جنھیں 88 گھنٹے بعد بازیاب کروایا گیا، اُنھوں نے بتایا کہ کس طرح اُنھوں نے پینے کا پانی ذخیرہ کیا اور جسم کو گرم رکھ کر اپنے آپ کو زندہ رکھا۔

یہ بھی پڑھیے

تائیوان میں 6.4 شدت کا زلزلہ، متعدد عمارتیں منہدم

تصاویر: پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں زلزلے سے تباہی

جب گذشتہ جمعے کی سہ پہر عمارت کا پچھلا حصہ گرا تو ایک 21 سالہ خاتون جس کا نام ابھی سامنے نہیں آیا، اس وقت اپنے بستر پر تھیں۔ ان کے اس عمارت میں فلیٹس اور کاروباری دفاتر تھے۔

اخبار گلوبل ٹائمز کے مطابق وہ خاتون چار منزلیں نچے گر گئیں، لیکن ان کی خوش قسمتی کہ دیواریں مکمل طور پر نہ گر پائیں اور ان کے سر کے اوپر ایک مثلث کی طرح بن گئیں۔

پانی کا آدھا برتن ان کی زندگی بچانے میں اہم ثابت ہوا۔ اس میں بہت کم پانی تھا اور انھوں نے اس میں سے چھوٹے چھوٹے گھونٹ پانی پیا تاکہ یہ ختم نہ ہو، جب انھیں باہر نکالا گیا تو اس وقت بھی اس میں کچھ پانی باقی بچا ہوا تھا۔ گرم رکھنے کے لیے انھوں نے خود کو لحاف میں لپیٹے رکھا۔

حادثے کے بعد ان کے موبائل فون کے سگنل بند ہو گئے تھے لیکن انھوں نے اپنے فون کو تاریخ اور وقت پر نظر رکھنے کے لیے استعمال کیا، وہ اتنی احتیاط سے اس کی بیٹری بچاتی رہیں کہ جب انھیں ڈھونڈا گیا تو اس وقت بھی اس کی بیٹری کام کر رہی تھی۔

وہ مدد کے اشارے کے لیے اپنی قریبی دیوار پر کوئی سخت چیز مارتی رہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’جب میں نے باہر شور سنا تو میں نے دستک نہیں دی، لیکن جب مجھے لگتا تھا کہ امدادی کارکن قریب ہیں یا باہر خاموشی ہے تو میں باقاعدگی سے دستک دیتی تھی اور مجھے جلد ہی جواب مل گیا تھا۔‘

’چانگشا گرل‘ کی کہانی نے پورے چین میں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔

چینی صدر شی جن پنگ نے امداد کی ہر ممکن کوشش اور عمارت گرنے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

کم از کم نو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ چار پر حادثے کی ذمہ داری کا الزام عائد کیا گیا ہے جبکہ پانچ پر جھوٹے دستاویزات فراہم کرنے کا الزام ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24046 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments