پاکستانی سیکیورٹی ادارے صحافیوں پر دباؤ کیوں ڈالتے ہیں؟


اسد علی طور

واشنگٹن ڈی سی — ’’انہوں نے اپنی پستولوں کے بٹ میری کہنیوں پر مارنا شروع کر دیے۔ اس وقت مجھے ایسے محسوس ہوا کہ وہ میرے بازوؤں کو کہنیوں سے ’ڈس لوکیٹ‘ کر کے مجھے اپاہج کرنا چاہتے ہیں۔ جب میرے منہ پر بندھی پٹی تھوڑی ڈھیلی ہوئی، اور میں نے چیخنا شروع کیا تو وہ مجھے دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے۔‘‘

یہ الفاظ ہیں صحافی اسد طور کے جن پر 25 مئی 2021 کے روز ان کے فلیٹ میں داخل ہو کر مبینہ طور پر تین افراد نے تشدد کیا۔ اسد کے بقول ان لوگوں نے اپنا تعارف آئی ایس آئی کے اہلکاروں کے طور پر کروایا۔

اسد کا دعوی ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف دائر ہونے والے ریفرنس کی کوریج پر انہیں دباو کا سامنا تھا اور ان پر اپنا یوٹیوب چینل ’ان سنسرڈ‘ بھی بند کرنے کے لیے زور ڈالا جا رہا تھا۔ اس چینل پر اسد سول ملٹری تعلقات جیسے موضوعات پر گفتگو کرتے تھے جن پر بقول, ان کے مین سٹریم میڈیا میں سنسرشپ تھی۔

اس واقعے کے بعد اسد طور کو سوشل میڈیا پر ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا, مگر آئی ایس آئی نے وزارت اطلاعات و نشریات کے ساتھ ایک اعلی سطحی رابطے میں اسد طور پر ہونے والے حملے سے تعلق کی تردید کی تھی اور وزارت اطلاعات نے آئی ایس آئی کے خلاف لگنے والے ان الزامات کو ففتھ جنریشن وار فئیر کا حصہ اور سازش قرار دیا تھا۔

صحافتی آزادی پر نظر رکھنے والی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں صحافیوں کے خلاف عدم برداشت میں پچھلے چند برسوں میں شدت دیکھنے میں آئی ہے۔ عالمی صحافتی ادارے رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی پریس فریڈم انڈیکس کے مطابق پاکستان کا درجہ 2018 میں 180 ممالک میں 139 سے تنزلی کے بعد 2021 میں 145 تھا۔ ادارے کے مطابق ’’جولائی 2018 میں عمران خان کے حکومت میں آنے کے بعد سے کھلی سنسرشپ کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جن میں فوج نے دباؤ ڈالنے کے کئی ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں۔‘‘

ادارے نے صحافیوں پر ہونے والے تشدد کی کئی مثالیں دیتے ہوئے لکھا کہ ’’۔۔۔پچھلی ایک دہائی سے دیکھا گیا ہے، کسی بھی واقعے پر کسی کو سزا نہیں ملی۔‘‘

ایک اور بین الاقوامی ادارے کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق 1992 سے اب تک پاکستان میں 62 صحافی اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔

صحافی اور اینکر حامد میر جو 2014 میں قاتلانہ حملے کا نشانہ بنے حال ہی میں کئی ماہ آف ایئر بھی رہے۔ ان سے جب سوال کیا گیا کہ سیکیورٹی ایجنسیاں کیوں سنسر شپ چاہیں گی تو ان کا کہنا تھا کہ ریاست میں برداشت کی کمی ہے۔ ان کے الفاظ میں ’’وہ قومی مفاد کے نام پر توقع کرتی ہیں کہ میڈیا جھوٹ بولے۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو کہتے ہیں کہ آپ غدار ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ اصل چیز عوامی مفاد ہوتا ہے۔ بقول ان کے ’’اگر میں غیر قانونی جبری گمشدگی کی بات کرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ میں غدار ہوں۔ آج تو شہباز شریف نے بھی کہہ دیا کہ یہ بہت بڑا مسئلہ ہے۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان ایک سیکیورٹی اسٹیٹ ہے جہاں بظاہر جمہوریت ہے لیکن در حقیقت ایک ’ہائیبرڈ رجیم‘ ہے جس میں’ انٹیلی جنس ایجنسیوں کا کردار بہت زیادہ ہے اور ہماری سیاسی اشرافیہ اقتدار کی سیاست کے لیے انہی ایجنسیوں سے معاملہ کرتی ہے۔ ‘ حامد میر کے مطابق جب صحافی سیاسی اشرافیہ کی طرح ساتھ نہیں دیتا تو اسے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اینکرپرسن عمران ریاض خان کا دعوی ہے کہ انہیں ایک معروف نجی ٹی وی چینل پر سیاسی دباؤ کے باعث پروگرام کرنے سے روک دیا گیا۔ آج عمران ایک مقبول یو ٹیوب چینل چلا رہے ہیں۔ وہ بھی کہتے ہیں ایجنسیوں کی جانب سے صحافیوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے.تاہم, ان کی نظر میں ’’کچھ صحافی بھی بعض اوقات لمٹ کراس کرتے ہیں‘‘۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے عمران ریاض خان کا کہنا تھا کہ ’’ اگر آپ ریاست کے خلاف چل رہے ہیں، بغیر پوچھے آپ غلط خبر دے رہے ہیں، اس پر بھی وہ بولتے ہیں کہ آپ کیوں ایسا کہہ رہے ہیں، اور وہ بات جائز ہوتی ہے، بعض اوقات سیاسی معاملات ہوتے ہیں۔ سب کو پتہ ہے کہ پاکستان میں ’رجیم چینچ‘ ہوا ہے اور اس میں سب نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔‘‘

مسلم لیگ کے سینئیر رہنما اور سابق وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید تسلیم کرتے ہیں کہ ن لیگ کی سابقہ حکومت کے دوران بھی صحافیوں پر پرتشدد واقعات ہوئے, لیکن, وہ کہتے ہیں, ’’ہم نے اس طرح کے واقعات کو سیاسی اونر شپ نہیں دی تھی۔ ہم ان کی مذمت کرتے تھے۔ اور اپنے طور پر جو ہماری طاقت تھی اس کے مطابق اس کو روکنےکی کوشش بھی کرتے تھے۔۔۔۔جب حامد میر صاحب پر حملہ ہوا تو اس دن ہم لوگ سفر میں تھے۔ لینڈ کرنے کے بعد میں ائیرپورٹ سے کراچی چلا گیا۔ خود وزیراعظم عیادت کے لیے ہسپتال پہنچے۔‘‘

2016 میں اس وقت کے چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی صدارت میں ایک تین رکنی کمیشن نے قرار دیا تھا کہ حامد میر پر حملے کے سلسلے میں آئی ایس آئی پر الزام شبہات اور قیاس آرائی پر مبنی تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ دو ہزار تیرہ میں جب مسلم لیگ نون نےاقتدار سنبھالا تو پریس فریڈم انڈیکس میں پاکستان کا نمبر ایک سو انسٹھواں تھا۔ جو اگلے پانچ برسوں میں بہتر ہو کر ایک سو انتالیس پر آ گیا۔

عمران خان کی حکومت پر الزام لگاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ حکومت حملہ آوروں کا دفاع کرتی تھی اور صحافیوں پر الزام تراشی کرتی تھی۔‘‘

سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید خود ’ڈان لیکس‘ کے واقعے کے سبب وفاقی کابینہ میں عہدے سے برطرف کر دیے گئے تھے۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں سے جب ان کی حکومت پر سنسرشپ سے متعلق لگنے والے الزامات کے بارے میں جاننے کے لیے رابطہ کیا گیا تو کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

ماضی میں وائس آف امریکہ نے بیرون ملک مقیم ایسے افراد کے خدشات پر جن کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کی فوج اور خفیہ اداروں کی کارکردگی پر نکتہ چینی کرنے کے سبب ان کی جان کو خطرہ ہے، اس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری سے بات کی تو انہوں نے ایسے دعووں کو“مضحکہ خیز” اور گمراہ کُن قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستانی ادارے اور حکومتِ پاکستان ، اُن افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہے جو پاکستان میں بیٹھ کر دن رات تنقید کرتے ہیں تو پھر پاکستانی حکومت یا خفیہ ادارے اُن لوگوں کے بارے میں ایسے منصوبے کیوں بنائیں گے جو ملک سے باہر ہیں ؟

سیکیورٹی اداروں پر لگنے والے الزامات کے بارے میں پاک فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے، آئی ایس پی آر سے وی او اے نے بذریعہ ای میل سوال پوچھے لیکن اس رپورٹ کے اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ پاکستان کی فوج اس سے پہلے ان الزامات کی تردید کرتی رہی ہے۔

سینئر صحافی نجم سیٹھی کے خیال میں آج پاکستان میں میڈیا عمومی طور پر آزاد ہے۔ اس کی وجوہات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو باتیں ٹی وی سکرین پر نہیں کہی جا سکتی تھیں، وہ یوٹیوب پر شروع ہو گئیں، سوشل میڈیا پر پھیل گئیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں نے کریک ڈاؤن کی کوشش کی مگر اس سے زیادہ شور مچا اور ’’لوگ باز نہیں آئے۔‘‘

سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید بھی نجم سیٹھی کے موقف سے متفق نظر آتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ نظام جو نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے بنا ہے اس کی وجہ سے انہیں امید ہے کہ اب اس آزادی کو غصب کرنا ممکن نہیں رہا اور دعویٰ کیا کہ اگر چینلز کو پابندیوں کا سامنا ہوا تو مسلم لیگ کے اندر سے طاقتور آواز اٹھے گی۔

اسد طور کہتے ہیں تقریبا ایک سال گزر جانے کے بعد بھی ان کی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ کوئی میڈیا ادارہ انہیں کانٹریکٹ نہیں دیتا، اور اگر ان سے کام کروا لے تو ان کا نام استعمال نہیں کرتا۔ وہ نہیں سمجھتے کہ سینسر شپ ختم ہو سکتی ہے۔ ان کی نظر میں بلوچستان کے حالات، لاپتہ افراد کا معاملہ، میڈیا فریڈم اور اگلے الیکشن بتائیں گے کہ کیا سیکیورٹی ادارے نیوٹریل ہوچکے ہیں یا نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3253 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments