پاکستان کی اندرونی جنگ

آئے روز نئے نئے سیاسی نعرے اور صدائیں گونجتی سنائی دیتی ہیں، مختلف سیاسی پلیٹ فارموں سے نئے نئے مطالبات منظر عام پر آتے رہتے ہیں یہ سب نعرے عوام کی نمائندگی کے دعوے کے ساتھ سامنے لائے جاتے ہیں، لیکن اگر آپ ان کا تجزیہ کریں اور ان کے پس منظر پر نگاہ ڈالیں تو ان میں سے اکثر و بیشتر کا اصل مقصد سیاسی مفاد پرستیوں اور حصول اقتدار کی کشمکش سے زیادہ نہیں ہوتا، کہیں لسانیت تو کہیں نسل پرستی، تو کہیں فرقہ وارانہ حقوق کے تحفظ کے نام پر، تو کہیں صوبائی خود مختاری کے خاطر۔
آپ دیکھیں گے کہ جس سیاسی طالع آزما کو اپنی ہوس اقتدار کے لئے کوئی نعرہ زیادہ کار آمد اور ساز گار نظر آتا ہے، وہ اسے لے کر میدان میں چلا آتا ہے اور اس کا قطعاً احساس نہیں کہ اس سے ملکی سالمیت پر کیا اثر پڑے گا، اسے قوم کی وحدت و اتحاد کے تقاضے کیونکر زیر و زبر ہو کر رہ جائیں گے، اس سے حیات ملی میں کس قدر انتشار رونما ہو گا، کوئی قطعاً نہیں سوچتا کہ یہ نعرے بازی اور ہنگامہ آرائی اس مملکت کو کس انجام سے دوچار کرے گی، جس کے حصول و قیام کے لئے اس قدر عظیم جنگ لڑی گئی اور جس کے دفاع و تحفظ کے لئے سینکڑوں ماؤں کے نور نظر قربان ہوئے اور ہزاروں انسانوں کو بیش بہا قربانیاں دینی پڑیں۔
نئے اور پرانے پاکستان کی منطق کا نتیجہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ آج اس مملکت کے بیشتر افراد ملک کے مفاد کو اپنا مفاد سمجھتے ہیں اور نہ اس کے نقصان کو اپنا نقصان۔ جب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فلاں اقدام سے ملک کو نقصان پہنچے گا تو ملک کے عوام اس کا کوئی گہرا اثر قبول کرنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے، وہ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اس سے ان کا کیا نقصان ہو گا، نقصان ہو گا تو ان دو تین سو خاندانوں کا جو ملک کی دولت سمیٹ سمیٹ کر کروڑ پتی اور ارب کھرب پتی بن بیٹھے ہیں اور اگر عوام سے یہ کہا جاتا ہے کہ فلاں کام کرنے سے ملک کو فائدہ پہنچے گا تو وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہیں بھلا اس سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے، اگر کوئی فائدہ پہنچے گا تو ان کو جو اپنے کاروبار اور سیاست کے زور پر ایک سے دس بنا رہے ہیں۔ سوچئے کہ یہ ذہنی ردعمل جو افراد مملکت میں پیدا ہو چکا ہے کس ہولناک رجحان کی نشان دہی کر رہا ہے۔
جب ایک مملکت میں صورت یہ پیدا کردی گئی ہو کہ چند سو خاندانوں کو معاشی اور سیاسی اجارہ داری حاصل ہو اور باقی کروڑوں ان کی جلب زر و ہوس اقتدار کے ہاتھوں ضروریات زندگی اور بنیادی حقوق سے محروم ہوتے جا رہے ہوں تو انہیں کیونکر ایک مشترک مفاد اور مشترک مقصد پر لایا جاسکتا ہے۔ آج پاکستان کی سب سے بڑی بد نصیبی یہ ہے کہ اس کے افراد مملکت میں نہ نظری طور پر وحدت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور نہ عملی طور پر انہوں نے معاشرت سے معاشیات کا کوئی نظام بروئے کار لایا گیا جس سے پسے ہوئے طبقے کی زندگیوں میں کوئی تبدیلی رونما ہو سکتی۔
یہ ہماری ملکی تاریخ کی ایک درد ناک داستان ہے جو قیام پاکستان سے لے کر آج تک برابر جاری ہے اور اس کے نتیجے میں جو بد نصیباں اقبال اور قائداعظم علیہ رحمہ کے اس پاکستان کے حصے میں آئی ہیں، ان پر جس قدر آنسو بہائے جائیں کم ہیں، میں اس داستان غم کے ماضی کے اوراق الٹنا نہیں چاہتا کیونکہ یہ داستان اس قدر طویل ہے کہ اس تفصیل کو بیان کرنے کے لئے سینکڑوں صفحات چائیں۔ اس وقت اس تازہ ہنگامہ آرائی کو سامنے لانا مقصود ہے جس میں ایک بار پھر حزب اختلاف سڑکوں اور کنٹینر کی سیاست کے لئے اسلام آباد میں عام انتخابات کے اعلان کیے جانے تک دھرنا دینے کی دھمکی دے چکی ہے۔
جمہوری نظام میں احتجاج، جلسے جلوس، دھرنے وغیرہ کی ممانعت نہیں ہے لیکن مقام افسوس یہ ہے کہ جب اسی جمہوری نظام کے ماننے والوں میں یہ اختلاف پیدا ہوا کہ پارلیمنٹ میں آئین کے مطابق ہوئے اقدام کو اپنی مرضی کے مطابق نتائج نہ ملنے پر مسترد کر دیا جائے۔ شنید ہے کہ بڑا احتجاج مظاہرے عید الفطر کے بعد ملک گیر صورت میں برپا کیا جائے گا، آئین کے مطابق عمل اور آئین کے خلاف اقدامات کے مسئلے کو جس رنگ میں رنگا جا رہا ہے اس نازک مرحلہ پر مذہب کا رنگ دے کر قومی اتحاد اور ملکی امن کو جس طرح فتنہ و فساد کی بھینٹ چڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے وہ ہمارے ملکی و قومی سالمیت کے لئے بہت بڑے خطرے کا الارم ہے اور ایسے حالات میں اداروں نے گر کمزوری یا مصلحت کا مظاہرہ کیا تو خطرہ ہے کہ ان کی یہ روش مصلحت آمیز اس فتنہ و شر کی حوصلہ کا موجب بنتی چلی جائے گی۔
ایک وقت تھا کہ روس انتہائی رویہ اختیار کر کے، یعنی ایک طرف کشمیر کو بھارت کا حصہ کہہ کے اور دوسری طرف پشاور کے گرد دائرہ کھینچ کے اسے تباہ کردینے کا اعلان کر کے، جہاں بھارت کو پوری طرح اپنا ممنون بنا لینا چاہتا تھا وہاں پاکستان کو جتانا چاہتا تھا کہ امریکہ کی دوستی اور روس کی دشمنی میں اس کے لئے کون سا انتخاب سود مند رہے گا۔ یہ حقیقت تعجب انگیز ہی سہی لیکن اپنی جگہ اہم ہے کہ پاکستان کے بارے میں اتنا مخالفانہ رویہ اختیار کرنے کے باوجود روس نے ہمیشہ پاکستان سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی خواہش کا کئی بار اظہار کیا۔
دراصل وہ بھارت اور پاکستان دونوں کی امریکا سے وابستگی ختم کرنا چاہتا تھا اقوام متحدہ میں بھی اس کا یہی کردار رہا۔ تاہم روس نے یہ بھی کوشش کی کسی بھی طرح کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے تاکہ خطے میں امن قائم ہو، اس کی دلچسپی امریکی مداخلت کو خطے میں بڑھنے سے روکنی تھی، کیونکہ استعماری قوتیں نہیں چاہتی کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو۔
کچھ یہی حال اس وقت ہمارے اہل سیاست کا ہے کہ ایک ملک میں رہتے ہوئے، ان کے سیاسی نظریات ایک دوسرے مطابقت نہیں رکھتے، مخالفت میں اتنا آگے بڑھ جاتے ہیں کہ واپسی کا تصور کرنا ہی محال ہوجاتا ہے، لیکن یہ بھی سب دیکھتے ہیں کہ بدست و گریباں ہونے والے شیر و شکر ہو جاتے ہیں، یہی حال اب ایسے عناصر کا ہے جو ایک مرتبہ پھر اسلام آباد کو تختہ مشق بنانے کی سعی کرنا چاہتے ہیں، حالاں کہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ماضی میں کی جانے والی کوشش بری طرح ناکام اور بدنام ہوئی تھی۔

