اور یہ تاریخ عالم کی عظیم ترین عمارتوں میں سے ایک عمارت ہے


آیا صوفیہ سلطان فاتح کے قسطنطنیہ فتح ہونے سے پہلے مسیحیوں کا دوسرا بڑا مذہبی مرکز بنا رہا ہے پانچ صدی عیسوی میں مسیحی دنیا دو بڑی سلطنتوں میں تقسیم ہو گئی تھی ایک سلطنت مشرق میں تھی جس کا پایہ تخت قسطنطنیہ تھا اس میں ہلکان یونان کوچک شام مصر اور حبشہ وغیرہ کے علاقے موجود تھے وہاں کا سب سے بڑا مذہبی پیشوا پیتھرک کہلاتا تھا دوسری بڑی سلطنت مغرب میں موجود تھی جس کا مرکز روم تھا یورپ کا بیشتر علاقہ اس کے زیر نگیں تھا اور یہاں کا مذہبی پیشوا پوپ یا پاپا کہلاتا تھا ان دنوں سلطنتوں میں ہمیشہ سیاسی اختلافات کے علاوہ مذہبی اور فرقہ وارانہ اختلافات جاری تھے ٹھیک اسی طرح ان دونوں سلطنتوں میں بھی یہ چیز پائی گئی مغربی سلطنت جس کا مرکز روم تھا وہ رومن کیتھولک کلیسا فرقہ کی تھی اور مشرقی سلطنت آرتھوڈوکس کی تھی

آیا صوفیا کا چرچا آرتھوڈوکس کلیسا کا عالمی مرکز تھا۔ نصف دنیا اس کلیسا کو اپنے مقدس ترین عبادت گاہوں میں شمار کرتی تھی۔

آیا صوفیا اس خیال سے بھی اہم تھا کہ وہ روم کے کیتھولک کلیسا کے مقابلے میں زیادہ قدیم تھا اس کی بنیاد تیسری صدی عیسوی میں ہوئی اسے رومی بادشاہ قسطنطین نے اس کی بنیاد ڈالی تھی۔

یہ روم کا پہلا عیسائی بادشاہ تھا جس کے نام پر اس شہر کا نام بزنطینیہ سے قسطنطنیہ رکھا گیا تقریباً ہزار سال پہلے تک یہ عمارت اور کلیسا پورے عالم عیسائیت کی مذہبی اور روحانی مرکز بنی رہی مسیحوں کا ایمان بن چکا تھا کہ یہ کلیسا کبھی بھی ان کے قبضے سے نہیں نکلے گی۔ اس میں ان کے مذہبی اور قلبی لگاؤ کا یہ عالم تھا کہ اب بھی آرتھوڈوکس کلیسا کا سربراہ اپنے نام کے ساتھ سربراہ کلیسا لکھتا ہے۔

ایک کتاب مین لکھا ہے کہ تین سو ساٹھ عیسوی میں اس جگہ ایک لکڑی کا بنا کلیسا تعمیر کیا گیا تھا۔ چھ صدی میں یہ کلیسا جل گیا تو اسی جگہ جسٹائن اول نے 532 میں اسے پختہ تعمیر کرانا شروع کر دیا اور اس کی تعمیر پانچ سال دس مہینوں میں مکمل ہوئی۔

دس ہزار معمار اس کی تعمیر میں مصروف رہے اور اس پر دس لاکھ پاؤنڈ کا خرچہ آیا اس کی تعمیر میں بادشاہ نے سب سے مہنگے سنگ مرمر استعمال کیے۔ تعمیر میں دنیا کے خاص وسائل استعمال کیے گئے دنیا بھر کی کلیسا نے اس کی تعمیر میں بہت سے نذرانے اور تحائف پیش کیے۔ ایک روایت ہے کہ جب جسٹائین اول جیسے ہی کلیسا میں تکمیل کے بعد داخل ہوئے تو اس نے کہا سلیمان میں تم پر سبقت لے گیا۔ جیسے کے حضرت سلیمان علیہ السلام نے خدا کا گھر بنوایا تھا جو کہ بہت خوبصورت تھا اور جسٹائین اول نے اپنے تعمیر کردہ کلیسا کو بہترین جانا۔

جبکہ یہ الفاظ تکبرانہ اور توہین آمیز اور گستاخانہ جملے تھے۔

جبکہ چودہ سو ترپن میں عثمانی سلطان محمد بن فاتح دنیا کو فتح کیا اور بازنطینیوں کو شکست ہو گئی۔ کہتے ہیں کہ اس شہر کے مذہبی رہنماؤں کا عقیدہ تھا کہ اس کلیسا میں پناہ لینے سے ہم محفوظ ہیں اور اس عمارت پر دشمن کا قبضہ کبھی بھی نہیں ہو سکتا۔

مشہور انگریز ایڈوٹ کین میں منظر کشی کرتے ہوئے کہا ہے کہ

گرجا کے تمام زمینی اور گیلیریاں عورتوں بچوں پادریوں کنواریوں سے بھر گئی تھیں۔ کلیسا کے دروازوں کے اندر اتنا ہجوم تھا کہ اس میں داخل ہونا ممکن نہ تھا۔ یہ سب لوگ اس مقدس گنبد کے سائے میں تحفظ تلاش کر رہے تھے جیسے وہ زمانہ دراز سے لاھوتی عمارت سمجھ کر آئے تھے۔ یہ سب ایک الہام کی وجہ سے یہاں جمع تھے۔ اس میں یہ ایک جھوٹی بشارت تھی کہ جب دشمن اس کلیسا کے گنبد کے قریب پہنچ جائیں گے تو آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہو گا اور اس کے ہاتھ میں تلوار ہو گئی اور اس آسمانی ہتھیار کے ذریعے اور اس آسمانی ہتھیار کے ذریعے سلطنت کا خاتمہ کرے گا اور سلطنت ایک ایسے غریب آدمی کے حوالے کردے گا جو اس وقت ستون کے پاس بیٹھا ہو گا

لیکن ترک عثمانی فوج اس ستم سے بھی آگے بڑھ کر صوفیہ کلیسا کے دروازے تک پہنچ گئی نہ کوئی فرشتہ آسمان سے نازل ہوا اور نہ ہی رومیوں کی شکست فتح میں تبدیل ہوئی کلیسا میں موجود عیسائیوں کا ہجوم آخر وقت تک کسی کی مدد کا منتظر رہا بالآخر سلطان محمد فاتح اندر داخل ہوئے اور سب کی جان مال اور مذہبی آزادی کی ضمانت دی فتح کے دن فجر کی نماز کے بعد سلطان محمد فاتح نے یہ اعلان کیا کہ ان شاء اللہ ہم ظہر کی نماز آیا صوفیا میں ادا کریں گے

چنانچہ اس دن فتح ہوئی اور اس سرزمین پر پہلی نماز فجر ادا کی گئی اور پہلا جمعہ بھی اسی میں پڑھایا گیا قسطنطنیہ جو کہ سلطان کی طرف سے صلح کی شکست کے بعد بروز شمشیر فتح ہوا تھا اس لئے مسلمان ان پالیسیوں کو باقی رکھنے کے پابند اور مشرک نہ تھے اور اس پے جان چیز کے ساتھ جو توہمات وابستہ تھے انہیں یہ ختم کرنا تھا اسی لیے سلطان محمد فاتح نے اس چرچ کو مسجد میں تبدیل کرنے کا ارادہ کیا چنانچہ اسے مال کے ذریعہ خریدا گیا اس میں موجود رسموں اور تصاویر کو مٹا دیا گیا چپا دیا گیا اور محراب قبیلہ ترک کر دیے گئے سلطان نے اس کے میناروں میں بھی اضافہ کر دیا تھا اس کے بعد یہ مسجد میں آیا صوفیہ کے نام سے مشہور ہو گئی اور سلطنت عثمانیہ کے خاتمے تک تقریباً پانچ سال تک پانچ وقت نماز یہاں پر ہوتی رہی ہیں اس کے سامنے ایک خوبصورت

اور اس کا مرکزی دروازہ ہے اور دروازے کے دونوں طرف وہ پتھر نصب ہے جہاں پہرے دار کھڑا ہوتا ہے

اندر ایک وسیع حال ہے جو مربع شکل کا ہے چاروں کونوں پر مسلمانوں نے چھٹی لی پر اللہ محمد ﷺ ابوبکر عمر عثمان علی نہاتی اچھے انداز سے خوش قسمت لگایا ہوا ہے اوپر چھت کی طرف بڑے بڑے روشن دان بنے ہوئے ہیں عمارت میں سنگ مرمر استعمال کیا گیا ہے بے شمار تختیاں لگی ہوئی ہیں آیاصوفیہ کی عمارت قسطنطنیہ کی فتح کے بعد چار سو اکاسی سال تک مسجد اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں نہیں رہی لیکن سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد جب مصطفی کمال اتاترک آتا کا سربراہ بنا تو اس مسجد میں نماز بند کر کے اسے عجائب گھر بنا دیا میں 31 جولائی 2014 کو ترقی کی ایک عظیم اناطولیہ نوجوان مسجد کے میدان میں

مہم چلائی تھی جو آیا صوفیہ کو مسجد کی بحالی پر مبنی تھی تنظیم کا کہنا تھا کہ انہوں نے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کی گفتگو کو جمع کیا ہے لیکن اس وقت کے وزیر اعظم کے مشیر نے یہاں

بیان دیا تھا کہ آیا صوفیہ کو مسجد میں بحال کرنے کا فیصلہ آل کوئی ارادہ نہیں لیکن دس جولائی دو ہزار بیس کو عدالت نے آیاصوفیہ کو مسجد میں بحال کرنے کا حکم دے دیا

10 جولائی 2020 کو ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے استنبول کی تاریخی اہمیت کی حامل کمال آیاصوفیہ میوزیم کی حیثیت سے ختم کر مسجد میں تبدیل کیا گیا یہ عمارت جو ڈیڑھ ہزار سال پہلے کلیسا کے طور پر تعمیر کی گئی تھی اس کی حیثیت کو بدلنے کا فیصلہ تنازعے کا باعث رہا ہے سلطنت عثمانیہ کے دور میں اس عمارت کو کلیسا سے مسجد میں تبدیل کیا گیا تھا اب جب اس عمارت کو دوبارہ میوزیم سے مسجد میں تبدیل کیا گیا ہے تو تمام مسلم دنیا میں دوبارہ خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ عیسائیوں نے اس فیصلے کو ٹھیک کر نہیں دیا آج سے تقریباً 86 سال پہلے کمال اتاترک میں بھی جس کی حکومت تھی اس مسجد کو میوزیم میں بتا دیں اگر اس سے پہلے کی بات کی جائے تو اس عمارت کو آیاصوفیہ کہ ایک پوری تاریخ ہے کیسے سلطان فاتح نے فتح کیا اس کی عظیم الشان عمارت کو کس نے تعمیر کیا آیاصوفیہ یونانی لفظ ہے اس کے معنی ہیں

خداوندی کہ یہ عمارت مشرقی آرتھوڈوکس سابقہ پرچہ ہے جسے چودہ سو ترپن میں فتح قسطنطنیہ کے بعد عثمانی ترکوں نے مسجد میں تبدیل کر دیا گیا تھا سو پینتیس میں مصطفی کمال اتاترک پہچانے اسے مسجد اور گرجا کی حیثیت ختم کر کے اس کو میوزیم بنا دیا اور اب جیسے کہ

پچھلے دو سال 2020 سے جب یہ تبدیل ہوئی ہے تو پچھلے دو سال سے یہاں پر کوئی نماز وغیرہ کی کوئی پابندی نہیں تھی نہ ہی رمضان شریف میں کوئی بھی ہو رہی تھی کہ اس کے یہاں پر کوئی تھا اور پہننے کی وجہ سے یہ تمام صورتحال بند تھی لیکن اب سیاسی سال بعد یہاں پر رمضان میں پہلی مرتبہ تراویح ہوئی تھی اور وہاں پر انتظامیہ نے بتایا تھا کہ یہاں پر اور بھی مذہبی تہوار جو ہے سیلیبریٹ کیے جائیں گے جو کہ تمام خوبصورت اور نور جہاں کا منظر تھا جو کہ بیان کرنے سے قاصر میں خود اپنی آنکھوں سے وہاں پر گئی تھی اور دیکھا تھا کہ لاکھوں کے لوگوں میں ہے تعداد میں لوگ موجود تھے جو کہ جب اس کا افتتاح ہوا تھا تب لائیو اسٹاک جاہل لوگ موجود خلا لینے اسٹاف کافی دور کے اسٹاف ہے اور اسی دفعہ بھیا یہاں پر بہت سارے لوگ موجود تھے اور سب جو ہے چاروں طرف جب قرآن پاک کی آیت اللہ اور دورہ جات و بیرونی کہا جاتا تھا اور منظر تھا ایسا لگ رہا تھا کہ فرشتے اپنے ہاتھوں سے رحمتیں جو ہے وہ مسلمانوں کے کندھوں پر ان کے چہروں پر نچھاور کر رہے ہیں


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صدف شیخ

صدف شیخ درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ انہیں سندھی اور اردو رسائل و اخبارات میں کالمز لکھنا پسند ہے۔

sadaf-shaikh has 11 posts and counting.See all posts by sadaf-shaikh