دائروں کا سفر


بظاہر یہی محسوس ہوتا ہے کہ متحدہ حکومت کے پاس بھی ملکی حالات کو ٹھیک کرنے کی کوئی ٹھوس منصوبہ بندی یا تیاری نہیں تھی۔ شاید پچھلی حکومت کی طرح ان کو بھی کسی جادوئی منتر کے زیر اثر اپوزیشن سے غائب ہو کر حکومتی ایوان میں آ جانے کا ابھی تک یقین نہیں آ پایا۔ ابھی تک یہ حکومت شہریوں اور ملکی مسائل کے حوالے سے کوئی قابل ذکر یا واضح تبدیلی کا اشارہ تک دینے میں بھی ناکام ہے۔ محض ایک موہوم سی امید صرف یہی ہے کہ یہ تجربہ کار حکومتی لوگ ہیں شاید حالات کو سنبھال لیں مگر عملی طور پر ایسا کچھ ہوتا نظر نہیں آتا۔ جو حکومت ہنی مون والے دنوں میں بھی اپنا کوئی خوبصورت تاثر نہ بنا سکے تو اس کو بعد میں عوام کی نظروں میں وہ وارفتگی اور قبولیت تلاش کرنے میں بہت مایوسی ہو گی۔

دوسری جانب اپنی مقبولیت کے باعث اگلی حکومت بنانے کے لئے پرامید عمران خان اپوزیشن میں بیٹھ کر حکومتی امور کی سوجھ بوجھ اور مسائل کے ادراک کے ساتھ ساتھ اگلی حکومت کی ہیش بندی کرنے کے بجائے سڑکوں پر غداری غداری کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ پچھلی بار بھی ان کو حکومت میں جا کر یہ بیان دینا پڑا کہ مجھے گھر والوں سے پتہ چلا ہے کہ میں وزیراعظم بن گیا ہوں۔ ابھی شکر ہے کہ گھر والوں کو بروقت اطلاع مل گئی ورنہ کب تک ملک ان کے اس عالم بے یقینی کو برداشت کر پاتا۔ اسی طرح جب سب سے بڑے صوبے پنجاب میں حکومت کا خیال آیا تو ایک ایسے شخص کو وزیر اعلیٰ بنایا جو آہستہ آہستہ سیکھنے پر یقین رکھتا تھا مگر حالات ایسے ہو گئے کہ ان کے سیکھنے کا عمل مکمل ہونے تک ان کے کرنے کو کچھ بھی باقی نہیں رہ گیا تھا۔

اس وقت بھی صورتحال یہی ہے ہے کہ اپوزیشن کو صرف حکومت گرانے سے دلچسپی ہے اور کچھ روز بعد حکومت کو اپنا آپ بچانے سے دلچسپی ہو جائے گی۔ ملک اسی طرح لاوارث ہو کر حب الوطنوں کے رحم و کرم پر ہو گا جو غداروں اور صالحین کے اس میچ سے خوب لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی حب الوطنی کی چھاپ کو مزید گہرا کریں گے۔ اور ایک بار پھر کسی کو عالم بے یقینی کی کیفیت میں میں حکومتی ایوانوں میں لا کر چھوڑ دیں گے اور وہ خود جو چٹکیاں کاٹ کاٹ کر اپنے آپ کو یقین دلاتا پھرے گا کہ میں وزیر اعظم ہوں۔ دوسرا پھر ہمیشہ کی طرح باؤلا ہو کر کنٹینروں پر چڑھ کر بالترتیب اپنی باری پر پکارتا پھرے گا ”مجھے کیوں نکالا، مجھے کیوں نہ سنبھالا؟

تعلیم روزگار، حقوق و شعور سے عاری عوام اس جاری سیاسی کھیل اپنے اپنے وجود کے ایندھن پر پسندیدہ آئینی آرٹیکلز کا تیل چھڑکے اپنے محبوب لیڈر کے آگ دکھانے کے منتظر رہیں گے۔

دور کہیں اصلی طاقت کے ایوانوں میں براجمان ازلی محب وطن اپنی موجود یا غیر موجود مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا کہے گا ہمیں سیاست سے دور رکھا جائے۔

دائروں میں گھومتے اس سیاسی سفر کا انجام پطرس کے اس جانور جیسا ہے جو اپنی دم پکڑنے کے چکر میں سب تماش بینوں کو محظوظ کرتا رہے گا اور اس قوم کے غداران، صالحین اور حب الوطن ہمیشہ اس قومی کھیل سے حظ اور نفع حاصل کرتے رہیں گے۔ میڈیا اور نیوٹرل عوام کے ریاضی دان اس دائرے کا قطر اور احاطہ تو بتا سکتے ہیں، اس سفر کے آغاز اور انجام پر بحث تو کر سکتے ہیں، رفتار کی کمی اور بیشی پر تشویش کا اظہار تو کر سکتے ہیں مگر اس کی شکل بدلنے پر قادر نہیں ہیں اور جو لوگ شکل بدلنے پر قادر ہیں وہ اس دائرے سے نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments