سیاست میں مداخلت کا الزام!


ملک بھر میں سیاسی محاذ آرائی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، اس سیاسی محاذ آرائی میں جہاں ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے، وہیں اس میں مسلح افواج اور ان کی قیادت کو بھی دانستہ طور پر گھسیٹا جا رہا ہے، پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ایک بار پھر تنبیہ کی گئی ہے کہ ملک کے بہترین مفاد میں پاک فوج کو سیاسی گفتگو سے دور رکھا جائے، مگر سیاسی قیادت جمہوریت کی آڑ میں دانستہ اور غیر دانستہ ریاستی اداروں پر تنقید کرنے سے باز نہیں آ رہی ہیں، اگر ملک کو کمزور کرنے کی کوششیں اور وطن کے محافظ اداروں اور ان کی اعلیٰ قیادت کی بے توقیری ہی جمہوریت ہے تو قوم کو ایسی جمہوریت نہیں چاہیے، یہ کون سی جمہوریت ہے کہ جس کا جب جی چاہے کھڑے ہو کر کبھی معزز عدلیہ اور کبھی دفاعی اداروں کی اعلیٰ قیادت کو ڈکٹیٹ کرنا شروع کردے، قوم کو ایسی کوئی بھی کوششیں ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔

اس میں شک نہیں کہ افواج پاکستان عوام کا ہی حصہ ہیں اور عوام کو بے انتہا عزیز ہیں، لیکن عوام چاہتے ہیں کہ فوج سیاست میں مداخلت نہ کرے، تر جمان پاک افواج بارہا یقین دہانی کروا چکے ہیں کہ فوج کا سیاست میں کوئی عمل دخل نہیں، اسے سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، عوام مانتے ہیں کہ فوجی قیادت نیوٹرل ہو گئی ہے، مگر سیاسی قیادت ماننے کے لئے تیار نہیں ہے، وہ حصول خشنود کے جذبہ سے سرشار تمام حدود پار کرنے پر تلے ہیں، جبکہ فوجی قیادت کا معاملہ بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ کبھی حکومت کے ساتھ ایک پیج پر ہوتی ہے اور کبھی الگ پیج پر ہو کر نیوٹرل ہو جاتی ہے، ریاست ادارے قابل احترام ہیں اور کوئی بھی ریاستی اداروں کے خلاف بیان بازی کرنے کی جرات نہیں کر سکتا، اگر کوئی کر رہا ہے تو دی جانے والی رعایت کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ریاستی اداروں کے خلاف بیانات دینے والوں کی تمام رگیں مقتدرہ کے ہاتھوں میں ہیں، وہ چاہیں تو انہیں ایسے کاموں سے روک سکتے ہیں اور انہوں نے بار ہا اپنے مخالفین کو روک کر بھی دکھایا ہے، عوام بھولے نہیں ہوں گے کہ ایک وقت تھا کہ جب مسلم لیگ (ن ) اور پیپلز پارٹی قیادت نہ صرف فوج کے خلاف باتیں کرتے تھے، بلکہ ایسا لگتا تھا کہ فوج کے خلاف کوئی مہم شروع کر رکھی ہے، لیکن پھر حالات نے پلٹا کھایا اور اب وہی لوگ ریاستی داروں کے حق میں بیانات دے رہے ہیں، ہمارے ہاں یہ رجحان عام ہے کہ جو پارٹی حکومت میں ہے اور اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے، اسے کبھی فوج پر تنقید کی نہیں سوجھتی، لیکن جونہی اس کے اقتدار کا خاتمہ ہوتا ہے تو وہی لوگ ہر ادارے کے بارے میں باتیں کرنے لگتے ہیں، یہ بات فوجی ترجمان جانتے ہیں اور عوام کو بھی اچھی طرح علم ہے کہ جتنا مرضی باور کروایا جائے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، مگر ان کا سیاست سے کوئی نہ کوئی تعلق ضرور رہتا ہے۔

یہ امر قابل غور ہے کہ اگر سیاسی قیادت اقتدار سے باہر نکل کر ہی کوستے ہیں تو ان کے پاس کوئی نہ کوئی جواز ہو گا، تاہم اس سارے کھیل میں سیاسی قیادت کا تو کچھ نہیں جاتا، البتہ جذباتی سیاسی کارکنان رگڑے میں آ جاتے ہیں، اس بار بھی سیاسی کارکنان کے خلاف ہی کریک ڈاؤن کیا جا رہا ہے، جبکہ بیان بازی کرنے والے آزادانہ گھوم رہے ہیں، ریاستی ادارے اچھی طرح جانتے ہیں کہ کون کس کے خلاف مہم جوئی کر رہا ہے اور اسے کس کی سپورٹ حاصل ہے، اس کے باوجود انہیں سختی سے روکنے کی بجائے صرف برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے، فوج کو سیاست میں کوئی گھسیٹ سکتا ہے نہ اس کے خلاف بیان بازی کر سکتا ہے، فوج اپنی مرضی سے سیاست میں آتی ہے اور اپنی مرضی سے ہی نیوٹرل ہونے کا تاثر دیتی ہے، لیکن ملکی سیاست اور قیادت دونوں کو کبھی اپنی نظروں سے اوجھل ہونے نہیں دیتی ہے۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستانی عوام وطن عزیز کے دفاع کے لیے قربانیاں دینے والی مسلح افواج کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی جماعت یا شخصیت کے منفی پراپیگنڈے سے عوام اور افواج کے درمیان خلیج پیدا نہیں ہوگی، سیاسی جماعتوں اور شخصیات کو بھولنا نہیں چاہیے کہ ان کا وجود ریاست اور سیاسی نظام ہی کی وجہ سے قائم ہے اور اگر انھوں نے ریاست اور نظام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اس سے انھیں کچھ حاصل نہیں ہو گا، سیاسی قیادت کو سوچنا چاہیے کہ ملک میں افراتفری پھیلانے کی بجائے اپنا آئینی و جمہوری کردار ادا کریں اور عوام کو بھی انتشار سے بچائیں، عوام کو بھی سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بن کر ریاستی اداروں پر تنقید نہیں کرنی چاہیے، اگر فوج نے سیاست سے دور رہنے کا تہیہ کر ہی لیا ہے تو اس پر سیاست میں مداخلت کا الزام لگا کر زیر بحث نہیں لانا چاہیے، اس میں ہی ملک و قوم کی بہتری ہے۔

Facebook Comments HS