سراج الدولہ، میر جعفر اور رابرٹ کلائیو


برصغیر کی تاریخ کے بارے میں ہمارا تاثر یہ ہے کہ انگریز سفارتکار تھامس رو ہندوستان میں تجارت کا اجازت نامہ حاصل کرنے کی غرض سے مغل بادشاہ جہانگیر کے دربار میں پیش ہوا، وہاں اس نے جہانگیر کو اپنی چکنی چپڑی باتوں سے رام کیا، بھولے بھالے جہانگیر نے تجارت کی اجازت دے دی، انگریز ہندوستان پہنچ گئے، وہاں انہوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی اور پھر اس کمپنی نے اطمینان سے پورے بر صغیر پر قبضہ کر لیا۔ حقیقت میں چاہے ایسا ہی ہوا ہو مگر اس سارے کام میں انگریزوں کو لگ بھگ دو سو سال لگ گئے اور اس دوران انہیں مقامی حکمرانوں سے کئی جنگیں لڑنی پڑیں۔ ویسے تو ان تمام جنگوں کی کہانیاں کافی سبق آموز ہیں مگر ایک جنگ ایسی ہے جس کے کرداروں کا حوالہ آج کل بہت زور و شور دیا جا رہا ہے، تو ذرا دیکھتے ہیں اس جنگ کے کردار آخر کون تھے!

سن 1750 تک ایسٹ انڈیا کمپنی برصغیر میں اپنے پنجے گاڑ چکی تھی مگر اسے فرانسیسی فوج سے بدستور خطرہ لاحق تھا کہ کہیں وہ ہندوستان نامی سونے کی چڑیا کو اپنے جال میں نہ پھانس لے۔ سب کی نظریں اس وقت بنگال پر تھیں جسے ہم اس زمانے میں ہندوستان کا کماؤ پوت کہہ سکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مدراس میں کمپنی نے رابرٹ کلائیو کو ڈپٹی گورنر مقرر کیا تاکہ وہ کمپنی کے ’دشمنوں‘ کا مقابلہ کر کے کمپنی کی سیاسی طاقت میں اضافہ کرسکے۔ نواب سراج الدولہ اس وقت بنگال کا نیا گورنر تھا جس کی شہرت ایک اذیت پسند شخص کی تھی اور جو طاقت اور اقتدار کے لیے پاگل اور جنونی سمجھا جاتا تھا۔

اس کے پاگل پن کا یہ عالم تھا کہ وہ محض اپنی تفریح کی خاطر عام لوگوں کی کشتیوں کو دریا میں ڈبو دیا کرتا تھا اور ایسا وہ تب کرتا جب ان میں سوار اکثر لوگ تیرنا نہیں جانتے تھے۔ اپنی نوجوانی میں وہ مجرموں کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر مار دیا کرتا تھا اور یہ کام وہ ’رضاکارانہ‘ طور پر انجام دیتا تھا۔ ایک ’خصوصیت‘ اس کی یہ بھی تھی کہ وہ عورتوں کا ریپ کرنے کا شوقین تھا۔ وہ نہ صرف اپنے جرنیلوں کے ساتھ توہین آمیز رویہ رکھتا تھا بلکہ اپنے فنانسرز کی بھی بے عزتی کر دیتا تھا جن میں اس وقت کے ایک اہم خاندان ’جگت سیٹھ‘ کے لوگ شامل تھے۔ اور یہ بات بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ سراج الدولہ ایسٹ انڈیا کمپنی پر بھروسا نہیں کرتا تھا۔

سن 1756 میں سراج الدولہ اپنے ستر ہزار سپاہیوں کے ساتھ کلکتہ میں داخل ہوا، وہاں کا نالائق گورنر راجر ڈریک اس کا مقابلہ نہ کر سکا، سراج الدولہ نے کلکتہ میں خوب لوٹ مار کی، انگریزی قیدیوں کو اس نے ایک تنگ سی جگہ میں بند کر دیا جسے ’بلیک ہول‘ کہا جاتا ہے، بہت سے لوگ اس میں دم گھٹنے سے مر گئے۔ اس واقعے نے کمپنی کی چولیں ہلا دیں، انگریز اشرافیہ نے چونکہ کمپنی کے حصص میں سرمایہ کاری کر رکھی تھی اس لیے کمپنی کے افسران کا مستقبل کمپنی کے ساتھ وابستہ تھا، ان حالات میں کمپنی کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہر انگریز کی اولین ترجیح بن گئی۔

تاریخ کے اس موڑ پر رابرٹ کلائیو نے اپنی تین رجمنٹس کے ساتھ سراج الدولہ کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کر دیا، یہ پہلا موقع تھا کہ کمپنی نے کسی ہندوستانی نواب کے خلاف با ضابطہ جنگ چھیڑی ہو۔ دریں اثنا جگت سیٹھ کا خاندان، جو سراج الدولہ کی بدتمیزیوں کی وجہ سے اس سے نالاں تھا، کمپنی سے جا ملا اور سراج الدولہ کے عراقی جرنیل میر جعفر کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال دیا تاکہ اسے سراج الدولہ کی جگہ نواب بنایا جا سکے۔ اس کام کے لیے سیٹھوں نے رابرٹ کلائیو کو رشوتیں بھی دیں جو اس نے بخوشی قبول کر لیں اور اپنے افسران کو قائل کیا کہ سراج الدولہ کو ہٹانا کمپنی کے عین مفاد میں ہو گا۔

سن 1757 میں جنگ پلاسی ہوئی، پلاسی کے میدان میں اچانک مون سون بارشوں کی وجہ سے جنگ کا پورا نقشہ ہی بدل گیا، کمپنی کے سپاہیوں کو اس بات کا اندازہ تھا سو وہ اپنے ہتھیاروں کو خشک رکھنے میں کامیاب رہے جبکہ سراج الدولہ کی فوج کو نئے جنگی ہتھیاروں کا تجربہ نہیں تھا جس کی وجہ سے انہیں کافی نقصان اٹھانا پڑا۔ سراج الدولہ پچیس برس کی عمر میں مارا گیا، اس کی جگہ غدار میر جعفر نواب بن گیا جبکہ رابرٹ کلائیو کو جگت سیٹھوں نے یورپ کا امیر ترین شخص بنا دیا۔ جنگ پلاسی کا ایک نتیجہ یہ بھی نکلا کہ مغل حکمران کمپنی کی تمام شرائط من و عن ماننے پر مجبور ہو گئے، کمپنی کے اختیارات اور مراعات میں اضافہ ہو گیا اور اسے زمین حاصل کرنے کے حقوق بھی حاصل ہو گئے۔ یہاں سے کمپنی کی لوٹ مار کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

میر جعفر اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان مفادات کا تعلق تو قائم ہو گیا مگر یہ تعلق زیادہ دیر نہ چل سکا، میر جعفر اس بات کا ادراک نہ کر سکا کہ اب وہ کسی مطلق العنان نواب کے ساتھ نہیں بلکہ ایک کارپوریٹ بورڈ کے ساتھ معاملہ طے کر رہا ہے، اسی وجہ سے رابرٹ کلائیو اپنے خطوط میں میر جعفر کو ’عمر رسیدہ احمق‘ لکھا کرتا تھا۔ میر جعفر ایک ان پڑھ نواب تھا جو تھوڑی بہت چالاکی تو جانتا تھا مگر مجموعی طور پر وہ ایک اناڑی لیڈر ثابت ہوا۔ بنگال، جو پہلے ہی افراتفری کا شکار تھا، میر جعفر کے دور میں مزید انارکی میں چلا گیا۔ ایک طرف تو وہ اپنے سپاہیوں کو تنخواہ دینے میں تامل سے کام لیتا تھا اور دوسری طرف اس کے فیشن کا یہ عالم تھا کہ دونوں کلائیوں میں سات بازو بند پہنتا تھا جن میں انواع و اقسام کے جواہر جڑے ہوتے تھے۔

بنگال میں طوائف الملوکی اپنے عروج پر پہنچ گئی اور آئے روز فوج اور اشرافیہ میں بغاوت کی خبریں آنے لگیں۔ کمپنی نے اس صورتحال کا مزید فائدہ اٹھا یا اور طے شدہ معاہدوں سے انحراف کرتے ہوئے عوام پر بے رحمانہ انداز میں ٹیکس لگا کر پیسے اینٹھنے شروع کر دیے۔ کمپنی نے میر جعفر کی جگہ اس کے داماد میر قاسم کو نواب بنا دیا، وہ نسبتاً بہتر حکمران ثابت ہوا، اس نے بنگال کے حالات میں بہتری لانی شروع کی مگر وہ کمپنی کے لیے لوہے کا چنا ثابت ہوا، پہلے تو اس نے کمپنی کو ناجائز قسم کے ٹیکس ختم کرنے کی تجویز دی اور جب کمپنی نے اس کی بات سنی ان سنی کردی تو میر قاسم نے از خود ہی کمپنی کے لاگو کیے ہوئے ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹیاں ختم کر دیں تاکہ مقامی تاجروں کو بھی کمپنی کی طرح تجارت کا پورا موقع ملے۔ میر قاسم نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ کمپنی کے اثاثہ جات بھی قبضے میں لینے شروع کر دیے۔ نتیجہ صاف تھا۔ کمپنی اور میر قاسم میں جنگ چھڑ گئی۔ سن 1764 میں بکسر کی لڑائی میں میر قاسم کو انگریزوں کے ہاتھوں شکست ہوئی، میر قاسم میدان جنگ سے بھاگ گیا اور بعد ازاں غربت میں مارا گیا۔

جنگ پلاسی اور بکسر کی لڑائی کے کرداروں کے بارے میں جو کچھ بھی آپ نے اوپر پڑھا ہے وہ میں نے ولیم ڈیلرمپل کی کتاب ’انارکی‘ سے لیا ہے، اس میں میرا کوئی تبصرہ شامل نہیں، میں نے صرف تاریخ کے حقائق اکٹھے کر کے آپ کے سامنے رکھ دیے ہیں، اب آپ کا جسے دل کرتا ہے سراج الدولہ بنا دیں اور جسے مناسب سمجھتے ہیں میر جعفر کا لقب دے دیں۔ فدوی کا آپ کی یا ولیم ڈیلرمپل کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

میرا تبصرہ فقط اتنا ہے کہ تاریخی نتائج کو کسی ایک واقعہ یا چند شخصیات تک محدود کرنا درست نہیں، نہ سراج الدولہ کسی قومی مقصد کے حصول کی خاطر جنگ لڑ رہا تھا اور نہ ہی میر جعفر یا کلائیو کسی مشنری جذبے کے تحت جہاد کر رہے تھے۔ یہ سب اقتدار، طاقت اور پیسے کی جنگ تھی، اس وقت تک مسلمان اقتدار سے محروم ہو چکے تھے جس کی مختلف تاریخی وجوہات تھیں، نہ کلائیو انگریزوں کا ہیرو تھا اور نہ سراج الدولہ مسلمانوں کا۔ کلائیو اس حد تک بدنام ہوا کہ اسے ’لارڈ گدھ‘ کہا جانے لگا، اس بدنامی کے ہاتھوں اس نے خود کشی کر لی، میر جعفر افیون کا عادی ہو گیا اور بعد میں جذام کی بیماری کا شکار ہو کر مر گیا، اور جنگ پلاسی کے چند دن بعد سراج الدولہ کی لاش ایک دریا سے برآمد ہوئی۔ تاریخ تو یہی کچھ بتاتی ہے، باقی آپ اور میں اپنے ہیرو یا ولن کا انتخاب کرنے میں آزاد ہیں، جسے چاہے منتخب کر لیں!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 297 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments