سپورٹس برا: ایک سنجیدہ ایجاد جس نے خواتین کھلاڑیوں کی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا

ہولی ہونڈرچ - بی بی سی نیوز، واشنگٹن


دور جدید کے سپورٹس برا کا آغاز ایک جاک سٹریپ کے طور پر ہوا تھا۔ 1977 کے موسم گرما میں لیزا لنڈاہل ورمونٹ یونیورسٹی کی طالب علم تھیں اور اس زمانے کے دوڑ لگانے کے خبط کا شکار تھیں۔ وہ ہر ہفتے 30 میل بھاگتی یعنی جاگنگ کرتی تھیں۔

ان کے لیے دوڑنے سے بڑا مسئلہ ان کا زیرجامہ یعنی برا تھا۔

وہ کہتی ہیں ’سب سے غیر آرام دہ چیز یہ تھی کہ چھاتی کے لیے کوئی سپورٹ نہیں تھی۔‘

28 سالہ لنڈاہل نے لاسٹک کی مدد لینے کی کوشش کی، یہ بھی کیا کہ برا کے بغیر جاگنگ کریں، ان تمام کوششوں میں ناکامی کے بعد ایک سائز کم برا کا استعمال بھی کیا۔

اس جستجو نے ان کی بہن کے ساتھ ایک مذاق کی بنیاد ڈال دی کہ خواتین کے لیے جاک سٹریپ کیوں نہیں ہے؟ واضح رہے کہ جاک سٹریپ مردوں کے ایسے ہی مسائل کی وجہ سے زیرجامہ کے طور پر ایجاد ہوا تھا۔

لیکن یہ معاملہ ایک مذاق تک محدود نہیں رہا۔ حال ہی میں امریکی موجدوں کے ہال آف فیم میں لنڈاہل اور ان کی دو ساتھی شریک موجدوں کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ سپورٹس برا ایک سنجیدہ ایجاد تھی۔

اور یہ ایسی وقت میں ہوئی جب خواتین کے لیے کھیلوں کے میدان میں ایک انقلاب برپا ہو رہا تھا۔

لنڈاہل نے اس خیال کو شروع سے ہی سنجیدگی سے لیا تھا۔ انھوں نے اپنی بہترین دوست پولی پالمر سمتھ کی مدد لی جو ورمونٹ کے برلنگٹن شیکسپیئر فیسٹیول میں کاسٹیوم ڈیزائنر کے طور پر کام کر رہی تھیں۔ جلد ہی ان کے ساتھ ہنڈا ملر بھی شامل ہو گئیں جو خود بھی ایک کاسٹیوم ڈیزائنر تھیں اور اس موسم گرما میں پولی پالمر کی اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہی تھیں۔

ان خواتین نے لنڈاہل کے گھر میں کام شروع کر دیا جہاں کپڑے اور ناپ طول کی مشق کا آغاز ہوا۔ پولی پالمر ایک نمونہ تیار کرتیں جس کو پہن لر لنڈاہل جاگنگ کے لیے نکلتی اور جائزہ لیتیں کہ یہ نمونہ کتنا سہل اور آرام دہ ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کچھ بھی کام نہیں کر رہا تھا۔‘

پھر اچانک ایک دن لنڈاہل کے شوہر اپنی چھاتی پر جوک سٹریپ لٹکائے سیڑھیوں سے اترے تو ان خواتین کو جوک برا کا خیال آیا۔

پولی پالمر سمتھ کہتی ہیں کہ ’ہمارے ذہن کی بتی جل گئی‘ اور اس طرح پہلا جاگ برا کا نمونہ تیار ہوا۔

جب ایک بار ایک ایسا ڈیزائن تیار کر لیا گیا جو ان کے خیال میں کام کرتا تھا تو انھوں نے جوگ برا انکارپوریشن کے نام سے کمپنی کی بنیاد رکھی اور پیٹنٹ (جملہ حقوق) کے لیے درخواست بھی جمع کرا دی۔

لنڈاہل، پولی اور ہنڈا ملر کی اس ایجاد سے پانچ سال قبل امریکی کانگریس نے ٹائٹل نو نامی قانون منظور کیا تھا۔

اس تاریخی قانون میں تعلیم اور ایسے دیگر پروگرامز جن کو وفاق کی جانب سے پیسہ ملتا تھا میں جنس کی بنیاد پر تفرقے کو ختم کرنے کی منظوری دی گئی۔ آج امریکہ میں ہر پانچ میں سے دو لڑکیاں کوئی نا کوئی کھیل کھیلتی ہیں، جو خواتین سپورٹس فاوئنڈیشن کے مطابق 1970 میں 27 میں سے ایک لڑکی کھیلتی تھی۔

اس قانون نے خواتین کی کھیلوں میں شمولیت کو ممکن بنایا تو سپورٹس برا نے اسے آرام دہ بنانے میں مدد ی۔

لنڈاہل کہتی ہیں کہ ’ٹائٹل نو کے بعد پیسہ تھا، انفراسٹرکچر تھا اور امید بھی تھی لیکن خواتین کے پاس اعتماد اور آرام کی کمی تھی کہ وہ کھل کر سرعام کسی بھی کھیل کا حصہ بن سکیں۔‘

آج سپورٹس برا کو ایک انقلابی قدم سمجھا جاتا ہے جس نے خواتین کھلاڑیوں کو وہ آرام اور اعتماد بخشا جس کی اس دور میں کمی تھی۔ یہی نہیں، اب یہ نو ارب ڈالر کی انڈسٹری بن چکی ہے۔ اس تخمینے میں 2026 تک چار گنا اضافہ بھی متوقع ہے۔ وسیع تر اتھلیٹس کو آرام دہ رکھنے کی مارکیٹ اس سے بھی بڑی اور تقریبا پ25 ارب ڈالر کی ہے جس مذید پھل پھول رہی ہے۔

لیکن 1977 میں جب یہ ایجاد کی گئی تو معاملہ بہت مختلف تھا۔

امریکہ میں امیچوئر اتھلیٹک یونین، جو میراتھانز کی گورننگ باڈی تھی، کی جانب سے خواتین کی شمولیت پر پابندی ہٹائے ہوئے صرف پانچ ہی سال ہوئے تھے۔ اولپکس میں خواتین کو 3000 میٹر سے زیادہ کی دوڑ میں حصہ لینے کی اجازت ملنے میں مذید سات سال لگے۔ اس وقت ماہرین کا خیال تھا کہ طویل دوڑ خواتین کی صحت اور نسوانیت کے لیے نقصان دہ ہے۔

اپنی کمپنی کی بنیاد رکھنے کے کچھ ہی عرصے بعد سمتھ نیو یارک واپس لوٹیں جہاں انھوں نے جم ہنسن کمپنی میں بطور کاسٹیوم ڈیزائنر شمولیت اختیار کر لی۔ جاگ برا کمپنی کا کنٹرول انھوں نے لنڈاہل اور ملر کے حوالے کر دیا تھا۔

ان دو خواتین نے ملر کے والد سے ملنے والے پانچ ہزار ڈالر قرض کی مدد سے 60 درجن جاگ برا تیار کروائے اور پھر ایسے سٹورز سے رابطہ شروع کیا جو کھیلوں کا سامان بیچتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ان کی ایجاد زیر جامہ نہیں بلکہ کھیل میں استعمال ہونے والی چیز ہے۔

لنڈاہل کہتی ہیں کہ ’جب ہم سٹور مالکان اور مینجرز سے بات کرتے تھے، جو زیادہ تر مرد تھے، تو وہ ہنستے تھے۔ ہر کسی نے کہا کہ ہم تو اپنے سٹور پر برا نہیں بیچتے۔‘

اس صورت حال میں انھوں نے ایک اور راستہ اپنایا۔ انھوں نے اسسٹنٹ سٹور مینیجرز سے رابطہ کیا جو زیادہ تر خواتین تھیں اور ان کو ایک ایک نمونہ دیا کہ وہ خود استعمال کریں۔

یہ حکمت عملی کام کر گئی اور 1978 میں 16 ڈالر کی قیمت کے ساتھ جاگ برا مارکیٹ میں آ گیا۔

لنڈاہل اور ملر نے خود ہی ماڈلنگ کرتے ہوئے جاگنگ میگزینز میں اشتہار بھی دیے کیوں کہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے کہ کسی اور کو ماڈلنگ کا معاوضہ دیتیں۔

ملر نے اشتہار پر یہ لائن بھی شامل کی کہ ’ڈیلر رابطہ کر سکتے ہیں۔‘ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے معلوم نہیں تھا کہ اس کا مطلب کیا ہے لیکن پھر ان کی کالز آنا شروع ہو گئیں۔‘

لنڈاہل نے ہنستے ہوئے کہا کہ ’میرے گھر کے نمبر پر۔‘

ان کا تیار شدہ مال بہت جلد فروخت ہو گیا۔ اپنے کاروبار کے پہلے سال کے اختتام تک ان دونوں نے پانچ لاکھ ڈالر کما لیے تھے۔ اس کے بعد ان کی ترقی کی رفتار تیز ہوئی اور چند سال 25 فیصد کی رفتار پر ان کی کمپنی نے ترقی کی۔

لنڈاہل سیلز کو خیال رکتھی تھیں اور ملر پروڈکش دیکھتی تھیں۔ انھوں نے تقریبا 200 ملازمین کو بھرتی کیا اور پھر مواد کی تیاری پورٹو ریکو منتقل کر دی۔

لیکن جیسے جیسے کمپنی ترقی کرتی گئی، کمپنی کی خواتین رہنماوں کے تعلقات بگڑتے گئے۔

لنڈاہل کہتی ہیں کہ دونوں کے درمیان جھگڑے بڑھتے گئے۔ پھر 1980 میں کمپنی کی ترقی کی رفتار کم ہونا شروع ہو گئی کیوں کہ ریبوک اور نائیکی جیسے بڑے برینڈز کے مقابلے میں ان کو احساس ہوا کہ اب ان کو بڑے قرض کی ضرورت ہے اگر انھوں نے ان کمپنیوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

1990 مین جاگ برا کمپنی کو پلےٹیکس کو بیچ دیا گیا لیکن معاوضہ خفیہ رکھا گیا۔

ملر کہتی ہیں کہ ’ہم نے کمپنی ایسے وقت میں بیچی جب ہم تھک چکے تھے اور ہمارے درمیان معاملات بھی بگڑ چکے تھے۔‘

لیکن آج ماضی کے زخم بھر چکے ہیں۔

ملر کہتی ہیں کہ ’اب ہم سب ستر سال کے ہیں اور زندہ ہیں، تو ہم اس سب پر ہنس سکتے ہیں۔ ہم چاہتے تھے کہ ہماری ایجاد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچے اور ہم نے یہ ممکن کر دکھایا۔‘

گذشتہ ہفتے جب امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن میں ان کا نام ہال آف فیم میں شامل کیا گیا تو ان کے ساتھ لیزر ڈرماٹولوجی، بروفین اور وائس اوور انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے موجد بھی موجود تھے۔ ان کو یقین نہیں ہو رہا تھا۔

سمتھ کہتی ہیں کہ ’جب ہم نے وہ لسٹ دیکھی تو ہم نے سوچا کہ ہم ان کو کہیں گے کہ ہم نے تو صرف پوسٹ اٹ نوٹس ایجاد کیے ہیں کیوں کہ ہمیں کوئی سنجیدہ نہیں لے گا۔‘

’منتظمین نے ہمیں بتایا کہ ہم ایسا نہیں کر سکتے کیوں کہ پوسٹ اٹ ایجاد کرنے والے بھی وہاں موجود ہوں گے۔‘

تینوں خواتین کہتی ہیں کہ اب بھی خواتین کو سپورٹس برا پہنا دیکھ کر وہ جذباتی ہو جاتی ہیں۔

سمتھ کہتی ہیں ’ہمیں فخر ہوتا ہے جب بھی ان کو دیکھتے ہیں کہ دیکھو یہ ہم نے بنایا ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24154 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments