آزاد کشمیر میں محکمہ سیاحت اور محکمہ آثار قدیمہ کی علیحدگی کا حکومتی اقدام


حکومت آزاد کشمیر نے آزاد کشمیر میں موجود قومی ورثے یعنی یہاں موجود مختلف نوعیت کے آثار قدیمہ کی بحالی، حفاظت اور مناسب مرمت کے مقصد سے ایک اچھے اور مثبت اقدام کے طور پر محکمہ آثار قدیمہ کو محکمہ سیاحت کے ایک ذیلی شعبہ کی حیثیت کے، ماضی کے طریقہ کار کو بدلتے ہوئے اور بجا طور پر محکمہ آثار قدیمہ کی اہمیت کا احساس کرتے ہوئے اس کو سیاحت سے الگ وزارت دے کر اس محکمہ کو ایک لحاظ سے اپ گریڈ کرتے ہوئے، محکمہ سیاحت سے الگ کر دیا ہے، جب کہ پہلے ان دونوں محکمہ جات یعنی محکمہ سیاحت اور محکمہ آثار قدیمہ کو ایک ہی وزارت کے زیر کار رکھا گیا تھا، جس کی وجہ سے قومی اور تاریخی اہمیت کا حامل اہم محکمہ آثار قدیمہ محکمہ سیاحت کا ایک نظرانداز شدہ ذیلی شعبہ بن کر رہ گیا تھا۔

ہمیں گہرائی سے جائزہ لینا چاہیے، کہ یہ حالیہ حکومتی اقدام کس طرح اس قومی ورثہ یعنی آثار قدیمہ کی واگزاری، بحالی، بہتری اور تحفظ کا باعث بن سکتا ہے۔ میرے خیال کے مطابق یہ فیصلہ درست ہے، کیونکہ آزاد کشمیر میں اکثر آثار قدیمہ معدومی، تباہی اور خستہ حالی کا شکار ہیں، اس کے علاوہ ناجائز طور پر پرائیویٹ اور مختلف سرکاری اداروں کے زیر قبضہ اور زیر استعمال ہیں۔ جب ہم اپنے اس قومی ورثے کو پہلے واگزار، مرمت اور محفوظ بنائیں گے، تب ہی یہ آثار سیاحت کے مقصد سے کام آ سکیں گے۔

ویسے بھی دونوں کاموں یعنی آثار قدیمہ کا تحفظ، بحالی اور مرمت اور محکمہ سیاحت کے مطلوبہ اقدامات کا ڈومین اور ضروریات ہی بالکل الگ ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ دونوں محکمے اپنا اپنا ایریا آف ورک طے کر کے بہتر طریقے سے کام کر کے اپنی اپنی تخصیصی مہارت کو بہتر طور پر منظم اور استعمال کر کے اچھی منصوبہ بندی اور اس پر عمل سے اپنی ذمہ داری کے شعبوں کی مجموعی صورتحال اور کیفیت میں بہت بہتری لا سکتے ہیں۔ محکمہ آثار قدیمہ کو تکنیکی بنیادوں پر منظم کیا جانا چاہیے اور اس میں ایسے افسران اور انجنیئرز کو تعینات کیا جانا چاہیے، جن کو ان آثار کی تاریخی اہمیت، قدیم طرز تعمیر اور مٹیریلز کی سمجھ، شعور اور دلچسپی ہو، ان افسر ان اور انجنیئرز کو اس خصوصی شعبے کی بہتر تربیت اور ان شعبوں میں اپنائے جانے والے جدید طریقہ کار سے آگاہی اور تربیت کے لیے محکمہ آثار قدیمہ پاکستان اور والڈ سٹی لاہور کے علاوہ نیشنل کالج آف آرٹس میں بھیجا جانا چاہیے، کیونکہ عام طور پر یہاں انجنیئرز اپنے عمومی نوعیت کے کاموں کے بارے میں ہی آگاہی اور اہلیت کے حامل ہیں، جبکہ آثار قدیمہ کی بحالی، مرمت آج کے دور میں انجینئیرنگ سے متعلقہ ایک الگ شعبہ یا فیکلٹی کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔

محکمہ آثار قدیمہ آزاد کشمیر کو پہلے آثار قدیمہ کی شناخت، ان کی تاریخی اہمیت، ناجائز سرکاری و غیر سرکاری قبضہ سے واگزاری، پھر ان آثار کی ان کی اصل کے مطابق بحالی اور مرمت کے امور سرانجام دینے چاہئیں، اور ان آثار قدیمہ کو قومی ورثہ قرار دیا جانا چاہیے۔ محکمہ سیاحت کا ڈومین ان ہی مقامات کے بارے میں بالکل الگ نوعیت کا ہوتا ہے، محکمہ سیاحت کا بنیادی کام سیاحوں کے لیے سہولت کاری اور اس مقصد سے مختلف سیاحتی مقامات پر ایسا ماحول اور سہولیات کی فراہمی پر توجہ دینا، جس سے سیاح حضرات باآسانی، حفاظت اور سہولت کے ساتھ محکمہ سیاحت کی طرف سے بہتر انداز میں تشہیر اور رہنمائی شدہ مقامات کی سیاحت کر سکیں۔

آج تک آزاد کشمیر میں موجود آثار قدیمہ کی تباہی، اور فرسودگی اور پھر معدومی کی بنیادی وجہ ہی یہ ہے کہ محکمہ سیاحت کا بنیادی کام اور مہارت سیاحت اور اس سے متعلق دیگر امور کے بارے میں ہی ہوتی ہے، جبکہ ان آثار قدیمہ کی بحالی اور مرمت ایک خالصتاً مخصوص فنی مہارت اور ان کے تاریخی شعور، اور ان آثار کے ارد گرد کے ماحول کو ان آثار کے تاثر اور کیفیت کے منطبق رکھنے سے متعلق کام اور اس کام کی بہتر فہم اور تربیت سے متعلق ہے۔ لہذا محکمہ آثار قدیمہ اور سیاحت کو الگ کرنا حکومت وقت کا ایک احسن اور مفید اقدام ہے۔ اور اس اقدام سے آزاد کشمیر کے دونوں اہم شعبوں میں کافی بہتری کی امید رکھی جا سکتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments