نوجوانوں پہ ویڈیو گیمز کے اثرات



ویڈیو گیمز کی انڈسٹری دنیا بھر میں ہے اور اس وقت گیمز کھیلنے والوں کی تعداد ایک ارب بیس کروڑ ہے اور ایک اندازے کے مطابق جلد ہی گیمز کی سالانہ فروخت ایک کھرب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

ویڈیو گیمز کی دنیا میں حیرت انگیز زبردست انقلاب برپا ہوا ہے۔ ٹیکنالوجی میں پے در پے تبدیلیوں نے ویڈیو گیمز کے ایسے در کھولے ہیں جن سے جہاں ایک طرف بہت سارے فوائد نظر آرہے ہیں وہیں بہت سارے نقصانات نے بھی سر ابھارا ہے۔ کمپیوٹر ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ نے نو جوان اور بچوں کو ویڈیو گیمز کو انتہائی سستا اور آسان بھی کر دیا ہے۔ ویڈیو گیمز سے ہر کس و ناکس متاثر ہو رہا ہے۔ بچے اور نو جوان دن رات کا بیشتر وقت ویڈیو گیمز کھیلنے میں صرف کر رہے ہیں، یہ پہلو بچوں کی صحت کے لئے مضر رساں ہے۔

ویڈیو گیمز کی لت اور تشدد کے سبب بننے کے الزامات اکثر اوقات سامنے آتے ہیں لیکن تین دہائیوں پر محیط تحقیق کے بعد بھی سائنس دان کسی متفقہ رائے پر نہیں پہنچ سکے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ویڈیو گیمز پر گھنٹوں بیٹھنے رہنے سے نہ صرف آپ کے دماغ پر اثر پڑتا ہے بلکہ ساتھ ساتھ آپ کی جسمانی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ مگر کسی بھی چیز کے استعمال کی زیادتی نقصان دہ ہے۔ اس میں صرف ویڈیو گیمز ہی نہیں۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق ایسے نوجوان جو بہت زیادہ ویڈیو گیمز کھیلتے ہیں وہ عام طور پر اس ایج گروپ کو درکار نیند کے مقابلے میں کم سوتے ہیں۔

امریکی ماہرین نفسیات کے ادارے کے سالانہ اجلاس کے دوران محققین کا کہنا تھا کہ یہ انکشاف 12 سے 20 برس کی درمیانی عمر کے 16 ہزار نوجوانوں کے بارے میں اعداد و شمار کے تجزیے سے ہوا۔ طبی ماہرین اس عمر کے نوجوانوں کے لیے آٹھ سے نو گھنٹے کی نیند ضروری خیال کرتے ہیں۔ اعداد و شمار سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے نوجوان جو سات گھنٹے سے کم نیند لیتے ہیں وہ مناسب ورزش بھی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے ان کی صحت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

یونیورسٹی آف آرکنساس فار میڈیکل سائنسز کے شعبہ نفسیات کی ماہر اور تحقیق کی سربراہ کیرس فٹز جیرالڈ کے مطابق ضرورت سے کم نیند لینا یوں تو ہر ایک کے لیے نقصان دہ ہے، مگر خصوصی طور پر نوجوانوں کے لیے تو بہت ہی زیادہ ہیں۔

کم نیند لینا یوں تو ہر ایک کے لیے نقصان دہ ہے، مگر خصوصی طور پر نوجوانوں کے لیے تو بہت ہی زیادہ، فٹزجیرالڈ

کم نیند لینے کی وجہ سے کئی ایک مضر اثرات سامنے آتے ہیں جن میں تھکن، ذہنی ارتکاز میں کمی، بیزاری، چڑچڑا پن، جلد غصے میں آنا اور خودکشی کے زیادہ خیالات آنا وغیرہ شامل ہیں۔ لیکن تازہ تحقیق کے مطابق محض 10 فیصد امریکی نوجوان ایسے ہیں جو ضروری نیند لیتے ہیں۔ فٹزجیرالڈ کے مطابق چونکہ ٹین ایجرز کی نہ صرف جسمانی نشو و نما ہو رہی ہوتی ہے بلکہ نئی چیزیں سیکھنے کے سبب اس عمر میں ان کی یاداشت بھی بہت اہم ہوتی ہے، لہٰذا ضروری نیند لینا ان کے لیے اور زیادہ اہم ہے۔

فٹز جیرالڈ نوجوانوں میں کم نیند لینے کی وجوہات کے بارے میں کہتی ہیں : ”جب معاملہ ٹین ایجرز کا آتا ہے تو بہت سی چیزیں ان پر اثر انداز ہوتی ہے، مثلاً ً انہیں اس بات میں زیادہ آزادی محسوس ہوتی ہے کہ وہ دیر سے سونے کے لیے جائیں، اس کے علاوہ ان سے والدین اور ان کے ہم عمر لوگوں کی توقعات یا مثال کے طور پر آدھی رات کے وقت ایس ایم ایس پیغامات بھیجنا انہیں اچھا لگتا ہے۔“

محققین اس نئی تحقیق میں یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکے کہ آن لائن گیمنگ اور کم نیند کے درمیان تعلق کی وجہ کیا ہے، تاہم فٹزجیرالڈ کے مطابق یہ ثبوت ضرور ملے ہیں کہ نوجوان جدید میڈیا کو جتنا کم استعمال کرتے ہیں اتنا ہی ان کی نیند زیادہ ہوتی ہے۔

مختلف تحقیقات کے نتیجے میں ویڈیو گیمنگ کے کئی مثبت اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ یونیورسٹی آف ٹورونٹو کی 2008 کی ایک تحقیق کے مطابق ویڈیو گیمز کے فوائد اور ان کی وجوہات تفصیل میں بتائی گئی ہیں۔ تحقیق کے مطابق ویڈیو گیمز میں موجود 3 D گرافکس سے آنکھوں اور دماغ کے درمیان حساسیت بڑھتی ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیو گیمز میں موجود مختلف صورت حال سے انسان کے جذبات بھی ابھرتے جو کہ صرف منفی نہیں ہوتے۔ شوٹنگ ویڈیو گیمز سے موٹر سکلز میں بھی بہتری آتی ہے۔

2018 میں جرمنی کے ریسرچر نے سائیکالوجی آف پاپولر میڈیا کے لیے تحقیق کی جسے بعد میں امریکہ کی امریکی سائیکولوجکل ایسوسی ایشن نے بھی چھاپا۔ اس تحقیق کے مطابق ویڈیو گیمز پر زیادہ وقت گزارنے سے ممکن ہے کہ تعلیمی گریڈز میں کمی آئے مگر وہ کمی پڑھائی پر وقت نہ دینے کی وجہ سے آتی ہے اور گیمز کھیلنے سے انسان کی بنیادی قابلیت کم نہیں ہوتی۔ ہر گیم کے ساتھ ساتھ اس کے حوالے سے اس ایک ریٹنگ موجود ہوتی ہے جو کہ بتاتی ہے کہ کس عمر کے لوگ اس گیم کو کھیل سکتے ہیں اور اس گیم کا مواد کیسا ہے۔

اس سے والدین نظر رکھ سکتے ہیں کہ کون سی گیم ان کے بچے کے لیے موضوع ہے اور کون سی نہیں۔ کچھ ایسی گیمز بھی ہیں جو کہ لوگ آن لائن کھیلتے ہیں جس میں دنیا کے دیگر کے افراد کے ساتھ آپ بات بھی کر سکتے ہیں۔ ایسی گیموں پر والدین کو کڑی نظر رکھنی چاہیے کہ ان کا بچہ کس کے ساتھ کھیل رہا ہے اور کیا بات چیت ہو رہی ہے۔

مشہور کہاوت ہے کہ ”کسی بھی چیز کی زیادتی نقصان کا باعث ہے“ یہ جملہ فقط الفاظ کا مجموعہ یا کتابوں کی رونق نہیں بلکہ اس میں حقیقی اور عظیم سبق پوشیدہ ہے، یعنی کہ زندگی کا ہر وہ عمل جسے کرنے میں انسان تمام حدود و قیود پار کر جائے وہ شرطیہ اس کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گا۔ جیسے انسان کا حد سے زیادہ کھا لینا بھی نقصان دہ ہے اور حد گزری بھوک برداشت کرنے کے بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ زندگی کے ہر پہلو میں اعتدال پسندی کی عادت اپنائی جائے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کی جائے۔

آج کی بڑھتی ٹیکنالوجی، نت نئی ایجادات، ابھرتی ہوئی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اور آن لائن رسائی بلاشبہ ہر گھرانے میں ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ پوری دنیا کے ایک ہاتھ میں سما جانے کے بعد انسان کے سامنے دو راستے کھل گئے ہیں یا تو وہ ان سہولیات کو کارآمد بناتے ہوئے مثبت استعمال کرے یا ان کا بیجا اور منفی استعمال کرتے ہوئے اپنی زندگی ناکام اور نقصان دہ بنا لے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments