روپے کی گرتی قدراور بڑھتے قرضے، کیا پاکستان دیوالیہ ہوسکتا ہے؟


اسلام آباد — پاکستان میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی کے باعث معاشی بحران سنگین ہونے کے خدشات پیداہوگئے ہیں اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو زرِ مبادلہ کے ذخائر خطرناک حد تک گرسکتے ہیں جس کی وجہ سے کسی ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے۔

روپے کی قدر میں مسلسل کمی سے پاکستانی درآمدات پر بوجھ اور درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہےاور ملکی قرضوں کا بوجھ بھی بڑھ گیا ہے۔گزشتہ چند ماہ کے دوران خطے میں سری لنکا کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور معاشی پالیسیوں سے متعلق بروقت فیصلے نہ کرنے کی وجہ سے جن سنگین معاشی اور سیاسی بحرانوں کا شکار ہواہے، اس کا موازنہ پاکستان میں درپیش صورت حال سے بھی کیا جارہا ہے۔

ملک کے معاشی اشاریوں کو دیکھتے ہوئے معاشی ماہرین یہ خدشہ بھی ظاہر کررہے ہیں کہ اگر پاکستان نے فوری طور پر بڑے معاشی فیصلے نہ کیے تو اسے مشکل ترین صورت حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور اگر یہ سلسلہ ڈیفالٹ تک چلا گیا تو ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

کوئی ملک کب اور کیسے دیوالیہ ہوتا ہے؟

کسی ملک کے ڈیفالٹ یا دیوالیہ ہونے سے کیا مراد ہے اور اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟اس بارے میں معاشی تجزیہ کار اور سابق وزیرِ خزانہ ڈاکٹرحفیظ پاشا نےوائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ کوئی ملک اس وقت ڈیفالٹ ہوتا ہے جب اس کے پاس ادائیگوں کے لیے زرِ مبادلہ کے ذخائر ختم ہوجائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ زرِ مبادلہ کے ذخائر ختم ہونے سے ملک میں سرمایہ لگانے والے سرمایہ کارون کو کو رقوم بھجوانے کے لیے ڈالر دستیاب نہیں رہتے اور نہ ہی درآمدی اشیا کی ادائیگیوں کے لیے رقم بچتی ہے۔ جب کسی ملک کو یہ صورتِ حال در پیش ہو تو اسے ہی ڈیفالٹ یا دیوالیہ ہونا کہا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دعا تو یہی ہے کہ پاکستان کو کبھی اس صورتِ حال کا سامنا نہ کرنا پڑے تاہم ہمارلیے دیوالیہ پن سے یہی مراد ہوگا کہ سٹیٹ بینک کے پاس ڈالر ختم ہوجائیں جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے کا ہمارے پاس قرضوں ، درآمد ات اور غیر ملکی سرمایہ کاروں اور دیگر ادائیگیوں کے لیے رقم نہیں بچے گی۔

انہوں نے کہا کہ سری لنکا میں ڈیفالٹ کے بعد ان کی کرنسی کی قدر 50 فیصد سے زائد گر چکی ہے۔ اس وقت ہمارا روپیہ ڈالر کے مقابلہ میں 190 روپے کی حد عبور کرچکا ہے۔خدانخواستہ ہمیں ڈیفالٹ کی صورتِ حال کا سامنا ہوا تو فی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت300 تک پہنچ جائے گی جو ملک کے لیے تباہ کن ہوگی۔

ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ اس وقت صرف آئی ایم ایف کی طرف جانا ہی واحد آپشن ہے۔ ہمیں اس وقت ایسی صورت حال درپیش ہے کہ عام کاروباری شحص کسی سے ادھار مانگنے جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ آپ پہلے کسی بینک سے گارنٹی لائیں۔ اسی طرح اس وقت آئی ایم ایف کی گارنٹی ہی پاکستان کو اس صورت حال سے نکال سکتی ہے۔

اس بارے میں اقتصادی امور کے ماہر اور تجزیہ کار فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ معیشت میں دو اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ ایک ’بینک رپسی‘ کہلاتی ہے جس میں کوئی کارپوریٹ ادارہ ادائیگیاں نہیں کرپاتا تو دوسری کمپنی عدالت میں چلی جاتی ہے اور عدالت اسے دیوالیہ قرار دے دیتی ہے لیکن خود مختار ممالک کو بینکرپٹ نہیں کیا جاتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ممالک نے مالیاتی اداروں کو ادائیگیاں کرنی ہوں اور وہ اس میں ناکام رہیں تو ان کی ادائیگیوں کو ری شیڈول کر دیا جاتا ہے۔ تکنیکی طور پر تو یہ ڈیفالٹ ہے لیکن لینے اور دینے والے عام طور پر رضامند ہوجاتے ہیں اور اسے قرضوں کی ری شیڈولنگ کہتے ہیں۔ اس کو بہت سادہ انداز میں اس طرح سمجھا جاسکتا ہے کہ جب آپ ادھار دینے والے کو ادائیگی کرنے میں ناکام ہوجائیں تو یہ صورت حال ڈیفالٹ یا دیوالیہ پن کہلاتی ہے۔

دیوالیہ ہونےکے نتائج کیا ہوتے ہیں؟

اس بارے میں فرخ سلیم کہتے ہیں کہ اگر کوئی ملک دیوالیہ ہوجائے تو مالیاتی اشاریے طے کرنے والے ادارے جیسے موڈیز وغیرہ فوراً اس ملک کی ریٹنگ گرا دیتے ہیں۔ریٹنگ گرنے کا نتیجہ میں یہ ہوتا ہے کہ مزید کوئی ادارہ آپ کو قرض دینے سے گریز کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سری لنکا میں ایسا ہی ہوا۔ جب ڈالر ختم ہوگئے تو ان کی پیٹرولیم کی ادائیگیاں اور فرنس آئل کی ادائیگیاں نہ ہوسکیں، اس کے باعث ان کے بجلی گھر بند ہوگئے۔ لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی۔ لائف سیونگ ادویات آنا بند ہوگئیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جو کچھ آپ درآمد کررہے ہوتے ہیں، زرمبادلہ نہ ہونے کے سبب آپ اسے منگوا نہیں سکتے۔ جس کے نتیجے میں خوراک کی قلت ہو جاتی ہے۔ اور اس کا نتیجہ معاشرتی بے چینی کی شکل میں نکلتا ہے جو بڑھتے بڑھتے تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

فرخ سلیم نے کہا کہ اس وقت سٹیٹ بینک کے مطابق ان کے پاس 10 ارب ڈالر موجود ہیں اور ان ذخائر میں سے سونا نکال دیا جائے تو تقریباً 6 ارب ڈالر بچتے ہیں جو پاکستان کی صرف ایک ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ ان کے بقول یہ کافی خطرناک معاملہ ہے۔ اگر اس وقت ہم آئی ایم ایف کی طرف نہیں جاتے تو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

حکومت کیا حل نکال سکتی ہے؟

حفیظ پاشا نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دو ہیڈکوارٹر اس وقت کام کررہے ہیں، ایک لندن میں اور ایک پاکستان میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاست دان سیاسی نکتۂ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاتے تو اس سے زیادہ برا حال ہوگا جو ان کے پاس جانے کی صورت میں ہوگا۔ ۔بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ایک ڈالر 300 روپے کا ہو گیا تو حکومت کیا کرے گی؟

حفیظ پاشا نے سری لنکا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سری لنکا بھی کافی دیر سے کہہ رہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گااور بھارت یا چین سے فنڈز لے لےگا۔ لیکن اب تین ہفتوں سے ان کا وزیر خزانہ امریکہ میں بیٹھا ہوا ہے اور بات چیت چل رہی ہے۔

فرخ سلیم نے کہا کہ میرا ذاتی خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پاجائیں گے، کیوں کہ جو ممالک عام طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ کام کرتے ہیں اگر وہ ڈیفالٹ کر جائیں تو اس ملک کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ امکان ہے حکومت سبسڈیز والے معاملے پر آئی ایم ایف سے کچھ طے کر لے گی اور دو تین قسطوں میں آئی ایم ایف کی شرائط کا اطلاق کر دیا جائے گا۔

مہنگائی کی صورت حال پر انہوں نے کہا کہ اس کی سیاسی قیمت کسی بھی جماعت کے لیے بہت زیادہ ہوگی، لیکن ڈیفالٹ کی صورت میں اس سے بھی کہیں زیادہ برا حال ہوسکتا ہے۔

فرخ سلیم نے کہا کہ جہاں تک دوست ملکوں سے مدد حاصل کرنے کا تعلق ہے تو یہ بات ذہن میں رہے کہ دوستی اور دشمنی عام انسانوں کی سطح پر تو ہوسکتی ہے لیکن ملکوں کے درمیان کوئی بھی دوستی یا دشمنی مستقل نہیں ہوتی بلکہ صرف مفادات کا معاملہ ہوتا ہے۔ ہر ملک اپنے مفاد کو دیکھ کر فیصلے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک دوست ممالک کی طرف سے ہمیں کوئی مدد نہیں ملی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 3253 posts and counting.See all posts by voa

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments