انڈین دارالحکومت نئی دہلی کے علاقے منڈکا میں چار منزلہ عمارت میں آتشزدگی: ’آگ میں پھنسی میری گرل فرینڈ نے مجھے ویڈیو کال کی اور میں اسے بچا نہ سکا‘

دلنواز پاشا - بی بی سی ہندی، نئی دہلی


منڈکا
’میری گرل فرینڈ بھی آگ کی لپیٹ میں تھی۔ اس نے مجھے ویڈیو کال کی تھی۔ میں اسے حوصلہ دے رہا تھا۔ آہستہ آہستہ دھواں بڑھتا جا رہا تھا اور پھر کال کٹ گئی۔‘

یہ ایک نوجوان کا کہنا ہے جو مغربی دلی کے سنجے گاندھی میموریل ہسپتال کے باہر لوگوں کے ہجوم کے درمیان ساکت کھڑا اپنے آنسو بمشکل روکے ہوئے ہے۔

ہسپتال کے باہر ایسے ہی بہت سے دیگر لوگوں کا ایک جم غفیر ہے، کسی کی آنکھوں میں آنسو اور کسی کے لبوں پر سوال ہیں۔ وہاں کا ماحول ایک درد کی تصویر نظر آتا ہے۔

اس نوجوان کی گرل فرینڈ اب لاپتہ ہیں۔ سنجے گاندھی ہسپتال کے باہر کئی ایسے خاندان ہیں جن کے اپنے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے مغربی علاقے منڈکا کی ایک چار منزلہ عمارت میں آگ لگنے کے بعد لاپتہ ہیں۔

واضح رہے کہ مغربی دہلی کے مضافات میں موجود علاقے منڈکا میں ایک تجارتی عمارت میں آگ لگنے کا واقعہ 13 مئی کی شام ساڑھے چار بجے پیش آیا۔

حکومت کے مطابق آتشزدگی کے اس واقعے میں 27 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین ہیں جبکہ بہت سے لوگ ابھی تک لاپتہ ہیں۔

14 سال کی مونی اپنی بہن پوجا کو ڈھونڈتی ہوئی ہسپتال پہنچی ہیں۔ ان کی 19 سال کی بہن اسی سی سی ٹی وی کمپنی کے دفتر میں کام کرتی ہیں، جس میں گذشتہ شام آگ لگی۔

مونی کہتی ہیں کہ ’ہمیں نیوز چینلز سے آگ لگنے کا علم ہوا اور ہم بھاگتے ہوئے یہاں آئے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ ہماری بہن کہاں ہے، انتظامیہ نے کہا ہے کہ سنجے گاندھی ہسپتال میں پتا کرو۔‘

مونی کی بہن پوجا گھر کی واحد کفالت کرنے والی تھیں

مونی کی بہن پوجا گھر کی واحد کفالت کرنے والی تھیں

لاپتہ افراد اور انھیں دربدر تلاش کرتے اہلخانہ

مونی کی بہن پوجا گھر میں سب سے بڑی ہیں اور پورے خاندان کی کفالت کی وہ اکیلی ذمہ دار ہیں۔

اپنی بہن کو یاد کرتے ہوئے مونی کہتی ہیں کہ ’وہ دفتر ڈیٹا انٹری کا کام کرتی ہیں، اس کے پاس فون نہیں تھا، اس لیے وہ ہمیں کال بھی نہیں کر سکی۔‘

اسی طرح ایک نوجوان نوشاد اپنی ممانی کی تلاش میں سنجے گاندھی ہسپتال پہنچے ہیں۔ جب سے آگ لگنے کا واقعہ سامنے آیا ہے نوشاد ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں لیکن انھیں اب تک اپنی ممانی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

پنکج اپنے بھائی پراوین کو تلاش کرتے ہوئے ہسپتال پہنچے ہیں۔ پنکج نے آس پاس کے تمام ہسپتالوں کے چکر لگائے لیکن انھیں ان کے بھائی کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چل سکا۔

پنکج کہتے ہیں کہ ’میرا بھائی پراوین گزشتہ آٹھ سال سے کمپنی میں کام کر رہا ہے اور وہ گرافک ڈیزائنر ہے۔ ہمیں اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔‘

پنکج اپنے بھائی پراوین کی تلاش میں ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں

پنکج اپنے بھائی پراوین کی تلاش میں ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں

پنکج کو ایک دوست سے اس حادثے کی خبر ملی۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ہمیں بتایا گیا کہ تمام لاشیں سنجے گاندھی ہسپتال میں ہیں، ہمیں بتایا گیا ہے کہ شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرایا جا سکتا ہے۔‘

40 برس کی مونی بھی اس کمپنی میں کام کرتی تھیں جو حادثے کا شکار ہوئی۔ وہ آگ لگنے کے بعد سے لاپتہ ہیں تاہم ان کے فون کی گھنٹی مسلسل بج رہی ہے۔

ان کی ماں ہسپتال میں بے سدھ کھڑی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میری بیٹی کا فون مسلسل چل رہا ہے لیکن کوئی جواب نہیں۔ کئی لڑکیوں کو سیڑھی اور کرین کے ذریعے نیچے لایا گیا۔ ہم نے وہ ویڈیو دیکھی ہے جس میں لگتا ہے جیسے انھیں عمارت سے باہر لے جایا گیا ہو لیکن ہم اسے اب تک نہیں ڈھونڈ سکے۔ ہم نہیں جانتے کہ وہ کہاں ہے۔‘

حادثے کے بہت سے متاثرین مشکل وقت میں اپنے اہلخانہ سے بات نہیں کر سکے لیکن کچھ لوگوں نے فوراً گھر پر اطلاع دی تھی۔

میں اپنی بہن کو آگ میں پھنسا دیکھتا رہا لیکن کچھ نہ کر سکا

نانگلوئی کی رہائشی اور سی سی ٹی وی کمپنی میں کام کرنے والی 21 برس کی مسکان نے آگ لگتے ہی اپنے بھائی اسماعیل کو فون کیا اور اسماعیل پندرہ منٹ میں عمارت کے باہر پہنچ گئے تھے لیکن وہ اپنی بہن کو نہیں بچا سکے اور اب مسکان لاپتہ ہیں۔

اسماعیل اپنی بہن مسکان کو ہسپتال میں تلاش کرتے پھر رہے ہیں

اسماعیل اپنی بہن مسکان کو ہسپتالوں میں تلاش کرتے پھر رہے ہیں

اسماعیل کہتے ہیں کہ ’جب میں یہاں پہنچا تو میں نے اسے عمارت میں پھنسا ہوا دیکھا تھا۔ میں نے اسے فون پر کہا کہ وہ پچھلے راستے سے نکل جائے اور پھر اس کے بعد ہماری اس سے بات نہ ہو سکی۔‘

اسماعیل اور ان کے اہلخانہ ہر ہسپتال میں مسکان کو تلاش کر چکے ہیں لیکن ان کی کوئی خبر نہیں مل رہی۔

اسماعیل نے عمارت میں داخل ہو کر بھی اپنی بہن کو تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن کامیابی نہیں ملی۔

جب عمارت کی آگ تقریباً بجھی تو وہ اپنی بہن کی تلاش میں عمارت میں داخل ہوئے۔ شیشے کے ٹکڑے لگنے سے اس کے ہاتھ زخمی بھی ہوئے۔

اسماعیل کہتے ہیں کہ ’ہم اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئے ہیں لیکن کچھ پتا نہیں چلا۔ کاش ہم اسے بچا لیتے، کاش ہم اسے ڈھونڈ لیتے۔‘

جوتی

آتشزدگی کا شکار ہونے والوں میں زیادہ تر خواتین ہیں

جس عمارت میں آگ لگی وہاں زیادہ تر خواتین کام کرتی تھیں۔ اہلخانہ کے مطابق ان کی تنخواہ اوسطاً 12 سے 15 ہزار روپے ماہانہ کے درمیان تھی۔

آگ بجھائے جانے کے بعد جب ہم عمارت کے قریب پہنچے تو باہر خواتین کے درجنوں سینڈل پڑے نظر آئے۔

لاپتہ ہونے والی پوجا نے تین مہینے پہلے ہی اپنی نوکری شروع کی تھی۔ ان کے والد فوت ہو چکے ہیں اور وہ اکیلی اپنے گھر کا خرچ چلا رہی ہیں۔

ان کی ماں ہسپتال کے باہر بالکل خاموش کھڑی تھیں۔ وہ ایک لفظ بھی بولنے سے قاصر تھیں۔ ان کی چھوٹی بہن مونی کہتی ہیں کہ ’ہم اس کے بغیر کیسے زندہ رہیں گے؟‘

دوسری جانب مسکان کے بھائی اسماعیل کا کہنا ہے کہ ’میری بہن ایک خوش مزاج لڑکی ہے، وہ تین سال سے یہاں کام کر رہی تھی اور اپنے خوابوں کو پورا کر رہی تھی۔ ہماری دعا ہے کہ وہ محفوظ ہو اور اسے کسی بھی طرح سے تلاش کیا جا سکے۔‘

نئی دہلی پولیس نے لاپتہ افراد کے لیے ایک کنٹرول روم بھی قائم کیا ہے۔ حکام کے مطابق یہاں سے لاپتہ ہونے والے 19 افراد کے بارے میں اب تک پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ ان میں سے چار مرد اور پندرہ خواتین ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

بھارت کا نام کیسے پڑا، ’آگ‘ اور ’دریا‘ کی کہانی

انڈیا اور نیپال میں جنگل کی آگ سے سائنسدان کیوں پریشان ہیں؟

دلی: فیکٹری میں آتشزدگی سے 43 افراد ہلاک

آتشزدگی، جوتی

دلی پولیس نے حادثے میں زخمی ہونے والوں کے نام جاری کیے ہیں لیکن ابھی تک مرنے والوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔

اس بارے میں پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ’کئی لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں، ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرنا پڑے گا۔‘

انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس سانحے پر دکھ کا اظہار کیا اور مرنے والوں کے لواحقین کو دو دو لاکھ جبکہ زخمیوں کو 50-50 ہزار روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔

اس حادثے میں زخمی ہونے والوں کا سنجے گاندھی اور دین دیال اپادھیائے ہسپتال میں علاج کیا جا رہا ہے۔

آگ کس قدر خوفناک تھی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ فائر فائٹرز کی چھ گھنٹے کی مسلسل کوششوں کے باوجود عمارت سے دھواں اٹھ رہا تھا۔

اس چار منزلہ عمارت میں ایک تہہ خانہ بھی ہے۔ گراؤنڈ فلور پر دفاتر اور دکانیں ہیں جبکہ پہلی سے تیسری منزل پر سی سی ٹی وی بنانے والی کمپنی کا دفتر ہے۔

ابھی تک آگ لگنے کی وجوہات کو سرکاری طور پر ظاہر نہیں کیا گیا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24061 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments