مور رقص کے ماہر غلام حسین: ’جب گھنگھرو دیکھتا تھا تو عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی‘
پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر جامشورو کے فنکار ماسٹرغلام حُسین اپنا تعارف انھی الفاظ میں کراتے ہیں۔ وہ منفرد ڈانس یعنی ’مور رقص‘ کے ماہر ہیں۔
ویسے تو اُنھیں کلاسیکل رقص کی مختلف اقسام یعنی بھرت ناٹیم، کتھک اور منی پوری میں کمال حاصل ہے لیکن وہ اپنے ہنر میں کچھ منفرد کر کے دِکھانا اور اپنی پہچان بنانا چاہتے تھے اور یہی وجہ بنی کہ انھوں نے ’مور رقص‘ سیکھنے کا فیصلہ کیا۔
ماسٹر غلام حُسین کے لیے یہ آسان کام نہ تھا۔ رقص کی دنیا میں اپنا نام بنانے کے ساتھ تفصیلی ’مور رقص‘ کو ترتیب دینے میں انھیں کُل 35 سال لگے۔ اس ڈانس کے لیے وہ 1300 پروں سے بنا لباس پہنتے ہیں اور پورا میک اپ کرتے ہیں۔
ماسٹر غلام حُسین نے بتایا کہ ’میں نے اپنے استاد سے مشورہ کیا کہ استاد جی مجھے یہ ڈانس کرنا ہے تو انھوں نے کہا کہ ٹھیک ہے، بیٹا تم یہ کرو لیکن اگر تمھیں یہ ڈانس کرنا ہے تو مور کی فطرت کو دیکھو۔‘
لیکن انھوں نے استاد کے مشورے پر فوری عمل نہ کیا، مور رقص کرتے اُنھیں چار پانچ سال گزر گئے مگر وہ اپنے کام سے مطمئن نہیں تھے۔ آخرِ کار انھوں نے اپنے گھر میں مور پال کر اُن کی فطرت پر غور کرنا شروع کیا۔
اور پھر مور کے انداز میں مجھے بتاتے لگے کہ ’مور کی تین چالیں ہیں، چھوٹا مور ہے جو جلدی جلدی بھاگتا ہے۔ اُس سے جو بڑا مور ہوتا ہے اُس کی چال تھوڑی درمیانی ہوتی ہے، اور جو بھاری مور ہوتا ہے وہ بالکل جسم کو لہرا کے پورے وجود کے ساتھ چلتا ہے۔‘
نر اور مادہ مور کی فطرت پر بات کرتے ہوئے انھوں نے مور کے سارے انداز بیان کیے کہ آیا وہ کیسے چلتا ہے، کسی کو دیکھ کے کیسے اچانک گردن موڑتا ہے، بہار کو کیسے دیکھتا ہے، چونچ کو کیسے صاف کرتا ہے، کیسے پانی پیتا ہے، خوشی کے اظہار کے لیے کس طرح ناچتا ہے اور ناچ کے لیے کس طریقے سے پر اٹھاتا ہے۔
لیکن کیا انسان کسی پرندے کی حرکات و سکنات نقل کر سکتے ہیں اور اُسے ایک فن کی ایک قسم میں ڈھال سکتے ہیں؟
اس بات پر غلام حُسین نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’ظاہر سی بات ہے جب مور بن جائِیں تو مور کا ایکسپریشن آ جاتا ہے نہ۔ اُس ٹائم جس ٹائم ہم ڈریس پہنتے ہیں ہم کہتے ہیں کہ ہم مور ہیں۔ پھر ماسٹر غلام حُسین پیچھے چلا جاتا ہے اور مور سامنے آ جاتا ہے۔‘
پاکستان میں یوں تو عمومی طور پر رقص کے ماہر اُستاد اور شاگرد دونوں ہی کمیاب ہیں لیکن مرد رقاص تو نایاب ہیں۔ میں یہ سوچے بنا نہ رہ سکی کہ آج یہ صورتحال ہے تو جب چار دہائیوں پہلے ماسٹر غلام حُسین نے رقص کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہو گا تو اُن کے فن کی وجہ سے اُن پر زندگی کتنی تنگ ہوئی ہو گی۔
یہ بھی پڑھیے
’فن کا کوئی مذہب نہیں‘: انڈیا کی مسلمان ڈانسر جن کو مندر میں رقص سے روک دیا گیا
خیبر پختونخوا کا پشتون لوک رقاص
نادر شاہ: فارس کا بادشاہ جس نے مغلیہ سلطنت کے اختتام اور انگریز راج کی بنیاد رکھی
اس بابت ماسٹر غلام نے مجھے بتایا کہ ’دیکھیے میرے خاندان میں تو نہ کوئی ڈانسر ہے اور نہ ہی ہمارا مذہبی گھرانا ہے۔ بچپن سے یہ شوق تھا اور میں 12، 13 سال کی عمر کا تھا، آپ کو پتا ہے سندھ میں جو گانے بجانے والے آتے ہیں شادی بیاہوں میں، وہ ناچتے بھی ہیں، اُن کے پاؤں میں گھنگرو بندھے ہوتے ہیں۔ آپ یقین ماننا کہ جب میں وہ گھنگھرو دیکھتا تھا تو عجیب سی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔‘
’میرے ماموں کے پاس بڑے بڑے بیل ہوتے تھے، رات کے ٹائم وہ (بیلوں کے) گھنگھرو اتار کے رکھ دیتے تھے۔ میں لکڑیاں کاٹنے جاتا تھا تو میں جنگل میں وہ (گھنگھرو) پہن کر ڈانس کرتا تھا۔ ایک دن کسی گاؤں والے نے دیکھ لیا، گھر پر جا کے بتایا، پھر تو میری اچھی خاصی پٹائی ہوئی۔‘
ماسٹر غلام سندھ کو اپنی پہچان بتاتے ہیں۔ وہ سندھ کی ثقافت اور اِس کے تاریخی ورثہ کو فخریہ بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے مور رقص کے علاوہ لاڑکانہ میں انڈس ویلی سولائزیشن کے اربن سینٹر موئن جو دڑو سے ملنے والے مجسمے ڈانسنگ گرل پر بھی تحقیق کی ہے۔ انھوں نے موئن جو دڑو میں وقت گزارا، ڈانسنگ گرل کی طرح کا لباس تیار کیا۔ اِس لباس کو پہن کر وہ مختلف ثقافتی محفلوں میں رقص کرتے ہیں۔
ماسٹر غلام حُسین کو بھی پاکستان کے کئی فنکاروں کی طرح اپنے جنون کی قیمت چکانی پڑی۔ انھوں نے نہ صرف لوگوں کی باتیں سُنیں بلکہ ایک طویل عرصہ غربت اور تنگدستی میں زندگی بسر کی۔ البتہ اب اُنھیں سرکاری اور غیرسرکاری فنکشنز میں پرفارم کرنے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے اور سندھ حکومت کی طرف سے ایک معمولی وظیفہ بھی ملتا ہے۔
اُن کی اپنے فن سے رغبت اور اس کو جاری رکھنے کے جنون کو دیکھ کر میں پوچھے بنا نہ رہ سکا کہ کیا وہ یہ فنی ورثہ اپنے بچوں میں منتقل کریں گے۔
اس پر ماسٹر غلام حُسین درد اور عاجزی سے کہنے لگے: ’میں نے اپنے بچوں کو یہ کام نہیں سکھایا، کیونکہ اس میں بڑی تکلیف ہے، بڑی اذیتیں ملتی ہیں۔ میں نے بہت قربانی دی ہے، ماں کی قربانی دی ہے، وقت کی قربانی دی ہے، صحت کی قربانی دی ہے۔ بس میں بیان نہیں کر سکتا ہوں کیونکہ خدا نے مجھے عزت بھی تو بہت دی ہے نا۔‘

