ماحولیاتی تبدیلیاں، پانی کی کمی اور گرمی کی شدت میں اضافہ


حالیہ دنوں میں ملک کے بیشتر شہروں میں گرمی کی لہر ہے۔ کراچی، لاہور، اور ملک کی سب سے زیادہ گرم رہنے والے شہروں جیکب آباد، سکھر، نواب شاہ سبی اور میدانی علاقوں میں گرمی کی شدت سے زندگی عذاب بن گئی ہے۔ درجہ حرارت 44 سے 47 اور 50 تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس مرتبہ کراچی میں بھی گرمی میں بھی ریکارڈ گرمی اضافہ ہوا ہے۔ اسی ہفتے سال کا سب سے گرم دن بھی ریکارڈ کیا گیا ہے۔ جبکہ جون اور جولائی کے دن ابھی آنے والے ہیں۔

دریائے سندھ ملک میں آدھے سے زیادہ آبادی نا فقط پینے کا ذریعہ آب ہے بلکہ زراعت کے حصے، آبی جیوت بھی اسی دریائے سندھ پر منحصر کرتی ہے۔ آج اسی دریائے سندھ میں پانی کی قلت ہے۔ جس کی بڑی وجہ گلیشیرز کا نا پگھلنا، بارشیں نہ ہونا اور پانی پر بجلی کے منصوبے بنانے کے لیے ڈیموں میں پانی روک کر رکھنا ہے۔ یوں تو جنوبی پنجاب سرائیکی بیلٹ چولستان میں بھی پانی کا شدید فقدان ہے۔ جہان پر جانور مر رہے ہیں اور انسان پانی کی بوند بوند کے لئے ترس رہے ہیں۔

مگر سب سے زیادہ افسوس اس بات کا بھی ہے کہ دریا سندھ جو صدیوں سے سندھ کے نام سے منسوب ہے۔ اس ہی صوبے کے لوگوں کو زراعت کاشت کرنے جنگلی آبی جیوت کے لئے پانی میسر نہیں ہے۔ اس کا سبب صوبے کا آبی لحاظ سے آخر میں ہونا ہے۔ جنوبی پنجاب اور سندھ کے مختلف شہروں میں زرعی پانی سمیت پینے کے پانی کی بھی شدید قلت ہے جس سے انسان مویشی، جنگلی جانور، آبی جیوت کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے، اور دریائے سندھ میں موجود آبی جیوت نایاب نسل ڈولفن کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔

زراعت ملک کی وہ معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے جو اس وقت ٹوٹنے کے نزدیک ہے۔ کپاس چاول آم و دیگر فصلوں کے کاشتکار اس وقت شدید پریشانی اور غم کے عالم میں ہیں اور حکومت سمیت کوئی پرساں حال نہیں ہے۔ کاشتکاروں کا اس ملک کی معیشت میں اہم و نادر کردار ہوتا ہے حیران کن بات یہ ہے کہ کیا ہم اس ہی ملک کے باسی ہیں جس ملک کو دنیا میں زرعی ملک تسلیم کیا جاتا تھا یا ابھی کیا جاتا ہے؟ اور یہی پانی کی صورتحال رہی تو کیا مستقبل میں بھی اس ملک کو زرعی ملک تسلیم کیا جائے گا؟

ماحولیاتی تبدیلی، گلوبل وارمنگ کے ذمہ دار ہم سب انسان ہی ہیں۔ درختوں کی کٹائی بڑی بڑی فیکٹریوں جن کی چمنیوں سے نکلتا دھواں اور دھواں دار گاڑیوں کا استعمال ہمارے زیر استعمال ہوتی ہیں۔ اس کے باعث بھی گرمی کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اب یہ تو اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ملک میں ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال کیا جائے اور پیٹرول اور ڈیزل زدہ گاڑیوں کا استعمال کرنا چھوڑیں۔ ملک میں اس سسٹم کی گاڑیوں کی اشد ضرورت ہے ملک کے لیے ونڈ، سولر، اور گاربیج سمیت دیگر بجلی کے منصوبوں کا قیام لایا جائے، جس سے پانی کی بجلی کے منصوبوں کے لیے جمع کیا جانے والا پانی زراعت اور انسانی زندگیوں پر استعمال کیا جائے گا اور ساتھ ہی درختوں کی کٹائی کو روک کر اور ملک میں شجرکاری مہم کی آگاہی دے کر درختوں کو نا صرف جنگلوں تک محدود کیا جائے بلکہ گھر، گلی، محلوں اور شہری آبادی میں بھی لگائے جائیں، جس سے ہم ملک کو حالیہ اور مستقبل میں آنے والی ماحولیاتی تبدیلیوں کے شدید خطرات و اثرات اور پانی کی قلت سے بچا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS