خلق خدا قطرۂ آب چاہتی ہے
چند روز پہلے ایک جملہ نظر سے گزرا جو اس تحریر کے لکھنے کا باعث بنا کہ ”قطرۂ آب میں مخفی ہے وجود حیات“ ۔ اس کے پڑھتے ہی فوراً ذہن اس خشک سالی طرف گیا جس کا ان دنوں پاکستان کو سامنا ہے۔ خلق خدا بلک بلک کر صدائے العطش بلند کر رہی ہے۔ نگاہیں مسلسل نیلے آسمان پر جمی ہیں، آنکھوں میں امید کی اک کرن ہے کہ حالات چاہے جیسے بھی ہو جائیں مگر اس کے ہاں دیر نہیں۔
پانی حیات کا بنیادی جزو ہے جس کا واضح ذکر خالق کائنات نے سورۃ الانبیاء کی آیت نمبر 30 میں کر دیا ہے ”اور ہم نے (زمین پر) ہر پیکر حیات (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی“ ۔ تاریخی حوالوں سے یہ بات ثابت ہے کہ اس زمین پر خشکی کے وجود میں آنے سے پہلے ہر طرف پانی ہی پانی ہوا کرتا تھا پھر اس پر آہستہ آہستہ جھاگ پیدا ہوئی اور اس جھاگ پر پھر خشکی کا وجود عمل میں آیا۔ پھر زمین کا توازن قائم رکھنے کے لئے اس پر پہاڑ بصورت میخ گاڑ دیے گئے۔
مورخین کے نزدیک زمین کا وہ حصہ جہاں بیت اللہ موجود ہے وہاں خشکی سب سے پہلے ظاہر ہوئی اسی لئے وہ وسط ارض بھی ہے۔ سب سے پہلا نمودار ہونے والا پہاڑ کوہ بوقبیس ہے جو مکہ میں بیت اللہ کے قریب واقع تھا، اب اس کو کاٹ کر جگہ کو استعمال میں لے آیا گیا ہے۔ زمین کا تین چوتھائی حصہ اب بھی پانی پر مشتمل ہے جبکہ ایک چوتھائی حصہ خشکی ہے۔ یہ حقائق اس بات کے سمجھنے کے لئے کافی ہیں کہ اس کائنات کا پانی کے ساتھ کیا قربت کا تعلق ہے۔ انسانی جسم میں پانی کا تناسب ساٹھ 60 سے ستر 70 فیصد کے درمیان ہوتا اور کم و بیش یہی حیوانوں کا بھی ہے۔ عقل یہ سوچ کر ہی دنگ رہ جاتی ہے کہ پانی جس کی اہمیت جانداروں کے لئے اس قدر زیادہ ہے وہ اگر لمحہ بھر کے لئے انہیں میسر نہ آئے تو انجام کیا ہو گا۔
گزشتہ کئی روز سے پاکستان کے دوسرے بڑے صحرا چولستان کو بدترین خشک سالی کا سامنا ہے، جس کی بدولت انسان اور مویشی شدت پیاس سے تڑپ رہے ہیں۔ سیکڑوں جانور بلک بلک کر مر چکے ہیں جبکہ اونٹ جسے صحرائی جہاز کہا جاتا ہے اس کے حوصلے بھی ماند پڑتے دکھائی دے رہے ہیں۔ درجہ حرارت اپنے عروج پر رہتا ہے اور وہاں خلق خدا کو ہیٹ اسٹروک جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ہمارے یہاں انتظامات کا تو شروع سے ہی فقدان رہا ہے اس معاملے میں بھی انتظامی مسائل کارفرما ہیں کیونکہ چولستان، جسے مقامی زبان میں روہی بھی کہا جاتا ہے، کے مقامی باشندوں کے مطابق تالاب جو کہ وہاں کے لوگوں کے لئے پانی کے ذخائر ہیں ان کی بہتر صفائی کے انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے بارش کا پانی وہاں اس مقدار میں جمع نہیں ہو پاتا جتنا کہ اس قدر شدید گرمی میں استعمال ہوتا ہے۔
نتیجتاً جب گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے اور سورج اپنی تابناک شعاعوں سے مخلوقات ارضی کو جھلسانے کو آتا ہے پھر ایسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہی اگر پانی کو ذخیرہ کرنے کے احسن اقدامات کیے جائیں تو یہ نوبت نہ آئے۔ اسلامی تعلیمات تو اس قدر سخت ہیں کہ اگر ریاست میں کوئی بکری کا بچہ بھی پیاسا مر جائے تو اس کا جواب دہ حکمران وقت کو ہونا پڑے گا، اب یہ ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
نہری پانی کی تقسیم کے مسائل سے بھی ہمارا ملک دو چار ہے اور اس کے بھی بھیانک نتائج اکثر و بیشتر دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں۔ پاکستان کے بہت سے علاقوں میں فصلوں کی کاشتکاری کے لئے نہری پانی کا استعمال کیا جاتا ہے اور جب اس پانی کی قلت ہوتی ہے تو فصل کی شرح پیداوار کم ہو جاتی ہے جو کاشتکار کے لئے باعث تشویش ہوتا ہے کیونکہ اس کے گزر بسر کا انحصار اسی پیداوار پر ہوتا ہے۔ پاکستان سب سے زیادہ زر مبادلہ زراعت سے کماتا ہے اب اگر اسی زراعت کے لئے ہی بہتر اقدامات نہ ہوں گے تو خود کو اندھے کنویں میں دھکیلنے والی بات ہے۔
پہاڑوں پر درجہ حرارت بڑھ چکا ہے گلیشئر پگھل رہے ہیں لیکن ہمارے یہاں اس پانی کو ذخیرہ کرنے کے بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں، چشمے ہیں تو وہ پانی ابل رہے ہیں۔ میدانی علاقے سورج کی تمازت سے جھلس رہے ہیں۔ صحراؤں میں حرارت بشکل عذاب اتر رہی ہے۔ اب بندگان خدا پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ درد دل رکھتے ہوئے انسانیت کا حق ادا کریں جو تخلیق انسان کا بنیادی مقصد تھا۔ یہ اندیشہ بجا ہے کہ ہم اگر مزید اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں کوتاہی کرتے رہے تو یہ آفت کہیں ہم پر بھی بصورت عذاب مسلط نہ ہو جائے۔ ابھی وقت ہے ہمارے پاس اور وقت کی قدر ہی ہمارے اسلاف کا طرۂ امتیاز رہی ہے۔


