گیان واپی مسجد تنازع: وضو خانے سے ملنے والی چیز ’شیو لِنگ‘ ہے یا فوارہ؟

مرزا اے بی بیگ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی


انڈیا کے قدیم شہر وارانسی یعنی بنارس کی گیانواپی مسجد کا سروے مکمل ہونے کے بعد دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس مسجد کے احاطے سے شیولنگ ملا ہے۔ یہ دعویٰ سامنے آنے کے بعد مقامی عدالت نے اس جگہ کو فوری طور پر سیل کرنے کا حکم دیا ہے۔

جبکہ انڈیا میں مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم مسلم پرسنل لا بورڈ نے سروے کے نتیجے میں سامنے آنے والے دعوے اور اس کی بنیاد پر مسجد کے وضو خانے کو بند کرنے کے حکم کو ’غیر قانونی‘ قرار دیا ہے۔

اس کیس کے سرکاری وکیل وشنو جین اور بنارس کے ڈی جی سی سول مہیندر پانڈے کے علاوہ بنارس کی مساجد کی انجمن انتظامیہ کے وکیل رئیس انصاری نے مسجد کا احاطہ سیل کرنے کے عدالتی حکم کی تصدیق کی ہے۔

سروے کے اختتام کے فوراً بعد عدالت کے جاری کردہ حکم میں لکھا ہے کہ ’ایک کیس میں وکیل ہری شنکر جین کی طرف سے سروے میں شیولنگ ملنے کی اطلاع ملی ہے اس لیے اس مقام کو فوری طور پر سیل کر دیا جائے۔‘

جج روی کمار دیواکر نے اپنے حکم میں لکھا: ’حکم دیا جاتا ہے کہ اس جگہ کو فوری طور پر سیل کر دیا جائے جہاں سے شیولنگ ملا ہے اور سیل کی گئی جگہ پر کسی بھی شخص کا داخلہ ممنوع ہو گا۔‘

مگر یہ شیولنگ کیا ہے؟

واضح رہے کہ ہندو شیولنگ کو بھگوان شیو کی علامت اور تخلیق کائنات کے منبع کے طور پر پوجتے ہیں۔ ہندو روایت میں یہ ہر طرح کی تخلیق اور قوت تخلیق کی علامت ہے۔

ہم نے ہندو مذہب کے عالم اور معروف صحافی مدھوکر اپادھیائے سے شیولنگ کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ شیو یا شوا ہندو مذہب کے تین اہم ترین بھگوانوں میں سے ایک ہیں۔ ایک برہما بھگوان ہیں جنھیں ہندو مذہب میں خالق کائنات تصور کیا جاتا ہے جبکہ دوسرے وشنو ہیں جنھیں چیزوں کو برقرار رکھنے والا کہا جاتا ہے جن کے اوتار میں رام اور کرشن شامل ہیں، جبکہ تیسرے مہیش ہیں جو دراصل شیو ہیں اور ان کو شنکر، مہادیو اور بھولے جیسے کئی ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے اور انھیں دنیا کو ختم کرنے کی طاقت یا پوری قوت والا بھگوان تصور کیا جاتا ہے۔

ہندو روایت میں شیو کی آمد کافی دیر سے ہوتی ہے اور انھیں غیر آریائی دیوتا تصور کیا جاتا ہے۔ مدھوکر اپادھیائے کا کہنا ہے کہ ابھی تک کا معلوم سب سے قدیم شیولنگ مندر مدھیہ پردیش کے امرکنٹکا مندر میں ہے جہاں آٹھوی صدی عیسوی کے آدی شنکراچاریہ نے اس کی پوجا کی تھی۔ یہ اب زمین کے نیچے گہرائی میں چلا گیا ہے اس لیے وہاں جانا کافی مشکل کام ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شمالی ہندوستان میں شیوا کی پوجا یا عبادت کی زیادہ روایت رہی ہے جبکہ مشرقی ہندوستان میں شکتی کی علامت دیویوں کا زیادہ زور رہا ہے چاہے وہ درگا ہو کہ کالی یا پھر آسام کا کامکھیا کا معروف مندر، جبکہ مغرب میں وشنو کا غلبہ رہا ہے اور جنوب میں شیو اور وشنو دونوں کی ملی جلی اہمیت ہے۔

گیان واپی مسجد کے گرد سکیورٹی انتظامات

گیان واپی مسجد کے گرد سکیورٹی انتظامات

گیان واپی مسجد تنازع کیا ہے؟

یہ مسجد ایک زمانے سے تنازع کا شکار رہی ہے جبکہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے دفتر سے جاری کردہ پریس نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ’گیان واپی مسجد بنارس، مسجد ہے اور مسجد رہے گی، اس کو مندر قرار دینے کی کوشش، فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرنے کی ایک سازش سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہ تاریخی حقائق کے خلاف اور قانون کے مغائر ہے۔‘

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ سنہ 1937 میں دین محمد بنام اسٹیٹ سیکریٹری میں عدالت نے زبانی شہادت اور دستاویزات کی روشنی میں یہ بات طے کر دی تھی کہ یہ پورا احاطہ مسلم وقف کی ملکیت ہے اور مسلمانوں کو اس میں نماز پڑھنے کا حق ہے۔ عدالت نے یہ بھی طے کر دیا تھا کہ متنازع اراضی کا کتنا حصہ مسجد ہے اور کتنا حصہ مندر ہے اور اسی وقت وضو خانہ کو مسجد کی ملکیت تسلیم کیا گیا۔

پریس نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’مسجد کی انتظامیہ سول کورٹ کے اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کر چکی ہے۔ سپریم کورٹ میں بھی یہ مسئلہ زیر سماعت ہے، لیکن ان تمام نکات کو نظر انداز کرتے ہوئے سول عدالت نے پہلے تو سروے کا حکم جاری کر دیا اور پھر اس کی رپورٹ قبول کرتے ہوئے وضو خانہ کے حصہ کو بند کرنے کا حکم جاری کر دیا، یہ کھلی زیادتی ہے اور قانون کی خلاف ورزی ہے جس کی ایک عدالت سے ہرگز توقع نہیں کی جا سکتی۔‘

ہم نے اس بابت جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد پروفیسر نجف حیدر سے دریافت کیا تو انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ یہ مسجد مغل بادشاہ اورنگزیب کے عہد میں مندر توڑ کر بنائی گئی تھی۔ اس کے دستاویزی شواہد بھی ہیں اور جب میں وہاں گیا تھا تو تعمیر سے بھی اس کا اظہار ہوتا تھا۔‘

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر مغل بادشاہ اورنگزیب نے اسی مندر کو کیوں تڑوایا اور اس کی جگہ مسجد کیوں تعمیر کروائی۔

انھوں نے کہا کہ اس کا کوئی خاطرخواہ جواب اب تک نہیں مل سکا ہے۔ حالانکہ یہ دستاویزات سے ثابت ہے کہ اورنگزیب نے بہتیرے مندر اور مٹھوں کو گرانٹس فراہم کیں، متھرا کے مندر کی تعمیر بھی کرائی لیکن اس خاص مندر کو توڑنے کی آخر کیا وجہ تھی، اس کا حتمی جواب ابھی کسی کے پاس نہیں ہے، زیادہ تر مؤرخ اس کے پس پشت سیاسی اسباب بتاتے ہیں۔

پروفیسر نجف حیدر نے کہا کہ یہ جو تازہ تنازع ہے اس کا تاریخ سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ یہ ہندو شناخت کی بحالی کا معاملہ ہے۔ یہ صرف گیان واپی مسجد یا متھر کے عیدگاہ تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے تحت تاج محل کے متعلق بھی سوال اٹھایا گیا کہ اس کا سروے کرایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ سنہ 1991 کے مذہبی عبادت گاہوں کے قانون کے بعد اس طرح کی کئی بار کوشش کی گئی لیکن اسے مسترد کر دیا گیا لیکن اب سروے کے بہانے از سر نو دعویٰ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تاج محل کے 22 مقفل کمرے کھلوانے کی درخواست: ’وہاں ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں ہیں‘

کیا ایودھیا کی طرح کاشی متھُرا میں بھی ہندوؤں کے حق میں فیصلہ ہو سکتا ہے؟

انھوں نے کہا کہ اب نہ صرف سنہ 1991 کا مذہبی عبادت گاہوں کے قانون کے خلاف عدالت میں عرضی داخل ہے بلکہ سول کورٹ کے تازہ حکم کے خلاف بھی عرضی داخل کی گئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ تاج محمل کے بارے میں جج نے واضح طور پر کہا تھا کہ یہ معاملہ تاریخ دانوں کا ہے اور بند کمروں کو کھلوانے کی عرضی کو مسترد کر دیا تھا۔ اسی طرح اس معاملے میں بھی ہونا چاہیے لیکن آج ہی خبر ملی ہے کہ متھرا میں بھی سروے کرائے جانے کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔

انجمن انتظامیہ مساجد کے وکیل رئیس احمد

انجمن انتظامیہ مساجد کے وکیل رئیس احمد

شیولنگ ملنے کا دعویٰ کرنے والی درخواست

عدالت نے یہ حکم ایڈوکیٹ ہری شنکر جین کی درخواست پر دیا ہے جس میں انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ کمیشننگ کی کارروائی کے دوران شیولنگ مسجد کمپلیکس کے اندر سے ملا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ یہ بہت اہم ثبوت ہے، اس لیے سی آر پی ایف کمانڈنٹ کو اسے سیل کرنے کا حکم دیا جائے۔

درخواست میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ ڈی ایم کو وہاں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگانے کا حکم دیا جائے۔ صرف 10 مسلمانوں کو نماز پڑھنے کی اجازت دی جائے اور انھیں بھی فوری طور پر وضو کرنے سے روک دیا جائے۔ مدعیان کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملنے والے شیولنگ کو محفوظ کرنا بہت ضروری ہے۔

ہندو فریق نے دعویٰ کیا ہے کہ گیانواپی مسجد میں ایک جگہ سے 12 فٹ کا شیولنگ ملا ہے اور اس کے علاوہ تالاب سے کئی اور اہم شواہد بھی ملے ہیں۔

اس سے قبل پانچ خواتین نے عدالت میں عرضی داخل کرکے گیانواپی مسجد کے عقبی حصے میں ماں شرنگر گوری کی پوجا اور درشن کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس کے ساتھ انھوں نے پلاٹ نمبر 9130 کے معائنے اور ویڈیو گرافی کا بھی مطالبہ کیا تھا جسے منظور کرتے ہوئے عدالت نے اس کی معائنہ اور ویڈیو گرافی کا حکم دیا۔

انجمن انتظامیہ مسجد کا ردعمل؟

اس معاملے میں انجمن انتظامیہ مساجد بنارس کے وکیل رئیس احمد نے الزام لگایا ہے کہ اس درخواست پر انجمن کو اپنا کیس پیش کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔

انھوں نے بی بی سی کے نمائندے اننت جھنانے کو بتایا کہ وہ خود عدالت گئے اور یہ حکم دیکھا۔ پیر کو سروے کی کارروائی صبح 10:40 تک جاری رہی اور وہاں سے دستخط کرتے ہوئے 11 بج گئے۔

وضو خانے کے حوض میں شیولنگ کے دعوے کے بارے میں رئیس احمد کہتے ہیں ’جسے وہ شیولنگ کہتے ہیں وہ ایک وضو خانے کے حوض کے اندر نصب فوارہ ہے جو نیچے سے چوڑا اور اوپر تنگ ہوتا ہے۔ اس کی شکل شیولنگ جیسی ہوتی ہے۔ اس فوارے کو شیو لنگ کہا جا رہا ہے۔ اور اسی کی بنیاد پر سارا ہنگامہ کھڑا کیا گیا ہے۔‘

سوشل میڈیا پر اس سلسلے میں گيانواپی اور شیولنگ دونوں ہیش ٹیگ کئی دنوں سے ٹرینڈ کر رہے ہیں اور بہت سے صارفین ایسے فواروں اور عمارتوں کی تصاویر شیئر کر رہے ہیں جو شیو لنگ کے مشابہہ ہوں جبکہ سخت گیر ہندو گیانواپی مسجد کے ساتھ دوسری ایسی مساجد کی بازیابی کا مطالبہ کر رہے ہیں جو ان کے خیال میں کبھی مندر ہوا کرتے تھے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 24790 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments