حادثاتی رفاقت، خضدار سے کراچی: حادثوں کا سبب نیند یا نشہ؟


فلائنگ کوچ اپنی رفتار سے رواں دواں ہے۔ بس کے مین اسٹاپ سے یہاں تک پہنچتے پہنچتے کافی وقت گزر چکا ہے۔ رات بھی گہری ہو چکی ہے۔ زیادہ تر مسافر، پہیوں کی مسلسل حرکت کے سبب لگنے والے جھٹکوں کے نتیجے میں کافی حد تک تھک چکے ہیں۔ بیشتر غنودگی یا نیند کی کسی نہ کسی نوعیت سے دوچار دکھائی دیتے ہیں۔ ڈرائیور نے خود کو اس کیفیت سے بچانے اور چاق و چو بند رکھنے کے لئے ٹیپ ریکارڈر کا والیم اپنی پسند کے مطابق خاصا بلند کیا ہوا ہے۔

ایک کے بعد دوسرا، اور پھر اس کی جگہ ایک اور نغمہ لے لیتا ہے مگر مسافروں کی ظاہری حالت بتا رہی ہے کہ ان میں سے شاید ایک دو بھی ایسے نہیں جو اس لمحے ان گانوں سے کسی قسم کا لطف اٹھانے پر آمادہ ہوں۔ خود ڈرائیور بھی اس طرف اتنا متوجہ نہیں سوائے اس کے کہ ان گانوں کی آواز شاید اس کے اندر یہ احساس اجاگر کرنے میں معاون ہو کہ میں باقیوں کی طرح راستوں سے لاتعلق نہیں۔

اس وقت، نہ کسی کو یہ جاننے میں دلچسپی ہے کہ سفر کتنا کٹ چکا ہے اور نہ ہی انھیں اس بات کی خبر ہے کہ کوچ اس وقت کہاں سے گزر رہی ہے۔ سب اپنے ( اور دوسروں ) سے بے خبر، بے خودی کے عالم میں نیند سے الجھنے کی کیفیت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کوچ کی رفتار، مسافروں کو منزل تک پہنچانے کی تڑپ میں ہوا سے باتیں کر رہی ہے اور یہ اچانک۔ یہ کیا ہوا۔ کہ کوچ ایمرجنسی بریک کے ساتھ شدید ہچکولوں کے بعد رک گئی ہے۔ یہ اتنا غیر متوقع تھا کہ سارے ہی مسافر اپنی اگلی نشستوں سے جا ٹکرائے ہیں اور کوئی مسافر ایسا نہیں جسے کم یا زیادہ چوٹ نہ آئی ہو۔

خوف، پریشانی اور تجسس سے سب آنکھیں ملتے، وجہ جاننے کے منتظر ہیں۔ کوچ کے اگلے حصے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ڈرائیور بری طرح زخمی ہے۔ لوگوں کی بھنبھناہٹ میں یہ پیغام بہت تیزی سے سب تک پہنچ چکا ہے کہ گاڑی کو پہنچنے والے نقصان اور ڈرائیور کے شدید زخمی ہونے کی وجہ سے، اب یہ کوچ، کراچی جانے کے قابل نہیں اس لئے جس کو، جو لفٹ ملے، وہ اپنے لئے قسمت آزمائی کرے۔

سب کوچ سے ایک ایک کر کے اتر چکے ہیں۔ ڈرائیور کو کسی قریبی ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کسی نے بتایا کہ جہاں یہ حادثہ ہوا ہے، یہ خضدار کا علاقہ ہے۔ افراتفری کا وہ عالم ہے کہ سب ایک دوسرے سے لاتعلق، ان راستوں سے گزرنے والی ٹرانسپورٹ کے مل جانے کی جستجو میں سڑک کے مختلف مقامات پر نظر جمائے کھڑے ہیں۔ جوں ہی کوئی گاڑی رکتی ہے، ہاتھ دے کر روکنے والا اس میں سوار ہو جاتا ہے۔

اب وہ ٹرک مقابل ہے جس نے اس مشکل گھڑی میں حادثاتی رفاقت فراہم کرنی ہے۔ مدعا سن کر، لمحے بھر کے توقف کے بغیر، آمادگی ظاہر کی گئی۔ ٹرک میں بیٹھتے ہی خضر راہ نے ان الفاظ میں اپنے جذبات کا بہت بے چار گی سے اظہار کیا ”آپ نے بھی سنا ہو گا، لوگ کہتے ہیں ہم ٹرک ڈرائیور نشہ بہت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے حادثات بھی ہوتے ہیں۔ آج پتہ چل جائے گا کہ یہ حادثات نشے سے نہیں، نیند کی وجہ سے ہوتے ہیں“ ۔

ٹرک چل پڑا ہے۔ ٹرک ڈرائیور کی تھکن اور بوجھل پن اس کے چہرے سے نمایاں ہے۔ نہیں معلوم یہ کتنی طوالت اور مسافت کے بعد یہاں پہنچا ہے۔ یہ پہلا تاثر تھا جس نے اپنی جگہ بنائی مگر ایک اجنبی ( اور اتنے کم وقت کے اجنبی ) سے ایسے سوالات، کسی کی ذاتی زندگی میں بلاوجہ کی مداخلت محسوس ہوتی ہے لہٰذا یہ پس منظر جاننے کی خواہش، اس موقع پر اتنی مناسب نہ لگی۔ ہاں اتنا پوچھنا تو بنتا تھا کہ اگر وہ نیند کی حالت میں ہے، تو اسے ایسا کرنے سے کون روکتا ہے۔ اس سوال پر ٹرک ڈرائیور نے ٹرک کے سامنے والے شیشے سے پیچھے دیکھتے ہوئے کہا ”یہ جو پیچھے ٹرک آ رہا ہے، ماموں کا ہے اور میں اس سارے سفر میں، اس سے کئی دفعہ کہہ چکا ہوں کہ مجھے ایک آدھ گھنٹہ کہیں سونے دو، میں بہت تھک چکا ہوں، مگر اس کی ضد ہے کہ اب کراچی جا کر ہی سونا ہے“

ٹرک اپنی مخصوص رفتار سے رواں ہے اور اب ٹرک ڈرائیور کی تھکن کا براہ راست مشاہدہ، اس کی برابر کی نشست پر بیٹھ کر عملی طور شروع ہو گیا ہے۔ وہ واقعتاً اس قدر تھکا ہوا ہے کہ غنودگی کے جھٹکوں کو چھپانا اس کے اختیار میں نہیں۔ اس عالم میں اس نے نیند بھگانے کا یہ، خود ساختہ نسخہ ضرور سمجھایا کہ جوں ہی نیند کا حملہ شدید ہو، سامنے پڑے سیب اس کے منہ میں ڈال دیے جائیں۔ یہ ترکیب کسی قدر کارگر تھی کہ سیب کھانے کے بعد ، کچھ دیر تک وہ اچھی طرح آنکھیں کھول کے، مقابلتاً زیادہ ہوش مندی اور یکسوئی سے اسٹیئرنگ پر اپنے ہنر کا مظاہرہ کرنے کے قابل ہو جاتا۔ گو اس عمل کا دورانیہ بہت طویل نہ ہوتا تاہم سیب کا اگلا لقمہ مزید بیداری کے لئے پھر کارآمد ہو جاتا۔

اس آنکھ مچولی میں یہ آزمائشی سفر جیسے تیسے آگے بڑھتا رہا اور سیب کا مسلسل استعمال بھی جاری رہا۔ سیدھی سڑک تو، شاید اس حالت میں ڈرائیونگ کے لئے بہر طور کچھ نہ کچھ مددگار تھی کہ راستے یقیناً آزمودہ ہوں گے۔ آزمودہ نہ بھی ہوں، اسٹیئرنگ خود بھی اس کے مضبوط ہاتھوں کے سہارے ٹرک کو سیدھا لے جانے میں کسی قدر اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ ادھر وقفے وقفے سے نیند کے ہچکولے مستقل حملہ آور ہوتے رہے اور بالآخر جس کا خوف تھا، وہ مرحلہ آن پہنچا یعنی ایک موڑ درپیش تھا اور نیند کی جس کیفیت ( اور ٹرک کی جس رفتار میں ) موڑ کاٹنے کی کوشش کی گئی، اب اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ اجنبیت کے بھرم کو ختم کر کے نیند میں ڈوبے ڈرائیور کو جھنجھوڑ دیا جائے۔ اس فوری اور بے تکلفانہ عمل نے، وہ کر دکھایا، جو اگر نہ کیا جاتا تو یہ قیاس مشکل ہے کہ دوسری صورت میں اس ٹرک اور ٹرک پر سوار، کس صورت حال سے دوچار ہوتے۔

اب منزل کے آنے میں زیادہ سفر نہیں بچا تھا۔ اوپر سے اس موڑ نے حالات کی سنگینی کا بھی بتا دیا، جس کا خود ڈرائیور کو زیادہ شدت سے احساس ہو چکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے ٹرک ایک طرف کھڑا کیا اور پچھلے ٹرک کو بھی رکنے کو کہا۔ وہ جب واپس آیا تو پتہ چلا کہ اب بھی ماموں کے ارادے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے، بلکہ اس دلیل میں پہلے سے زیادہ شدت آ گئی ہے۔ ماموں کے خیال میں اب تو منزل قریب ہے، پھر پڑاؤ کیوں ڈالیں۔

ٹرک پھر چل پڑا، تمام تر اندیشوں اور خدشات کے ساتھ۔ ڈرائیور کی نیند کی کیفیت میں بہ ظاہر ایسی کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، مگر موڑ کاٹنے کے تجربے کے بعد سے، احساس ذمہ داری میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ راستے میں دور دور تک کوئی ہوٹل بھی نہیں کہ چائے پی کر نیند ٹالی جائے اور غنودگی سے جان چھڑائی جائے۔ اب صبح کی آمد آمد ہے، اجالا پھیلنے لگا ہے۔ اس سے فوری فائدہ یہ ہوا ہے کہ راستہ نسبتاً زیادہ واضح دکھائی دینے لگا ہے۔ اب یوں محسوس ہوتا ہے کہ خطرات کے امکانات پہلے سے شاید کم ہو سکیں۔

یہاں ڈرائیور کے طرز عمل کے حوصلے سے، یہ کہنا بھی ہرگز غلط نہ ہو گا کہ جس قدر انسانی سطح پر ممکن تھا، ٹرک ڈرائیور نے پوری توانائی سے نیند کا مقابلہ کیا۔ اب جبکہ یہ احساس بڑھنے لگا ہے کہ حب قریب آ رہا ہے، ڈرائیور نے، بلاشبہ، دوڑ میں حصہ لینے والے اس کھلاڑی جیسی ہمت، یکسوئی اور دل جمعی دکھائی، جسے کامیابی کی لکیر عبور کرنے میں بس تھوڑا ہی فاصلہ رہتا ہو۔

حب کے بس اڈے پر داخل ہوتے ہوئے ڈرائیور کے چہرے پر بلا کا اطمینان، بہ خوبی دیکھا جا سکتا تھا۔ یہ جہاں، طویل آزمائش سے باہر نکل آنے کا اظہار ہے، وہاں اس میں منزل پر پہنچ کر اس نیند سے ہمکنار ہونے کی خوشی بھی شامل ہے جسے نہ جانے وہ کتنی دیر سے ملتوی کرنے کا پابند کیا جا چکا تھا۔ ساتھ ہی حب پہنچنے پر سب کو یہ اطمینان بھی تھا کہ یہاں اب، آب حیات کی صورت، چائے بھی میسر ہوگی۔

تین چائے کے آرڈر کے بعد اس حادثاتی رفاقت کے اختتام کا وقت بھی آ چکا تھا۔ جس ناگہانی مشکل میں اور جس ویرانے سے اس اتفاقی ساتھ کا آغاز ہوا تھا، احسان مندی کے اظہار کے لئے سارے الفاظ ناکافی تھے۔ اس بوجھ میں اس لمحے کئی گنا، اور اضافہ ہو گیا جب انسانی جذبات کو ہی تشکر ( اور تعلق) کے لئے کافی گردانا گیا اور کسی نوعیت کی مالی پیشکش، ناقابل قبول قرار دے کر، یکسر مسترد کر دی گئی۔

Facebook Comments HS