بحران میں گھرے سری لنکا کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے انڈیا کیا کر رہا ہے؟

نتن سری واستو - بی بی سی ہندی کولمبو


A worker stacks cartons of essential medicines to be shipped to Sri Lanka amid the country's ongoing economic crisis, in Chennai on May 15, 2022
سری لنکا کو قرض دینے والے ملک میں انڈیا آگے آتا جا رہا ہے
گذشتہ 15 سالوں سے، انڈیا اور چین بحرہِ ہند میں دفاعی نقطۂ نظر سے اہم سری لنکا کے ساتھ سازگار سفارتی اور تجارتی تعلقات کے لیے کوشاں ہیں۔

عام تاثر یہ ہی ہے کہ اس دوڑ میں چین کو اس ضمن میں انڈیا پر سبقت حاصل ہے۔ سری لنکا میں حالیہ معاشی اور سیاسی بحران نے انڈیا کی خارجہ پالیسی کو جزیرہ نما ملک میں ایک نئی زندگی فراہم کی ہے۔

اس وقت سری لنکا 1948 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے بدترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ ملک مظاہروں سے لرز اٹھا ہے کیونکہ لوگ بڑھتی ہوئی قیمتوں، خوراک اور ایندھن کی قلت پر غصے میں ہیں۔

گذشتہ ہفتے، مہندا راجا پاکسے نے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جب ان کے حامیوں کی پرامن مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں، جس نے 9 مئی کو تشدد کی لہر کو جنم دیا۔

وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے والے رانیل وکرما سنگھے نے کہا کہ ملک کے معاشی مسائل بہتر ہونے سے پہلے مزید خراب ہوں گے۔ انھوں نے انڈیا سمیت بیرونی ممالک سے مالی مدد کی اپیل کی۔

انڈیا سری لنکا کو کبھی بھی بڑا قرض دہندہ نہیں رہا۔ اس کے برعکس چین 2019 کے آخر تک سری لنکا کے قرض خواہوں میں ایک بڑا ملک بن گیا تھا اور سری لنکا کے مجموعی بیرونی قرضوں کا دس فیصد چین سے حاصل کیے قرضوں پر مشتمل تھا۔

2021 کے اوائل میں، معاشی بحران کے بڑھنے کے ساتھ، سری لنکا کی حکومت نے اپنی غیر ملکی زرمبادلہ کی کمی سے نمٹنے کے لیے چین سے دس ارب یوآن کی کرنسی سویپ یا تبادلے کی سہولت بھی حاصل کی تھی۔

لیکن اب، انڈیا آہستہ آہستہ سری لنکا کو امداد فراہم کرنے والے سب سے بڑے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔

کولمبو کے غیر ملکی قرضوں 51 ارب ڈالر کے قریب ہیں۔ اس سال، ان قرضوں اور ان پر سود کی رقم ادا کرنے کے لیے سری لنکا کو اس سال سات ارب ڈالر درکار ہوں گے اس کے علاوہ آنے والے برسوں میں بھی ہر سال اتنی رقم چاہیے ہو گی۔

سری لنکا ایندھن جیسی ضروری درآمدات کی ادائیگی کے لیے 3 بلین ڈالر کے ہنگامی قرضے بھی مانگ رہا ہے۔

ادھر عالمی بینک نے اسے 600 ملین ڈالر قرض دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے، انڈیا نے 1.9 ارب ڈالر کا وعدہ کیا ہے اور وہ درآمدات کے لیے مزید 1.5 ارب ڈالر قرض دے سکتا ہے۔

دہلی نے 65,000 ٹن کھاد اور 400,000 ٹن ایندھن بھی بھیجا ہے جبکہ مئی کے آخر میں ایندھن کی مزید ترسیل متوقع ہے۔ اس نے مزید طبی سامان بھی بھیجنے کا عہد کیا ہے۔

بدلے میں، انڈیا نے ایک معاہدہ کیا ہے جو انڈین آئل کارپوریشن کو برطانوی ساختہ ٹرنکومالی آئل ٹینک فارم تک رسائی کی اجازت دے گا۔

انڈیا کا مقصد ٹرنکومالی کے قریب 100 میگاواٹ کا پاور پلانٹ تعمیر کرنا ہے۔

انڈیا کی مدد پر ملے جلے جذبات

سری لنکا میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ کولمبو میں انڈیا کی بڑھتی ہوئی موجودگی کا مطلب ’خودمختاری کو کمزور کرنا‘ ہو سکتا ہے۔

سری لنکا کی بڑی سیاسی جماعت سوشلسٹ پارمی کے رہنما پابودا جیا گوڈا نے انڈیا کی طرف سے پیش کردہ امداد کے بارے میں کہا کہ ’گذشتہ ڈیڑھ سال سے سری لنکا میں بحران ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ انڈیا نے اسے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا ہے۔ ہاں، انہوں نے کچھ کریڈٹ، کچھ دوائیں اور خوراک دی لیکن [وہ] دوست نہیں ہیں۔ انڈیا کاایک پوشیدہ سیاسی ایجنڈا ہے۔‘

انڈیا سے ملنے والی امداد کے بارے میں دوسری جماعتوں کا نظریہ مختلف ہے۔

کولمبو میں پیاز درآمد کرنے والے وی رتناسنگھم کہتے ہیں ’اپنی پریشانیوں کے لیے انڈیا کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں۔‘

’ہمیں اب بھی انڈیا سے مناسب قیمت پر پیاز مل رہا ہے اور وہ بحران کے وقت ہمیں کریڈٹ دے رہے ہیں۔ یہ سری لنکا کی حکومت کی ناکامی ہے کہ پیاز کی قیمتیں تین گنا بڑھ گئی ہیں۔‘

سری لنکا کے چین کے ساتھ تعلقات کے پس منظر میں اس وقت انڈیا کے ارادوں پر شکوک پیدا ہوتے ہیں۔

مہندا راجا پاکسے کے 2005 میں صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد، سری لنکا کا چین کی طرف جھکاؤ ایک ترجیح سمجھا جاتا تھا جو کہ ملکی اقتصادی ترقی کے لیے ایک زیادہ قابل اعتماد ملک سمجھا جاتا تھا۔ زیادہ سے زیادہ بنیادی ڈھانچے کے منصوبے، بشمول کئی ارب ڈالر کی مالیت سے تعمیر ہونے والی ہمبنٹوٹا کی بندرگاہ اور کولمبو-گال ایکسپریس وے، چین کو سونپ دیے گئے۔

چینی صدر شی جن پنگ کا 2014 میں کولمبو کا پہلا دورہ بھی دہلی کے لیے ایک واضح سفارتی اشارہ تھا۔

ہمبنٹوٹا کو آج کل عام طور پر ’سفید ہاتھی‘ کہا جاتا ہے جس نے سری لنکا کی معیشت کا خون بہایا۔ اسی طرح کئی دوسرے مہنگے منصوبے بھی ہیں جنہوں نے سری لنکا کو چینی قرضوں کے ایک بڑے چکر میں ڈال دیا۔

کولمبو کے گال فیس گرین میں بہت سے حکومت مخالف مظاہرین اس بات پر قائل ہیں کہ تیزی سے جدید بنانے کے اس دباؤ نے سری لنکا کو اس کی موجودہ صورتحال تک پہنچا دیا۔

ملک چین کا 6.5 ارب ڈالر کا مقروض ہے اور قرضوں کی ادائیگیوں کے نئے نظام الاوقات پر بات چیت ہو رہی ہے۔

جبکہ چین نے اس سے قبل سری لنکا کے غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو یوآن کے بدلے روپیہ تبدیل کرنے پر اتفاق کیا تھا، اس کے بعد اس نے مدد کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) سے رابطہ کرنے پر کولمبو پر ناراضگی کا اشارہ دیا ہے۔

44 سالہ نورا نور نے اپنے خاندان کے ساتھ گالے فیس میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں، اور مہندا کے چھوٹے بھائی صدر گوتابایا راجا پاکسے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’تمام چینی پیسہ جو آیا اس کا کبھی حساب نہیں تھا، ٹھیک ہے؟ ورنہ میرا ملک ادائیگیوں میں کیوں نادہندہ ہوتا؟ اب تمام سپلائی انڈیا سے آرہی ہے، تو میرا سوال یہ ہے کہ ہم کس پر اعتماد کریں – چین یا انڈیا؟‘

پھر بھی، کچھ پرامید ہیں جو محسوس کرتے ہیں کہ سفارت کاری سے مدد ملے گی۔

Anti-government demonstrators take part in a protest near the President's office in Colombo on May 10, 2022. - Fresh protests erupted in Sri Lanka's capital on May 10, defying a government curfew after five people died in the worst violence in weeks of demonstrations over a dire economic crisis

مظاہرین کی اکثریت کا خیال ہے تیزی سے ترقی کرنے کی خواہش سے موجودہ بحران پیدا ہوا ہے

انڈیا میں سری لنکا کے سابق ہائی کمشنر آسٹن فرنینڈو نے جزیرہ اخبار میں اپنے ایک مضمون میں سوال کیا کہ کیا سری لنکا کو چین کے ساتھ ٹکراؤ کے راستے پر رکھا جا رہا ہے؟ اگر ایسا ہے تو، ہمیں پیدا ہونے والے دیگر منفی حالات کی وجہ سے ایسے واقعات سے بچنے کی ضرورت ہے۔ تعلقات میں توازن رکھنا ضروری ہے۔‘

انڈیا کی کوششیں

انڈیا نے چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے مقابلہ کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے جسے وہ اپنے پڑوسی کے طور پر دیکھتا ہے۔

2014 میں صدر شی کے دورے کے بعد، انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے نہ صرف اگلے سال کولمبو کا دورہ کیا بلکہ سری لنکا کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے ’بہترین دوست‘ ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔

سری لنکا کے سابق کرکٹر ارجونا راناٹنگا جو کابینہ کے وزیر بن گئے، یاد کرتے ہیں کہ جب وہ دفتر میں تھے تو انڈیا فراخدل تھا۔

’میں 2015 میں پٹرولیم اور بندرگاہ دونوں وزارتیں سنبھال رہا تھا اور ہم فنڈز کی کمی کی وجہ سے جافنا ہوائی اڈے کی تعمیر کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ میں مدد کے لیے دہلی گیا تھا۔ وزیر اعظم مودی کی حکومت نے سبسڈی والے قرض کی پیشکش کی اور بعد میں اسے گرانٹ میں تبدیل کر دیا۔ اور کیا آپ پڑوسی سے چاہتے ہیں؟‘

2019 میں راجا پکسا کی اقتدار میں واپسی نے، اس بار گوٹابایا کے صدر اور مہندا وزیر اعظم کے ساتھ، بھی انڈیا کو اپنی خارجہ پالیسی کے اختیارات کو دوبارہ متعارف کرایا اور تیل اور غذائی اجناس پر نئے معاہدوں پر عجلت میں دستخط کیے گئے۔

کولمبو اور دہلی کے درمیان ریاستی دوروں کے بعد چین کی طرف سے زیادہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

سری لنکا کے معاشی بحران کے پیچھے کیا ہے؟

سری لنکا کی تامل اقلیتوں کا سوال اور ان کے حقوق کا مطالبہ انڈئا کے ساتھ سفارتی مذاکرات میں سب سے آگے رہا ہے۔

2009 میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد، انڈیا نے سری لنکا کی حکومت کی مدد کی۔

تاہم، سری لنکا نے ابھی تک 1987 کے انڈیا سری لنکا امن معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا ہے جس میں تمام صوبوں کو اختیارات منتقل کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، بشمول جہاں تامل اکثریت میں تھے۔

تاہم، موجودہ اقتصادی بحران کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان دیگر سیاسی معاملات پر پائی جانے والی بدگمانیوں میں یقینی طور پر اضافہ ہوا ہے۔

سری لنکا میں عوامی تاثر میں تبدیلی آئی ہے، جسے انڈیا مخالف اور چین کے حامی کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ انڈیا سے ضروری اشیا کی مسلسل فراہمی کی بدولت۔

کولمبو میں سینٹر فار پالیسی الٹرنیٹیوز کی ایک سینئر محقق بھوانی فونسیکا کہتی ہیں کہ، ’انڈیا تقریباً 15 سال پہلے چین سے ہار گیا تھا لیکن وہ اچھی واپسی کے لیے بھرپور کوشش کر رہا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’سری لنکا میں نسلی اقلیتوں نے ہمیشہ انڈیا کی طرف اپنے مساوی حقوق کے مطالبات کی حمایت کی ہے، جب کہ سنہالی اکثریت کا اب بھی ملا جلا تاثر ہے۔ کچھ لوگوں کو اندرونی معاملات میں انڈیا کی مداخلت پر بھی تشویش ہے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ پچھلے چند ہفتوں نے اس کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔‘


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 25297 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments