سپریم کورٹ ان ایکشن لیکن مسلم لیگ ن کا 2023 میں الیکشن کروانے کا فیصلہ


سابق وزیر اعظم عمران خان کو مسند اقتدار سے نکالنا خاصا مہنگا پڑ رہا ہے۔ پچھلے دو ماہ سے عمران خان فوری انتخابات کرانے جلسہ جلسہ کھیل رہے عمران خان کی باقیات شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی حکومتوں کی سموتھ رننگ کی راہ میں تمام تر ہتھکنڈے اور حربے استعمال کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے نے جہاں منحرف ارکان کے ڈی سیٹ ہو نے بارے میں اپنا فیصلہ جاری کر کے عملاً شہباز شریف حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے وہاں سپریم کورٹ نے تحقیقاتی اداروں کی تفتیش میں حکومتی مداخلت سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران ہائی پروفائل کیسز، خصوصی عدالت اور نیب مقدمات میں تقرر و تبادلوں پر پابندی عائد کردی ہے جب کہ پراسیکیوشن کو ہائی پروفائل مقدمات واپس نہ لینے کا بھی حکم جاری کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا 6 اپریل 2022 کے بعد ای سی ایل سے نکالے گئے تمام نام اور کیسز کا ریکارڈ سیل کر کے پیش کیا جائے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا ہے کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے کیسز میں تفتیشی افسران کے تقرر و تبادلے کس بنیاد پر کیے گئے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ کی جانب سے ٹرائل کورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چار بڑے مقدمات کا ریکارڈ ہی غائب ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر کو تبدیل کر دیا گیا ہے۔ ڈی جی ایف آئی اے اور تفتیشی افسر ڈاکٹر رضوان کو بھی تبدیل کر دیا گیا۔ ڈاکٹر رضوان کو بعد میں ہارٹ اٹیک ہوا، ان معاملات پر عدالت کو سخت تشویش ہے۔ اخبارات کے تراشوں کے مطابق ای سی ایل پر 4663 افراد موجود تھے کہ ای سی ایل کے قواعد میں تبدیلی سے 3 ہزار افراد کا فائدہ ہوا ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا۔ ہم ایسی خبریں ایک ماہ سے پڑھ رہے ہیں۔ اس سے قانون کی حکمرانی پر اثر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے۔ وفاقی حکومت ان اقدامات کی وضاحت کرنے میں تعاون کرے گی۔

ہائی پروفائل کیسز میں سپریم کورٹ نے سرکار کی قانونی ٹیموں کو تبدیل کرنے سے روک کر عملاً بے بس کر دیا ہے۔ حکومتی حلقوں میں یہ رائے پائی جاتی ہے جس حکومت کے پاس تقرری اور تعیناتی کے اختیارات نہ ہو اس سے بہتر ہے۔ حکومت چھوڑ کر عام انتخابات کی طرف جایا جائے لیکن تازہ ترین اطلاع یہ موجودہ حکومت نے عمران خان کے دباؤ کے سامنے کھڑا ہونا اور موجودہ حکومت کو اگست 2023 تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے۔ شہباز شریف بے بس وزیر اعظم رہنا پسند کریں گے جس اپنے اختیارات کے حصول کی جنگ لڑیں گے۔ انہیں جلد اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنا پڑے گا۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے ارکان پارلیمنٹ کے اپنی سیاسی پارٹی کی پالیسیوں سے انحراف سے متعلق آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے حوالے سے دائر صدارتی ریفرنس اور آئینی درخواستوں پر فیصلہ صادر کر دیا ہے۔ تین دو کی اکثریت سے صدارتی ریفرنس نمٹ دیا گیا ہے اور قرار دیا گیا ہے کہ پارٹی پالیسی سے انحراف کرنے کے مرتکب رکن اسمبلی کا ووٹ شمار نہیں ہو گا اس فیصلہ سے جہاں پارٹی سسٹم مضبوط ہو گا۔ وہاں پارٹی صدر کو بے پناہ اختیارات مل گئے ہیں۔ اب کسی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کو ووٹ کی قوت سے ہٹانا ممکن نہیں رہا۔ عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے کسی وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے راستے مسدود کر دیے گئے ہیں۔ جب کسی منحرف رکن کا ووٹ شمار نہیں ہو گا تو اس کا ڈی سیٹ ہونا کیوں ضروری ہے۔ اس سوال کا کہیں جواب نہیں ملتا۔

عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ کا انحراف سیاسی جماعتوں کو غیر مستحکم اور جمہوریت کو ڈی ریل کر سکتا ہے۔ پارٹی پالیسی سے انحراف سیاسی جماعتوں کے لئے کینسر کے مترادف ہے۔ سیاسی جماعتوں کو غیر آئینی حملوں اور توڑ پھوڑ سے محفوظ رکھا جانا چاہیے، سیاسی جماعتوں کے حقوق کا تحفظ ایک رکن کے حقوق سے بالاتر ہے۔ بہر حال سپریم کورٹ نے منحرف رکن کی نا اہلی کی میعاد کا تعین نہیں کیا اس بارے میں معاملہ پارلیمنٹ کو بھیج دیا ہے اور منحرف ارکان کا ڈی سیٹ ہونا ہی برقرار رکھا ہے۔ سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی کی تا حیات نا اہلی بارے درخواست مسترد کر دی ہے۔ کسی رکن کی نا اہلی کتنی مدت کے لئے ہو گی اس بارے میں آئین خاموش ہے۔

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جس کسی رکن اسمبلی کو وزیراعظم پر اعتراض ہے۔ وہ پارلیمنٹ چھوڑ دے، عدالت نے منحرف ارکان کی تاحیات عوامی عہدہ کے لئے نا اہلیت سے متعلق پی ٹی آئی کی آئینی درخواست مسترد کردی ہے۔ کچھ آئینی ماہرین سپریم کورٹ کے صدارتی ریفرنس پر فیصلے کو تشریح قرار دے رہے ہیں۔ حکومت اسے قبول کرے یا نہ کرے جب کہ کچھ کی رائے ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہے۔ اس کو حکومت کو ہر قیمت پر قبول کرنا پڑے گا۔

سپریم کورٹ کے بنچ کے رکن دو جج صاحبان جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ ہمیں اس صدارتی ریفرنس کے ذریعے پوچھے گئے سوالات میں کوئی جان نظر نہیں آتی، آرٹیکل 63 اے ایک مکمل ضابطہ ہے۔ عدالت اس کی تشریح کی مجاز نہیں ہے۔ آرٹیکل 63۔ A کا مقصد انحراف سے روکنا ہے۔ تاحیات نا اہلی پر رائے دینا ہمارے لئے آئین دوبارہ لکھنے کے مترادف ہو گا۔

صدارتی ریفرنس پر سپریم کورٹ کے فیصلے پر پی ٹی آئی کی قیادت ڈفلیاں بجا رہی ہے اور اسے اپنی اخلاقی و سیاسی جیت قرار دے رہی ہے۔ اس فیصلے سے پی ٹی آئی کے باغی ارکان قومی اسمبلی کی پوزیشن پر کوئی فرق نہیں پڑے گا کیونکہ انہوں نے وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد میں ووٹ نہیں دیا ہے البتہ 174 ووٹوں سے بننے والی حکومت نازک شاخ پر قائم رہے گی۔ ہوا کا ذرا سا تیز جھونکا چلنے سے شاخ نازک ٹوٹ سکتی ہے۔ پورا حکومتی ڈھانچہ زمین بوس ہو سکتا ہے۔ لہذا میاں شہباز شریف کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا ہو گا اور ہر مشکل وقت میں راولپنڈی کی طرف دیکھنا ہو گا۔

اکثریتی رائے میں منحرف رکن کی تاحیات نا اہلیت کی سزا کے حوالے سے صدارتی ریفرنس میں پوچھے گئے سوال پر رائے دیتے ہوئے عدالت نے قرار دیا گیا ہے کہ منحرف ارکان کی نا اہلیت کے لئے قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے جب کہ مستقبل میں ممکنہ انحراف روکنے کا سوال عدالت نے صدرمملکت کو واپس بھجواتے ہوئے قرار دیا کہ یہ ایک مبہم سوال ہے۔

فی الحال سپریم کورٹ کا مختصر فیصلہ ہے۔ تفصیلی فیصلہ میں معلوم ہو سکے گا کہ سپریم کورٹ نے کن بنیادوں پر اپنی رائے کا تعین کیا ہے البتہ ایک بات واضح ہے۔ حکومت آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لئے فل کورٹ قائم کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے۔ اکثریتی فیصلے سے اختلاف کرنے والے دونوں فاضل ججوں نے قرار دیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 63 اے ایک مکمل ضابطہ ہے۔ جو پارلیمنٹ کے رکن کے منحرف ہو جانے اور اس کے نتائج سے متعلق ایک جامع طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ اگر الیکشن کمیشن کسی سیاسی پارٹی کے سربراہ کی جانب سے کسی منحرف رکن کے خلاف بھیجے گئے ریفرنس کی تصدیق کرتا ہے۔ تو وہ رکن اس ایوان کا رکن نہیں رہے گا اور اس کے نتیجہ میں وہ نشست خالی ہو جائے گی جب کہ ڈی سیٹ ہونے والا رکن یا وہ سیاسی پارٹی آئین کے آرٹیکل 63 اے کے ذیلی آرٹیکل ( 5 ) کے تحت الیکشن کمیشن کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کا حق بھی رکھتی ہے۔ ہمارے خیال میں سپریم کورٹ کی جانب سے آئین کے آرٹیکل 63 اے کی مزید کوئی تشریح کر آئین کو دوبارہ لکھنے یا پڑھنے کے مترادف ہو گا۔

جسٹس اعجازالاحسن نے ریمارکس دیے ہیں کہ صدر مملکت کو صدارتی ریفرنس کے لیے اٹارنی جنرل سے قانونی رائے لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ آرٹیکل 186 کے مطابق صدر مملکت قانونی سوال پر ریفرنس بھیج سکتے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس ایڈووکیٹ جنہیں حمزہ شہباز حکومت نے اپنے منصب سے ہٹا دیا لیکن وہ تاحال اس بات پر مصر ہیں کہ وہ اس منصب پر فائز ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق منحرف ارکان کا ووٹ تسلیم نہیں ہو گا۔ احمد اویس ایڈووکیٹ کی رائے کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے خلاف گیا ہے۔ میری ذاتی رائے ہے۔ ملک میں دن بدن آئینی بحران شدت اختیار کرتا جائے جو بالآخر جمہوری نظام کی چولیں ہلا کر رکھ دے گا۔

بہر حال حکومت نے چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو ہٹانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔ نیب کے ترمیمی آرڈیننس کی مدت 2 جون 2022 لہذا آرڈیننس لیس ہونے تاریخ سے جسٹس (ر) جاوید اقبال بھی خود بخود فارغ ہو جائیں گے۔ نیب ترمیمی آرڈیننس میں موجودہ چیئرمین نیب کو اگلے چیئرمین کی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کی شق شامل کی گئی تھی۔ شنید ہے۔ عبد الحفیظ شیخ بھی پاکستان واپس آئے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے کہ ان کو کوئی اہم ذمہ داری دینے کے لئے بلایا گیا ہو فی الحال ان کے بارے میں صورت حال واضح نہیں کہ انہیں کس منصب کے لئے پاکستان واپس بلایا گیا ہے۔

اگرچہ پچھلے دو چار روز سے یہ افواہ گردش کر رہی ہی کہ میاں شہباز شریف معاشی صورت حال میں بہتری لانے کے لئے سخت فیصلے کرنے کے لئے اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کے خواہاں ہیں۔ لہذا وفاقی کابینہ نے اصلاحات کے بغیر فوری طور پر الیکشن میں جانے کی مخالفت کر دی ہے اور کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بعد ہی انتخابات ہوں گے۔ حکومتی اتحادیوں نے وزیراعظم کو سخت فیصلوں کا بوجھ اٹھانے کی یقین دہانی کراتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ حکومت اگست 2023 ء تک آئینی مدت پوری کرے گی۔

وفاقی کابینہ نے نیب ترامیم کے لئے وزیرقانون کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی ہے۔ کمیٹی میں وکالت، بینکاری، بیوروکریسی اور دیگر شعبوں سے منسلک نامور شخصیات بھی شامل کیے جائیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ حکومت اگست 2023 تک اپنی آئینی مدت پوری کرے گی۔

اجلاس نے فوری الیکشن کی تاریخ دینے کا عمران خان کا مطالبہ مسترد کر دیا ہے۔ نیب قانون میں مجوزہ ترامیم کے مطابق کرپشن کیسز میں نا اہلی کی مدت 10 سال کی بجائے 5 سال ہو گی۔ 5 سال بعد الیکشن بھی لڑا جا سکے گا۔ کرپشن کیسز میں سزا کے نتیجے میں اپیل کا حق ختم ہونے تک عوامی عہدے پر فائز رہا جا سکے گا۔ نئی ترامیم کے مطابق نیب کا ملزم کو گرفتار کرنے کا اختیار ختم ہو جائے گا۔ گا۔ عدالتی منظوری سے ہی نیب ملزم کو گرفتار کر سکے گا۔

5 سال سے زائد پرانی ٹرانزیکشن یا اقدام کے خلاف نیب انکوائری نہیں کر سکے گا۔ وزیر اعظم اور کابینہ کے ارکان کے خلاف کابینہ کمیٹیوں کے فیصلوں پر نیب کوئی کارروائی نہیں کر سکے گا۔ سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کے خلاف مالی فائدے ثابت کیے بغیر کرپشن کیسز نہیں بن سکیں گے۔ مجوزہ ترامیم کے مسودے پر اتحادی جماعتوں اور پی ٹی آئی سے مشاورت کے بعد حتمی مسودہ کابینہ کو ارسال کیا جائے گا۔ نئی ترامیم سے 7 شقیں ختم کر دی جائیں گی۔ نئی ترامیم کا اطلاق 1985 سے کیا جائے گا۔ نئی ترامیم کا اطلاق انڈر ٹرائل اور زیر تفتیش مقدمات پر ہو گا۔

سیاسی حلقوں موجودہ حکومت جسے قائم ہوئے دو ماہ ہی ہوئے کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ کچھ حلقوں کا کہنا ہے۔ حکومت گرانے سے پہلے اپوزیشن جماعتوں کو سوچنا چاہیے تھا کہ عمران خان کی ناکام حکومت کے بعد معاشی صورت حال کو سنبھال بھی سکے گی۔ نہیں، سابق وزیرداخلہ شیخ رشید احمد جو جملے بازی میں شہرت رکھتے ہیں۔ نے کہا ہے کہ آصف زرداری نے نون لیگ کو لکشمی چوک، فیصل آباد گھنٹہ گھر میں لاکر مارا ہے۔

شیخ رشید احمد سیاسی نجومی کی شہرت رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 30 مئی 2022 ء تک بڑے فیصلے ہو جائیں گے لیکن اکثر پیش گوئیاں غلط ہی ثابت ہوئی ہیں۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار حامد خان نے کہا کہ الیکشن کمیشن پی ٹی آئی اراکین کو منحرف قرار دے دیتا ہے تو حمزہ شہباز کا بطور وزیراعلیٰ الیکشن کالعدم ہو جائے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی وزیراعظم شہباز شریف کو بھی اعتماد کا ووٹ لینے کا کہتے ہیں جس پنجاب کے حالات خراب ہونے پر گورنر راج نافذ ہوتا ہے۔ اس بارے میں کسی بھی وقت کچھ ہو سکتا ہے۔ کے لئے جو رائے دے گی۔ انہیں اس پر عمل کرنا ہو گا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد کسی بڑی پارلیمانی پارٹی کی اکثریت اپنے وزیراعظم کے خلاف بغاوت کرتی ہے۔ تب ہی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو سکے گی۔

Facebook Comments HS