اچھے ”خادم اعلیٰ“، اچھے ”خادم اعظم“ کیوں نہیں پا رہے؟


کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ کہ جس دن شہباز حکومت نے لگژری آئٹمز کی درآمد پر پابندی لگانے کا اصولی فیصلہ کیا، اسی دن حفیظ شیخ ’درآمد‘ ہو کر کراچی کے ہوائی اڈے پر اترے اور ”خاص لوگوں“ کے حفاظتی حصار میں ٹرمنل سے ’برآمد‘ ہوئے، جس سے تاثر یہی قائم ہوا، کہ انہیں کسی ”خاص کام“ انجام دینے کے لیے ایک بار پھر ’صاحبان اختیار‘ نے بلوایا ہے، کیونکہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ’جھنڈے والی گاڑی‘ کے بغیر تو پاکستان میں قدم تک نہیں رکھتے۔ تو اب کی بار بھی (گو کہ ان کا تعلق ملک کے گرم ترین شہروں میں سے ایک ’جیکب آباد‘ سے ہے۔ ) مگر وہ اس تپتی گرمی میں نوابشاہ کی تھادھل، پنجاب کا ستو یا کراچی کا املی آلو بخارے یا تربوز والا شربت تو پینے نہیں آئے ہوں گے ناں! ظاہر ہے کہ اس ’بے موسم برسات‘ کے پیچھے کوئی وجہ تو ہوگی۔

اگر اس مفروضے کو صحیح مان بھی لیا جائے کہ ’اصل مقتدر حلقوں‘ کی جانب سے فوری انتخابات کرانے کی غرض سے سنجیدہ کوششیں جاری ہیں، اور اس سلسلے میں قائم مقام سیٹ اپ کے لیے کچھ ناموں پر غور بھی ہو رہا ہے، اور اگر یہاں تک ماننے کے بعد یہ بھی مان لیا جائے کہ حفیظ شیخ صاحب کی بے وقت آمد اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، تو اس سے مزید بھونڈا فیصلہ کوئی ہو نہیں سکتا، کیونکہ 8 برس پہلے والے وہ حفیظ شیخ، جو یوسف رضا گیلانی کی کابینہ میں وفاقی وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، کی کارکردگی اور اس حفیظ شیخ، جو حال ہی میں حکومت عمرانی میں اسی عہدے پر کام کر رہے تھے، کی کارکردگی میں زمین اور ساتویں آسمان جتنا فرق و فاصلہ ہے، کیونکہ عمران حکومت میں وہ ملک کو سنجیدہ معاشی بحران سے نکالنے میں یکسر ناکام رہے تھے اور اس کے بعد ان کو فارغ کر کے، پہلے چند روز کے لیے حماد اظہر اور بعد میں شوکت ترین کو یہ قلمدان سونپا گیا تھا۔

مگر سابقہ حکومت نے ملک کو اس کمال معاشی بحران میں پھنسا دیا ہے، جس سے نکالنا بڑے بڑے ماہرین معاشیات کے لیے بھی ممکن نہیں رہا۔ اور اب یہ عالم ہے کہ ہم ’آئی ایم ایف‘ کے ساتھ معاہدے کو نہ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی اگل سکتے ہیں۔ عمران خان نے ملک کی منجدھار کو ایسے بھنور میں پھنسا دیا ہے، جہاں سے اگر جلد ناں نکلے تو وہی بھنور کشتی کو ڈبو دے گا اور اگر اس کشمکش سے دھکیل کر کشتی نکال بھی لی، تو کنارے تک پہنچنے سے پہلے کئی اور ہواؤں سے نبرد آزما ہونے کا چیلینج بھی درپیش ہے۔

اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ ہمارا ”ناخدا“ بے سمت دکھائی دیتا ہے، جس میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی کسی سے مستعار لی ہوئی ہمت کے بل بوتے پر کچھ کر گزرنے کا حوصلہ نظر آتا ہے۔ جسے تمام حکومتی اتحاد کی اس یقین دہانی کے باوجود بھی کہ ”قدم بڑھاؤ شہباز شریف۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔“ یہ توفیق نہیں ہو رہی، کہ چند انتہائی اہم ’مشکل اقدامات‘ کر سکیں، وہ بھی ایسی گھمبیر صورتحال میں، جب ہر گزرتا لمحہ معاشی حوالے سے ملک پر بھاری ہو، اور جب ان ’مشکل اقدامات‘ کرنے میں ایک دن کی تاخیر بھی ہمیں مالی حوالے سے مہینوں پیچھے دھکیل رہی ہو۔

مجھ جیسے کئی اذہان میں روز اول سے یہ بات کھٹک رہی ہے کہ ہر وزیراعظم، اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی قوم سے خطاب کر کے انہیں اپنی سمت سے آگاہ کرتا ہے، کہ اس کے شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم پروگرام کیا ہیں۔ اس کا وژن کیا ہے۔ اس کو عوام کے مسائل کا کتنا ادراک ہے۔ اور وہ کن کن عوامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہتے ہیں۔ وغیرہ۔ مگر یہاں تو ڈیڑھ ماہ گزر جانے کے باوجود موصوف نے عوام کو اعتماد میں لینا ضروری سمجھا ہی نہیں۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے فوراً بعد انہوں نے جو ایوان میں اپنا اولین تفصیلی خطاب کیا تھا، قوم ابھی تک اسی پہ اکتفا کیے ہوئے ہے، جبکہ ملکی سیاسی و معاشی صورتحال میں روزبروز تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔

تو وہ شہباز شریف کہاں چھپے ہیں؟ جو پنجاب کے ’خادم اعلیٰ‘ کے طور پر اپنی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں، گڈ گورننس، ’پنجاب اسپیڈ‘ یا ’شہباز اسپیڈ‘ کی وجہ سے اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے؟ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ وہی ”خادم اعلیٰ“ اب ”خادم اعظم“ کے طور پر اپنے آپ کو منوا کر اس ملک کی تقدیر بدل دیں گے اور ان کے انقلابی اقدامات سے تبدیلی خواہ اتنی جلدی رونما ناں بھی ہو، لیکن کم از کم مہینے ڈیڑھ میں ایک سمت کا تعین ضرور ہو جائے گا اور گورننس خواہ معیشت کی گاڑی کچی رہگزر سے نکل کر، ہائی وے پر آ جائے گی۔ پھر چاہے وہ منزل مقصود پر جب بھی پہنچ سکے۔ مگر، ساحر سے معذرت کے ساتھ، ”مگر یہ ہو نہ سکا، اور اب یہ عالم ہے۔ کہ وہ ’خادم اعلیٰ‘ تو نہیں، اس کا سایہ بھی نہیں۔“

اس کی وجہ کیا ہے؟ کہ ”چھوٹے میاں“ اپنی (کم از کم) وہ کارکردگی بھی نہیں دکھا پا رہے؟ جس کے لیے وہ مشہور ہیں۔

معروف ریڈیو براڈکاسٹر نثار میمن کہتے ہیں کہ ”میں کبھی بھی اچھا ’پروڈیوسر‘ نہیں رہا۔ میں ایک اچھا ’ری۔ پروڈیوسر‘ یا ایک عمدہ ’کو پروڈیوسر‘ ہوں۔ یعنی کسی اور کے پیش کیے ہوئے ریڈیو پروگرام کو میں دوبارہ اپنے انداز میں پیش کر سکتا ہوں یا کسی اور پروڈیوسر کی پیشکش میں عمدہ طریقے سے اس کی معاونت کر سکتا ہوں۔“ میرے خیال میں شہباز شریف پر بھی یہ کلیہ صد فیصد پورا اترتا ہے کہ وہ کبھی بھی اچھے لیڈر یا ’پائلٹ‘ رہے ہی نہیں، بلکہ وہ شروع سے ایک اچھے ’کو لیڈر‘ ( ’معاون لیڈر‘ ) یا ایک عمدہ ’کو پائلٹ‘ ہیں۔ کیونکہ یہ یاد رکھنا ضروری ہے، کہ شہباز شریف کے بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب کے دونوں ادوار میں مرکز میں باگ ڈور زیادہ تر عرصہ ”بڑے میاں صاحب“ کے پاس ہی رہی۔ یعنی اصل قیادت کا کردار میاں نواز شریف ادا کرتے رہے، اور ”چھوٹے میاں“ محض ان خطور پر ان کے احکامات پر ”ییس مین“ کا کردار ادا کر کے ان پر عمل درآمد کرتے رہے، اور جیسے جیسے ان کو کہا جاتا رہا، ویسے ویسے وہ کرتے رہے۔

اس سے ان کو یہ بھی بہت بڑا فائدہ رہا کہ ان کو اپنی صوبائی حکومت جانے کا بھی کبھی ڈر نہیں رہا، کیونکہ مرکز میں ان کے بھائی صاحب کی حکومت تھی۔ لیکن اب صورتحال یکسر مخلتف ہے۔ اب وہ وزیراعظم بنے تو ہیں، لیکن ایک بارہ جماعتوں کے اتحاد کی نمائندگی کرتے ہوئے۔ یعنی اب انہیں نہ صرف ہر فیصلہ کرنے سے پہلے لندن کی طرف دیکھنا پڑ رہا ہے، جہاں ان کے وہ ”پائی جان“ بیٹھے ہیں، جنہوں نے ہر دور میں فیصلہ کرنے کا اختیار اپنے پاس رکھا ہے اور شہباز کے پر کتر کر اپنی جیب میں ڈالے ہوئے ہیں، تو دوسری طرف ان بارہ جماعتوں کی طرف بھی دیکھنا پڑ رہا ہے، جن میں سے اگر دو ارکان بھی ادھر ادھر ہو گئے تو اس مخلوط حکومت کا نمک کی بنیادوں پر کھڑا یہ کمزور محل دھڑام سے گر بھی سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ معاشی مسائل کا بوجھ اپنے سر نہ لینے کے نکتۂ نظر سے ’بڑے میاں‘ کا بھی وہی موقف ہے، جس کا پرچار مریم نواز اپنے جلسوں میں چیخ چیخ کر کر رہی ہیں، کہ فوری الیکشن کی طرف بڑھا جائے۔ جبکہ تمام تر اتحادیوں کا خیال ہے کہ انتخابی اصلاحات اور نئی حلقہ بندیوں کے بغیر الیکشن نہیں ہو سکتے۔ (ایم کیو ایم تو قبل از انتخابات نئی مردم شماری کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔ ) اب چھوٹے میاں، بڑے میاں سے ”فوری انتخابات“ کا حکم لے کر جب اتحادیوں کے پاس گئے، تو انہوں نے اس فیصلے کو یکسر رد کر دیا ہیں ہے اور اب اتحادیوں سے انکار ان کے لیے یقیناً ناگزیر ہے۔ اب ایسے میں تذبذب کا شکار، بے پر شہباز، شدید مشکلات کا شکار یہ سوچ رہے ہیں، کہ کس کو انکار کریں اور کس کی مانیں!

مجھے تو اس صورتحال میں شہباز شریف، 9 اپریل 2022 ء والے اسد قیصر لگ رہے ہیں، جن کے سر پر اس دن دوہری تلوار لٹک رہی تھی۔ جن کو اس روز یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ عمران کی ناراضی مول لیں یا توہین عدالت کا طوق اپنے گلے میں ڈالیں۔ بالآخر انہیں اپنے عہدے سے مستعفی ہوجانا آسان لگا۔ موجودہ حالات میں مجھے یہ ڈر ہے کہ موجودہ مخلوط حکومت تو اگست 2023 ء تک اپنی مدت پوری کرے، مگر کہیں ایسا نہ ہو کہ اس سے پہلے ہی شہباز شریف اس دوہری تلوار لٹکنے کے عذاب سے تنگ آ کر، ذاتی حیثیت میں بحیثیت وزیر اعظم ذمہ داریاں ادا کرنے سے معذرت کر لیں اور متحدہ حکومتی اتحاد کو کوئی نیا وزیراعظم نامزد کرنا نہ پڑ جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments