امریکہ، چین اور آزاد خارجہ پالیسی


بابا جی ایک ”زیر تعمیر“ ماہر سیاسیات ہیں جس میں ”وفاقیت“ ان کا خاص موضوع ہے لیکن وہ کسی ریاست کی وفاقیت میں صرف درون خانہ سیاسی حالات پر ہی تحقیق نہیں کرتے بلکہ اس پر بیرونی دنیا کی باہمی کشمکش کے اثرات پر بھی تحقیق ان کا موضوع ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر آپ کے پاس بھی میری طرح کوئی ”بابا جی“ دستیاب ہوں تو آپ بھی ہمہ وقت حالیہ ”امریکی سازش“ اور عالمی طاقتوں کی رسہ کشی کے تناظر میں ان کا دماغ چاٹے رکھیں گے۔ سو اپنا بھی یہی مشغلہ ہے۔ وطن عزیز میں جہاں آج کل ”آزاد خارجہ پالیسی“ کا بہت چرچا ہے وہیں پاکستانی ریاست عالمی طاقتوں کے درمیان توازن کی جستجو میں ہے۔ بابا جی نے کل میرے ساتھ گفتگو میں دونوں موضوعات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

یہ بات تو حتمی ہے کہ پاکستان کی سیاست پر بڑی طاقتوں کی رسہ کشی کا رنگ ہمیشہ سے گہرا رہا ہے۔ کسی بھی ریاست کی خارجہ پالیسی پر تحقیق اس ریاست کے اندر موجود ادارے، فیصلہ ساز افراد، اور ان کے محرکات و مفادات کا تجزیہ کیے بغیر ناممکن ہے۔ نہ ہی اس ملک کے معاشی، سماجی اور سیاسی حالات کا احاطہ کیے بغیر آپ اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ عالمی ترازو کے کس پلڑے میں اس ملک کا وزن ہے۔ بابا جی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی موجودہ پالیسی یعنی بڑی طاقتوں کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش منطقی اور محتاط خارجہ پالیسی ہے جو وقت کی ضرورت ہے۔ یعنی بابا جی کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ”سانڈوں کی لڑائی“ میں حصہ دار بننے کی کوشش نہیں کرنے چاہیے۔

مجھے اس بات کے منطقی وزن سے اختلاف نہیں۔ لیکن میرا استدلال ہے کہ پاکستان کے زمینی حقائق کم از کم تاریخی اور مستقبل کے قلیل مدتی تناظر میں اس کے خلاف ہیں۔ نظر بظاہر دنیا اس وقت طاقت کے تین مراکز میں تقسیم ہو چکی ہے، چین، روس اور امریکہ (بمعہ اہل و عیال) ۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی باہمی چپقلش میں اضافہ ہو گا۔ اور جوں جوں اس میں تیزی آئے گی، پاکستان جیسے ملکوں کا عرصہ حیات بتدریج تنگ ہوتا جائے گا۔

سیاسیات کے بنیادی اصولوں میں سے ایک اصول یہ سمجھا جاتا ہے کہ عالمی اکھاڑہ جائے انصاف نہیں ہے، یہاں جس کی لاٹھی ہے اس کی بھینس ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی طے ہے کہ فی زمانہ عالمی سیاست میں مفادات مقدم ہوتے ہیں، اخلاقیات نہیں۔ یہ باہمی انحصار کا زمانہ ہے، قوموں کے معاملات کچھ لو اور کچھ دو کے تحت چلا کرتے ہیں۔ اس میں جزوی آزادی تو ممکن ہے، مکمل طور پر آزاد خارجہ پالیسی ایک پر فریب اور بعید از حقائق اصطلاح ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ”لیا“ اور ”دیا“ کیا اور کیسے جا رہا ہے؟

عام مشاہدے کی بات یہ ہے کہ امیر و غریب، طاقتور اور کمزور کی کوئی دوستی نہیں ہوا کرتی۔ ”چین اپنا یار ہے“ یہ بات جالبؔ کے شعر تک تو جائز ہے، لیکن کوئی بھی ملک اگر آپ کی مدد کرتا ہے تو بدلے میں اسے کچھ چاہیے ہوتا ہے۔ جہاں تک ”آزاد“ خارجہ پالیسی کا تعلق ہے یہ ہوائی اور کھوکھلے نعروں پر قائم نہیں ہوتی۔ اس کے لئے مضبوط سیاسی، معاشی اور سماجی بنیادیں چاہیے ہوتی ہیں۔ ہماری سیاست ابتدا ہی سے کرسی اور مراعات کے حصول کی خاطر انفرادی، ادارہ جاتی اور مخصوص طبقات کی کشمکش سے عبارت ہے۔ اس مقصد کے لئے اپنے اپنے مفادات کے تحت نظام کے ساتھ تجربہ بازی پر تو توجہ دی گئی لیکن حقیقی مسائل کے حل اور اصلاحات کے راستے میں بوجوہ روڑے اٹکائے گئے۔

ہم نے ہر اہم موڑ پر قلیل مدتی محدود فائدے کے لئے غلط مگر آسان راستوں کا انتخاب کیا اور بڑی طاقتوں کے لئے کرائے کے سپاہی (rentier state) بنے رہے۔ جب بھی ان بڑی طاقتوں کا وقتی مطلب پورا ہوا وہ ہمیں کوڑیوں کے بھاؤ حق المحنت دے کر اور احسان جتا کر چلتے بنے۔ اب آپ جتنا مرضی رویا کیجئے اس کو پھر سے کوئی ضرورت ہو گی تو ہی آپ کی خدمات طلب کرے گا ورنہ آپ ایک فون تک کا انتظار کرتے رہ جائیں گے۔ طاقتور موجر کو نہ آپ اپنی خدمات زبردستی بیچ سکتے ہیں نہ ہی اس سے اجرت طلب کر سکتے ہیں، وہ دے تو بھی اس کا بھلا جو وہ نہ دے تو بھی اس کا بھلا۔

اب صورتحال یہ ہے کہ جہاں امریکہ آپ کی مانتا نہیں ہے، خوش وہاں چین بھی نہیں ہے۔ عالمی مالی ادارے جو امریکی کاسہ لیس ہیں، وہ آپ کو ٹکا دیتے ہوئے بھی عزت ٹکا ٹوکری کر دیتے ہیں۔ جہاں تک چھوٹے موٹے ”برادر“ محسن ملکوں کی بات ہے تو ان کے مفادات بھی بڑی طاقتوں سے وابستہ ہیں، وہ اپنے مفادات کا گلا گھونٹ کر ہمارے اپنے پیدا کردہ مسائل کا بوجھ کیوں اٹھائیں گے؟

ہمارے لئے ایک راستہ تو یہ ہے کہ ہم امریکہ یا چین میں سے کسی ایک کا حتمی انتخاب کر کے اس ”دو کشتیوں کے سوار“ والی گومگو کیفیت سے باہر نکل آئیں تو قلیل مدتی طور پر پھر ایک بار پیسے آسکتے ہیں جو محدود طبقات ہی کے کام آئیں گے، کسی ماجے گامے کے نہیں۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے اس ”خوش فہمی“ کو دل سے نکال دیں کہ امریکہ اسلام یا پاکستان کا کوئی خاص دشمن ہے اور چین (یا روس) کوئی خاص سجن۔ دوسرا اور صحیح راستہ یہ ہے کہ سیاسی اور معاشی اصلاحات اور کمزور طبقات کی مرہم جوئی کے ذریعے حقیقی ترقی اور قوت کا حصول ممکن بنایا جائے۔ تب تک ”آزاد خارجہ پالیسی“ محض ایک کھوکھلا سیاسی نعرہ ہے اور کچھ نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments