لوٹا اور طہارت پارٹی

جب میں پہلی بار فرنگیوں کے دیس میں آیا تو مجھے اس وقت بہت شدید دھچکا لگا جب میں نے ائرپورٹ کے غسل خانے میں مکمل طور پر خشک سالی کا ماحول پایا۔ یعنی غسل خانے میں تمام ”معاملہ“ کھل کھلا کر دینے کے بعد جب آپ کو یہ احساس ہو کہ غسل خانے میں نہ لوٹا ہے نہ پانی تو آپ کا کیا حال ہو گا؟ جی ہاں! اپنی بھی کچھ ایسی ہی کیفیت ہوئی۔ اس موقع پر مجھے

Read more

پاکستانی جمہوریت کی ناکامی

میرے ایک مضمون پر ایک صاحب نے تبصرہ کرتے ہوئے سوال کیا کہ طاقتور قومیں ہم جیسے کمزور ملکوں پر جمہوری نظام کے نفاذ کے لئے زور کیوں ڈالتی رہتی ہیں جب کہ وہ خود غیرجمہوری حکومتوں سے دنیا بھر میں یاری لگاتے اور سودے بازی کرتی پھرتی ہیں۔ ان صاحب کا مزید گلہ یہ بھی تھا کہ جمہوریت کے نفاذ کے یہ مطالبے ہمارے جیسے ملکوں کی تاریخ اور عوام کے مزاج کے برعکس ہیں۔ ہمیں جمہوریت کا تجربہ

Read more

امریکہ، چین اور آزاد خارجہ پالیسی

بابا جی ایک ”زیر تعمیر“ ماہر سیاسیات ہیں جس میں ”وفاقیت“ ان کا خاص موضوع ہے لیکن وہ کسی ریاست کی وفاقیت میں صرف درون خانہ سیاسی حالات پر ہی تحقیق نہیں کرتے بلکہ اس پر بیرونی دنیا کی باہمی کشمکش کے اثرات پر بھی تحقیق ان کا موضوع ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر آپ کے پاس بھی میری طرح کوئی ”بابا جی“ دستیاب ہوں تو آپ بھی ہمہ وقت حالیہ ”امریکی سازش“ اور عالمی طاقتوں کی رسہ کشی کے

Read more

ویڈیوز اور آج کے ٹیپو اور میر جعفر

آج کل کی موبائل اور سٹریمنگ سروسز کو استعمال کرنے والی جنریشن کو شاید اس زمانے کے بارے میں علم نہ ہو جب وی سی آر عام ہوا کرتا تھا اور ہر مارکیٹ میں فلموں کی ایک دو دکانیں ضرور ہوا کرتی تھیں جہاں سے فلمیں کرائے پر دستیاب ہوجاتی تھیں۔ انڈین فلموں پر سرکاری طور پر سینما میں پابندی تھی۔ لیکن اس کے باوجود ان کرائے کی فلموں کی وساطت سے ہندی فلموں کا دھندا کبھی بھی اس پاک

Read more

بابا جی اور دیسی لبرل

جب سے پردیس آیا ہوں بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو زندگی میں پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ میری ایک تحریر پر تبصرہ کرتے ہوئے کسی نے مجھے ”دیسی لبرل“ ہی کہہ دیا۔ میں پہلے پہل تو بہت حیران و پریشان ہوا، سر پیٹ لیا۔ بار بار اٹھ کر آئینے میں اپنا منہ ملاحظہ فرمایا اور سوچا ”یہ منہ اور دیسی لبرل؟“ شکر کیا کہ کسی دل جلے نے ”خونی لبرل“ نہیں کہہ دیا۔ دیار غیر میں کیا

Read more

امریکی فرار اور طالبان کی یلغار

میں صرف علم سیاسیات کا ایک ایسا طالبعلم ہوں جس کو تاریخ سے بھی کچھ دلچسپی ہے۔ میرے کہیں بھی کوئی ”ذرائع“ نہیں۔ اس لئے اس مضمون میں میں معاملات کا اپنی تشخیص کے مطابق ہونے کا دعویٰ نہیں کروں گا صرف چند مضمرات کا ایک طالبعلم کے طور پر احاطہ کروں گا۔ افغانستان میں طرفین متضاد دعوؤں میں مصروف ہیں۔ عام حالات میں بھی حکومتیں اور حکومتی طفیلی میڈیا صرف منتخب حقائق (selective facts) بیان کرتے ہیں، ایسے حقائق جو ان کے نقطہ نظر کے حق میں ہوتے ہیں۔ ان منتخب حقائق کی رپورٹنگ کو پاکستان میں آج کل ایک نئے نام سے جانا جاتا ہے اور وہ ہے ”مثبت رپورٹنگ“ ۔ لیکن کسی نہ کسی نام سے یہ دنیا کے ہر ملک میں جانی اور پہچانی جاتی ہے۔

Read more

مسلط جمہوریت اور تختوں کا کھیل

جمہوریت کی تعریفوں سے بھرپورگردان ہم ہمیشہ سے سنتے آئے ہیں۔ ہم نے اِس کی برائیاں بھی بہت سُنی ہیں۔ ہمارے جیسے ملکوں میں تو یہ سخت مکروہ تصور ہوتی ہے۔ کسی کسی ملک میں حرام بھی ہے۔ بعض لوگ اس کو دَجال کا نظام بھی کہتے ہیں۔ ہمارے جیسے ملکوں کی عوام کی اچھی بھلی مصیبت یہ ہے کہ جمہوریت کا نام لے تو اپنے مقتدر حلقوں کا ڈنڈا، نہ لے تو بیرونی طاقتوں سے پھینٹی اور پابندیاں۔ قسمت

Read more