الیکشن کی تاریخ اور ووٹنگ سسٹم


انتخابات کے ذریعے اپنے پسندیدہ امیدواروں کا چناؤ یا ناپسندیدہ امیدواروں کو مسترد کرنے کی روایت بہت پرانی ہے، تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو 508 قبل مسیح میں قدیم یونان میں انتخابی عمل کا آغاز ہو چکا تھا اور یونانی ”منفی الیکشن“ کے ذریعے ہر سال اپنا حق رائے دہی استعمال کرتے تھے، اس وقت تمام کے تمام ووٹرز مرد اور ایک خاص قطعہ زمین کے مالک ہوتے تھے ہر ووٹرز ووٹ کے ذریعے ایسے امیدوار کو مسترد کرتے تھے جسے وہ سمجھتے تھے کہ اسے اگلے دس سال کے لئے ملک میں نہیں ہونا چاہیے اور اسے جلا وطن کر دینا چاہیے۔

بیلٹ سسٹم کیا تھا؟

اس ابتدائی سسٹم میں مٹی کے ٹوٹے ہوئے برتنوں کے ٹکڑے بطور بیلٹ استعمال کیے جاتے تھے جن کے لئے ایک خاص اصلاح ”اوسٹراکا“ استعمال کی جاتی تھی، جس کے ذریعے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے ”غیر مقبول“ امیدوار کو جلا وطن کر دیا جاتا تھا۔

اگر ہم عہد وسطی کی بات کریں تو 13ویں صدی میں وینس میں ”گریٹ کونسل“ کے انتخاب کا حوالہ ملتا ہے جو کہ چالیس افراد پر مشتمل ہوتی تھی، جس کا انتخاب ”منظوری کے ووٹ“ کے ذریعے عمل میں آتا تھا کہ جس میں ووٹر اپنے امیدوار کو ”قابل قبول“ ہونے کا ووٹ دیتا تھا۔

جدید انتخابی نظام اور ووٹ کا حق

برطانیہ جسے جمہوری اداروں کی تشکیل کے حوالے سے ایک خاص ملک کا مقام دیا جاتا ہے، میں 1780 میں ووٹنگ کا نظام متعارف کروایا گیا۔ جب صرف تین فیصد آبادی کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ آغاز میں برطانوی پارلیمانی نظام غیر نمائندہ تھا جس کی ایک مثال بڑے صنعتی شہر جیسے کہ لیڈز، برمنگھم، اور مانچسٹر کو ویسٹ منسٹر (پارلیمنٹ) میں کوئی نمائندگی نہیں دی گئی تھی اور ”ڈنوچ“ جیسے چھوٹے سے ایک قصبے سے دو اراکین منتخب کر کے اسمبلی میں بھیجے جاتے تھے۔

انقلاب فرانس کے بعد انتخابی نظام میں اصلاح کی ضرورت پر زور دیا گیا اور تھامس پین
نے ریڈیکل ریفارمز کے حوالے سے اہم کام کیا۔ Rights of Man کی کتاب

اگر امریکہ کی بات کریں تو وہاں پہلے صدارتی انتخابات 1789 میں منعقد ہوتے ہیں جہاں سفید فام زمیnداروں کو ووٹ کا حق دیا گیا۔ جبکہ خواتین کو امریکی آئین می 19ویں ترمیم کے ذریعے 1920 میں ووٹر بنایا گیا۔

خواتین کو ووٹ کا حق

خواتین کو ووٹ کا حق دینے کی روایت بہت پرانی نہیں ہے۔ امریکہ میں 1920، ناروے میں 1913، برطانیہ میں 1918 میں خواتین کو ووٹ کا حق دیا گیا یہاں پر یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ مرد ووٹروں اور عورتوں کی عمر میں فرق رکھا گیا کہ مرد تو 21 سال کی عمر میں ووٹ کا حق استعمال کر سکتا تھا مگر عورت کے لئے عمر کی حد 30 سال رکھی گئی۔

سوئٹزرلینڈ جیسے ملک میں 1970 سے پہلے عورت کو ووٹ کا حق نہیں تھا۔ کویت میں یہ حق 1990 میں دیا گیا۔ ابھی بھی دنیا کے کچھ ممالک میں خواتین بالواسطہ یا بلاواسطہ اپنے ووٹ کے حق سے محروم ہیں۔

خفیہ بیلٹ کا آغاز

اگر خفیہ رائے شماری کی بات کریں تو برطانیہ میں 1872 میں بیلٹ ایکٹ کے ذریعے اسے متعارف کروایا گیا اور پھر بتدریج اسے باقی جگہوں پر اختیار کر لیا گیا۔

انگریزوں کے دور میں ہندوستان میں ووٹنگ سسٹم

1757 کی جنگ پلاسی اور 1857 کی جنگ آزادی کے دوران ایسٹ انڈیا کمپنی نے دیکھتے ہی دیکھتے تقریباً پورے ہندوستان پر اپنا قبضہ جما لیا اس دوران محدود پیمانے پر مقامی لوگوں کو نامزدگی کی بنیاد پر کونسلز میں نمائندگی دی گئی۔ جس کا آغاز 1833 کے چارٹر ایکٹ سے ہوتا ہے تاہم 1909کے ایکٹ کے تحت پہلی مرتبہ یہاں کے لوگوں کو ووٹ کا حق دیا گیا جبکہ 1935 کے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے شیڈول چھ کے تحت ووٹر کی اہلیت کا تفصیلی معیار مقرر کیا گیا، اس ایکٹ کے پارٹ ون میں مرکزی اسمبلی جبکہ پارٹ ٹو میں گیارہ صوبوں کے لیے ووٹر کی اہلیت کا تفصیلی معیار طے کیا گیا ہے، جس کے مطابق اکیس سال کا نوجوان ووٹ کاسٹ کر سکتا تھا، دیگر شرائط میں خاص حد تک پراپرٹی رکھنے والا شخص، کوئی بھی سرکاری ملازم، حکومت کو ٹیکس ادا کرنے والا اور صحت مند ذہن رکھنے والا شخص ووٹ کاسٹ کرنے کا اہل تھا۔

مختلف صوبوں میں ووٹر کی اہلیت کا مختلف معیار

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ انگریزوں کے دور میں ہندوستان میں ہر صوبے کے لیے ووٹر کی اہلیت مختلف تھی، مثال کے طور پر اگر ہم تعلیمی معیار کی بات کریں تو بمبئی، بنگال، بہار، اوڑیسہ اور سندھ میں رہنے والوں کے لیے کم از کم میٹرک تک تعلیم کا ہونا ضروری تھا، جبکہ سی پی، آسام، اور شمال مغربی سرحدی صوبے کے لیے مڈل پاس ہونے کی شرط تھی، اسی طرح پنجاب اور یوپی کے لیے پرائمری اور مدراس کے ووٹر کے لیے صرف خواندہ ہونا کافی تھا۔ پراپرٹی کی بنیاد پر ووٹر کی اہلیت کا معیار بھی مختلف صوبوں کے لیے مختلف تھا۔

قیام پاکستان کے بعد ووٹرز کی اہلیت

پاکستان بننے کے بعد 1935 کے ایکٹ میں ترمیم کر کے 1947 کا عبوری آئین تشکیل دیا گیا، گیا جس میں کچھ شرائط نرم کرے مارچ 1951، دسمبر1951، مئی 1953، اپریل 1954 میں بالترتیب پنجاب، سرحد، سندھ اور بنگال میں انتخابات کروائے گئے، اسی اہلیت کے ساتھ ایوب خان کے دور میں بنیادی جمہوریت اور صدارتی انتخابات کروائے گئے، جبکہ 1970 کے عام انتخابات لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت منعقد ہوئے۔ 2002 میں ایک صدارتی حکمنامے کے ذریعے پاکستان میں ووٹرز کی عمر کی حد 21سال سے کم کر کے 18 سال کر دی گئی۔ (برطانیہ اور امریکہ میں 18 سال کی حد 1970 اور 1971 میں کر دی گئی تھی)

Latest posts by ڈاکٹر محبوب حسین (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر محبوب حسین کی دیگر تحریریں

ڈاکٹر محبوب حسین

مضمون نگار پارلیمینٹری ورکنگ گروپ کے ممبر اور پنجاب یونیورسٹی میں سیاسی تاریخ کے پروفیسر ہیں

dr-mahboob-hussain has 2 posts and counting.See all posts by dr-mahboob-hussain

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments