سر اٹھاؤ گے تو مر جاؤ گے


میں اکثریہ کہا کرتا ہوں کہ سیاست سے شریر کوئی لفظ دنیا میں نہیں۔ کیونکہ کاروبار سیاست، خدع و فریب کا ایسا اجتماعی کھیل ہے جس میں اشرافیہ اپنی اپنی اغراض کی دکانیں کھولے عوام کی بے وقوفیوں کے منتظر ہیں۔ سیاست ایسا دام فریب ہے جس میں غربا و مساکین ہی دام میں پھنستے ہیں۔ وہ مقامی حکومت ہو کہ بین الاقوامی کوئی سازش۔ اگر میں آئی ایم ایف کی ہی بات کروں تو معاشی انحطاط کے حامل ممالک میں معاشی استحکام کے ایسا جال بچھا کر ملک کو اپنے فریب میں پھنساتے ہیں کہ ان کا نکلنا ناممکن سا ہو جاتا ہے۔

یہ آئی ایم ایف بھی جب کوئی بم گراتا ہے تو غریبوں پر ہی گراتا ہے جیسا کہ کسی بھی معاشی عدم استحکام کے متحمل ملک کو قرض کی ادائیگی یا اقساط کی ادائیگی کو ممکن بنانا ہو تو ان کی شرائط میں سرفہرست یہ مطالبات ہوتے ہیں کہ قیمتوں کی گرانی ہو، پٹرول کی قیمت میں خاص کر اضافہ کیا جائے، روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے تو ہی یہ ادارہ معاشی استحکام کے لئے مزید اقساط جاری کرنے کا حکم صادر کرے گا۔

کبھی آپ نے سنا ہے کہ آئی ایم ایف نے ملکی سیاستدانوں، بیوروکریٹس اور اشرافیہ کے لئے یہ شرط عائد کی ہو کہ اپنی تعیشات کو کم کر کے سادہ انداز حیات کو اپنائیں تاکہ آپ کا ملک معاشی انحطاط سے نکل کر معاشی خوش حالی کے میدان میں عملی داخل ہو کر اس قابل ہو جائے کہ نہ صرف آئی ایم ایف کی قسط واپس کرے بلکہ مقامی وسائل کے استعمال سے ملکی معاشی استحکام کا ضامن بھی ہو سکے۔ لیکن نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی ہو گا، کیونکہ مالیاتی اداروں کو پتہ ہوتا ہے کہ ہم نے ذہنی طور پر کن لوگوں کو غلام بنانا ہے اور معاشی غلامی کا طوق کن لوگوں کے گلے میں ڈالنا ہے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ

فی زمانہ سیاست شرافت کا نہیں بلکہ شر اور مکر و فریب کا دھندا بن کر رہ گیا ہے۔ اگر کتب التواریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہم دیکھتے ہیں کہ سقراط سے لے کر تاحال معاشی مسائل وہی ہیں کہ جس سے معاشرہ ہمیشہ کی طرح دو حصوں میں منقسم ہو کر رہ گیا ہے، ایک وہ جن کے پاس سب کچھ ہے جنہیں HAVE اور دوسرا جو آج بھی روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرہ کو نعرہ صداقت سمجھتے ہوئے، آوے گا بھی آوے گا کی نعرہ زنی کرتے دکھائی دیتے ہیں انہیں آج بھی HAVE NOTS کہا جاتا ہے۔

گویا عوام آج بھی غلام ہی ہے۔ ایام جاہلیت میں امرا کے ہاتھوں غربا کا استحصال ہوا کرتا تھا اور انہیں ذاتی غلام بنا لیا جاتا تھا آج کل زمانہ کی ترقی کے ساتھ ساتھ انداز غلامی کے انداز بھی بدل گئے ہیں۔ فی زمانہ غربا کو اشرافیہ طبقہ نے گرداب ضروریات کے بھنور میں ایسے دھکیلا ہے کہ انہیں اب جسمانی طور پر کنٹرول کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔ بے چارے غریب غلام معاشی مسائل میں ایسے گھرے رہتے ہیں کہ بس ایک مٹھی چک لے دوجی تیار کے مصداق زندگی کی بازہ گل کر بیٹھتے ہیں مگر مجال ہے کہ ان کی زندگی میں خوش حالی نام کی کوئی کرن داخل ہو جائے۔

اس ساری صورت حال میں عوام کو امرا کو ہی دوش اور قصور وار نہیں ٹھہرانا ہو گا قصور ان کا اپنا بھی ہے۔ کہ جب اللہ نے تمہیں آزاد پیدا کیا ہے تو پھر تم کیوں ان کے غلام بنتے ہو، دوسری صورت میں جب تم آزاد ہو تو پھر تم کیوں اپنی ہی خواہشات کو اپنے پاؤں کی بیڑیاں بنا کر ساری زندگی اپنی ہی بیڑیوں کے پیار میں گزار دیتے ہو۔ ان سے آزادی اور انہیں توڑنے کی جرات کیوں نہیں کرتے ہو؟ شاید اسی پس منظر میں لیو ٹالسٹائی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب ”جنگ اور امن“ میں لکھا تھا کہ وہ قیدی کبھی آزاد نہیں ہو سکتے جنہیں اپنی بیڑیوں سے پیار ہو ”

خواہشات، ضروریات، معاشی مسائل سب پاؤں کی بیڑیاں ہی تو ہیں۔ اگر ایسا ہے تو پھر ان کا حل کیا ہے؟ حل بہت سادہ اور آسان ہے کہ اپنی ضروریات کو اپنے وسائل کے مطابق کرلو۔ یقین جانیے اگر عوام اس فلسفہ کو عملی اطلاق میں اپنی زندگی میں داخل کر لیں تو کبھی کسی کی غلامی نہ کرنی پڑے گی، وہ شخصی ہو کہ معاشی۔ جیسے جیسے آپ کے وسائل میں اضافہ ہوتا جائے گا ویسے ویسے اپنی خواہشات کو بھی بڑھاتے جائیں۔ آپ دیکھیں گے کہ زندگی بھی آسان ہو جائے گی اور زندگی سے اضطراب و مسائل کا بھی خاتمہ ہونا شروع ہو جائے گا۔

لیکن یہ آپ کو خود کرن اہو گا۔ آپ کے مسائل کا حل کرنے کے لئے کوئی بھی سیاستدان، معاشیات دان یا بیوروکریٹ نہیں آئے گا۔ وہ سب تو اپنے اپنے مفادات کی جنگ میں ایک دوسرے کو سرنگوں کرنے اور فتح و کامرانی کے درپے ہیں۔ اسی کامیابی و فتح کے نشے کے چکر میں بین الاقوامی مالیاتی کمپنیوں کے اشارہ ابرو پر ہمیں معاشی جال میں ایسا پھنساتے ہیں کہ ہم کیا ہماری نسلیں بھی غلامی میں دھکیل جاتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ ایک غریب کبھی اپنے حالات نہیں بدل سکتا، کیونکہ انہیں وہ مواقع میسر ہی نہیں آنے دیں گے کبھی کہ جس سے اس کی معاشی حالت میں سدھار پیدا ہو سکے۔

کبھی ہم نے اس بات پر غور کیا ہے کہ ملک چاہے معاشی مسائل کے دھانے پر ہو، یا اللہ نہ کرے معاشی ڈیفالٹ اختیار کرنے والا ہو ان کے بچے اور خاندان تو معاشی طور پر خوشحال ممالک کا رخ اختیار کر جائیں گے اور ہمیں ہمارے حال ہر چھوڑ جائیں گے۔ کیا ماضی قریب و بعید میں ہم نے ایسا ہوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ہم کیوں ان کے لئے ایک دوسرے کا گلا کاٹیں۔ معاشی بدحالی کے بھنور میں دھنسیں، معاشی غلامی کا حصہ بنیں۔

لیکن ہمیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، وہ بھی اسی لئے کہ ہمارے اندر ایسا ڈر اور خوف پیدا کر دیا گیا ہے کہ اگر کسی نے سر اٹھایا تو اس کا سر کاٹ دیا جائے گا۔ سر کاٹنا یہی نہیں کہ سر تن سے جدا کر دیا جائے گا۔ بلکہ تمہیں روٹی کپڑا اور مکان کے ایسے چکر میں پھنسائیں گے کہ تم سر اٹھانے کے قابل ہی نہیں رہو گے۔ لہذا اگر میری عوام سر اٹھا کر جینا چاہتی ہے تو اس کا ایک ہی حل ہے اور وہ یہ ہے کہ معاشی مسائل کو اپنے پاؤں کی بیڑیاں نہ بنائیں بلکہ اپنے وسائل کو مسائل کے ساتھ نبرد آزما کرتے ہوئے سر اٹھ اکر زندگی گزارنے کے قابل اپنے آپ کو کرو۔ اور اس کا حل اپنے ووٹ کا صحیح استعمال ہے۔ کہ ہمیں ان کو ووٹ دینا چاہیے جو غلامی نہیں خودی کا سبق سکھائے۔ وگرنہ تو پنجرے میں قید شیر بھی گیدڑ سے ڈرپوک ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS