عمرانی معاہدہ اور فرسودہ نظام


ریاست کا وجود عمرانی معاہدے کا نتیجہ ہے۔ یہ عوام اور ریاست کے مابین دو طرفہ معاہدہ ہے۔ اس معاہدے کے رو سے ریاست اور عوام کچھ ذمہ داریوں کے پابند ہے۔ اس کے پیش نظر ریاست عوام کی جان و مال اور آبرو کی حفاظت کرنے کا ضامن ہیں جبکہ عوام اس کے عوض ریاست کی قوانین کی تابعداری اور شریف شہری ہونے کا ثبوت دیتے ہیں۔

ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کے ہر صورت میں عوام کو بیرونی جارحیت سے محفوظ ہے اور اس بات کو بھی یقینی بنائے کہ ریاست خود عوام کو ظلم و جبر کا نشانہ نہیں بنائیں گی۔ مذکورہ معاہدے کے نکات میں یہ بھی شامل ہے کے ریاست عوام کو ضروریات زندگی فراہم کرے گا اور بنیادی انسانی حقوق کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہے گی۔ جب ریاست عوام کی توقعات پر پوری اترتی ہے اور ان کی ترقی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھاتی ہے تو عوام حکومت کو جائز قرار دیتے ہیں اور اس کے ہر عمل کو بسر و چشم قبول کرتے ہیں۔

لیکن حالات کے مشاہدے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ موجودہ دور کی حکومتوں، خصوصی طور پر ترقی پذیر ممالک، نے اس روایتی معاہدے کو پیروں تلے روندا ہے اور اس سے نا آشنا نظر آ رہی ہیں۔ عوام اور ریاست کے درمیان یہ معاہدہ یا دستاویز کمزوری کا شکار ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید لاغر ہو رہا ہیں۔ ان دونوں مدعیان، ریاست اور عوام، کے درمیان بد اعتمادی کا فضا قائم ہوا ہے اور ایک دوسرے سے بے زار نظر آ رہے ہیں۔

باقی ممالک کی طرح، یا کئی ممالک کی بہ نسبت، پاکستان میں یہ بد مزگی اور نا خوشگواری حد عبور کر چکی ہے۔ ریاست اور عوام کے درمیان اس دوری کی کئی وجوہات ہیں۔ روز اول سے پاکستان پرائے جنگوں کی سرپرستی کر رہا ہے جو ”پرائی شادی میں عبداللہ بیگانہ“ کے مترادف ہے ”، جس کی سزا قوم تا حال بھگت رہی ہے۔ حکومت کا عوام کی طرف توجہ اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہے۔ قوم کی فلاح و بہبود کسی حکومت کی ترجیح نہیں رہی۔

عوام کو تعلیم کے یکسر مواقع میسر نہیں۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے جس کا نتیجہ بد امنی، سٹریٹ کرائمز اور رہزنی میں نکل رہا ہے۔ ہر ادارہ اپنے حدود سے تجاوز کر کے دوسرے ادارے میں دخل اندازی کر رہا ہے۔ جب فوج سیاست میں، سیاست دان انتظامیہ میں مداخلت کریں گے اور محافظ خود عوام کے ساتھ مشت و گریباں ہوں گے تو کبھی بھی قومی ترقی، ہم آہنگی اور یک جہتی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ حکومتی اداروں نے عوام کو حرف مکرر سمجھا ہے جس کو مٹانا اپنا حق اور فرض سمجھتے ہیں۔

ہمارا پولیٹیکل سسٹم سر تا پا زنگ آلود ہے۔ جمہوری حکومتوں کے تختے الٹ دیے گئے اور آمریت کا راستہ ہموار کر دیا گیا۔ برائے نام جمہوریت کے ذریعے عوام کو بہلا نے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کبھی بھی عوام کی توقعات پر پوری نہیں اتر سکتی۔ وزیروں کی فوج ظفر موج ہے لیکن کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ریاست کی بے آہنگ پالیسیاں ملک میں جوڑ کے بجائے توڑ پیدا کر رہی ہیں۔ ملک میں انصاف، احتساب اور شفافیت نا پید ہیں جس کی وجہ سے عوام میں غم و غصہ اور احساس محرومی پائی جاتی ہیں۔ انتظامی عہدوں پر ریٹائرڈ فوجیوں کو تعینات کیا گیا ہے جو ”بلی کو دودھ کی رکھوالی پر رکھنے“ کے مترادف ہے۔ امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جا رہا ہے جو کہ خطرے کی گھنٹی ہے۔ اقلیتوں کے ساتھ وہ برتاؤ کیا جا رہا ہیں جو ریاست کی قانون اور اسلام دونوں کو نا قابل قبول ہے۔

لہذا حالات اور معاشرہ اس بات کا متقاضی ہے کے نئے سرے سے ایک نئے عمرانی معاہدے کو ترتیب دیا جائے جو سارے مسائل کا حل ثابت ہو۔ اس معاہدے کے وساطت سے اس بات کو یقینی بنایا جائے کے معاشرے کے سارے طبقوں (کسان، مزدور، خواتین اور سول سوسائٹی ) کو پولیٹیکل سسٹم میں شرکت کے بھر پور مواقع میسر ہوں۔ جمہوری اقدار جیسے کہ مشاورت، آزادی اظہار رائے، مساوات، بنیادی انسانی حقوق، برداشت، انصاف کی فراہمی، فلاح و بہبود، مناسب انتقال اقتدار، نفاذ قوانین اور احتساب کا بول بالا ہو۔

سب سے اول اور ضروری بات یہ ہے کہ وسائل کی منصفانہ تقسیم کی ضمانت دی جائے اور معاشرے کے متاثرہ لوگوں کی دلجوئی کی جائے۔ اگر اس طرح ایک جامع اور مکمل معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ دن دور نہیں جب ملک خوشحالی، استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

شاہ فیصل حبیب کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments