پھر سہی


کھانا کھا لیا ہے؟ نہیں، ابھی نہیں کھایا۔ آؤ کھانا کھانے چلیں۔ آج گھر میں کیا بنا ہے؟ اف، یہ میں کیسے کھاؤں گا۔ چلو باہر کہیں کھانا کھانے چلتے ہیں۔ کل آپ

یہ بنا لینا، پلیز ”۔

یہ وہ الفاظ ہیں جو اس قوم کی اکثریت بار بار دہراتی رہتی ہے۔ امیر ہو یا غریب۔ عمومی طور پر سب کو بس کھانے کی فکر لگی رہتی ہے۔ اکثر لوگ تو خواب بھی کھانوں کے ہی دیکھتے ہیں اور کچھ لوگ تو اپنی اوٹ پٹانگ شرطیں بھی کھانوں پر لگا لیتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے عوام الناس کی زندگی کا واحد مقصد کھانا کھانا ہی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دوسرے شخص کی توند اس کے کپڑوں سے باہر نکل کر اکڑی ہوئی دکھائی دے رہی ہوتی ہے۔ بلا وجہ ضرورت سے زیادہ کھانے سے اکثریت اب معدے اور جگر وغیرہ کی موذی بیماریوں کا شکار بھی ہوتی جا رہی ہے۔

کیا کبھی ہم میں سے کسی نے ایسا سوچا کہ آخر کیوں ساری قوم ہاتھ دھو کر کھانوں کے پیچھے پڑی ہوئی ہے۔ نہیں، کبھی بھی نہیں سوچا ہو گا۔ کیونکہ ہمیں تو کھانوں کو کھانے سے فرصت ہی نہیں ہے۔

دراصل، ہمارے پاس جینے کا کوئی مقصد نہیں ہے۔ صرف پیٹ پالنا اور پیٹ پوجا کرنا ہی مقصد حیات ٹھہرا ہے۔ ہم یہ بھول بیٹھے ہیں کہ جس انسان کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں، اس کا کوئی مستقبل نہیں۔ خوابوں اور مقاصد کے بنا زندگیاں سنوارا نہیں کرتیں، بلکہ صرف بسر ہوا کرتی ہیں اور ہم اس فن میں یکتا ہو چکے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے نام نہاد رہنما بھی اسی ڈگر پر چلے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی، معاشی، معاشرتی، انتظامی، مذہبی، غرض کہ ہر لحاظ سے ہمارا شمار دنیا کی پسماندہ ترین اقوام میں ہوتا ہے۔

اب آپ پانی کے بحران کو ہی لے لیجیے۔ زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے

تھر اور چولستان میں ہر طرح کی زندگی بشمول چرند، پرند، بشر اور حیوان بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔ پودے وہاں نایاب ہو گئے ہیں۔ انسان اور جانور پانی کی کمی کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر جہان فانی سے کوچ کرتے جا رہے ہیں۔ مگر مجال ہے کہ اس قوم کو کھانے پینے سے فرصت ملے اور ہم ان غریبوں کی زبوں حالی کا کوئی درماں کر سکیں۔

کچھ اسی طرح کی صورتحال کا سامنا توانائی کے لحاظ سے ہے۔ ایسے لگتا ہے جیسے جان بوجھ کر ہماری توانائی کا زیادہ تر انحصار مہنگے درآمد شدہ تیل پر رکھا گیا ہو۔ ہمارے پاس گلیشیئرز ہیں، دریا ہیں، جھیلیں اور تالاب ہیں، حتیٰ کہ 1040 کلو میٹر لمبی ساحلی پٹی ہے، مگر پھر بھی زیادہ تر بجلی مہنگے تیل اور گیس سے پیدا کی جا رہی ہے۔ ملک کا کوئی ایسا حصہ نہیں ہے، جہاں سارا سال سورج اپنی پوری آب و تاب سے نہ چمکتا ہو، مگر پھر بھی ہم سورج کی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت اور مشینری کو سستا اور عام نہیں کر رہے۔ دنیا کا دوسرا بڑا کوئلے کا ذخیرہ پاکستان میں موجود ہے، لیکن پھر بھی کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کو ترجیح نہیں دی جا رہی۔ حالانکہ ہمسایہ ممالک میں زیادہ تر بجلی کوئلے سے ہی پیدا کی جا رہی ہے۔

میرا تو خیال ہے کہ جس طرح قوم کی ہونہار اکثریت کو کھانے پینے سے فرصت نہیں ہے، بالکل اسی طرح قوم کے رہنماؤں کو بھی کھانے پینے سے فرصت نہیں ہے۔ لہذا، چھوڑئیے ان مشکل باتوں کو۔ آئیے کسی اچھے سے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے لیے چلتے ہیں۔ بہت زور کی بھوک لگی ہے۔ مقصد حیات کی یہ مشکل اور کڑوی

باتیں، پھر سہی۔

Facebook Comments HS