خان صاحب تھوڑا اسلامی ٹچ دیجئے


ہم سب کا تعلق زندگی کے مختلف شعبوں سے ہے ۔ ہم سب اسلامی ملک کے اسلامی معاشرے میں سچے اور کھرے مسلمانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ ہمارے ملک کی آبادی کا  تقریباً 96 اعشاریہ 50 فیصد طبقہ مسلمان ہے۔ ہمارے مطابق ہم پوری دنیا کے مسلمانوں میں سے سے اعلی درجے کے مسلمان ہیں ۔خیر تھوڑا آگے چلتے ہیں۔
آپ کو پتا ہے ملک میں سب سے زیادہ عام چیز کیا ہے ؟ رشوت ہے، اور رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں آگ میں ہے۔ رشوت لے کون رہا ہے اور دے کون رہا ہے ، بھئی ہم میں ہی سے کوئی رشوت لے رہا ہے اور ہم میں سے ہی کوئی رشوت دے رہا ہے۔ اچھا چھوڑے ۔ ذرا اپنے باخبر ذرائع سے کوشش کرکے معلوم کیجئے کہ ملک میں کتنی تعداد میں شراب استعمال ہوتی ہے ارے مطلب پی جاتی ہے۔بہت محتاط اندازے کے مطابق شراب کے استعمال کا جائزے لے تو اندازہ ہوگا کہ ملک میں بڑی تعداد کبھی کبھی اقلیت کا روپ بھی دھار لیتی ہے۔
اچھا چلیں ، اوپر والی باتیں چھوڑیں ۔ہم اپنی اپنی زندگی میں اسلامی ٹچ تلاش کرتے ہیں۔ ہماری مذہبی جماعتیں تو اسلامی ٹچ کا حلیہ دھار کر اندرون خانہ اپنے بہت سے گیم چلارہی ہوتی ہیں۔ مگر ہماری سیاسی جماعتیں بھی حسب ضرورت اپنے سیاسی مقاصد پر اسلامی ٹچ لگاتے ہیں تاکہ اس کا فائدہ حاصل ہو۔ کیونکہ تاریخ پاکستان میں اسلامی ٹچ استعمال کرنے والوں نے کافی  بار فائدہ اٹھایا ہے اور آج بھی یہ اسلامی ٹچ والا ٹچ کافی سود مند ہے۔سود سے یاد آیا  اسلامی ملک میں سود کا کتنا بڑا سیٹ اپ ہے اور سود کے بارے میں تو سب کو ہی خبر ہے۔
اچھا تازہ تازہ اسلامی ٹچ عمران خان کے لانگ مارچ میں دیکھا گیا جب ایک کھلاڑی نے عمران خان سے سرگوشی کی کہ خان صاحب ” تقریر میں ذرا سلامی ٹچ بھی دیں۔ "عمران خان صاحب کو اندازہ تھا کہ کوئی خاص بات ہوگی اسی وجہ سے انھوں نے اپنا مائیک دور کر لیا ، البتہ دوسرے کھلاڑی کے ہاتھ میں اک چینل کا مائیک تھا جس پر یہ بات ریکارڈ ہوگئی۔ خیر بات ریکارڈ ہوگئی ، مارکیٹ میں عام ہوگئی ، بس تاویل آتی ہو گی۔اور شاید آپ جب تک یہ پڑھ رہے ہوں گے  اس وقت تک آ بھی چکی ہو گی۔

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments