بھکاری
ہم جس دور میں رہ رہے ہیں اس میں کوئی چیز بھی اپنی اصل حالت میں نہیں رہی۔ نفرت اور حقارت کے سوا آپ کو کوئی چیز خالص نہیں ملے گی۔ ہر شے میں ملاوٹ اس قدر کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے کہ ہم لوگ اصل چیز کے حصول پر بیمار پڑ جاتے ہیں، کبھی جسمانی طور پر کوئی بیماری لاحق ہو جاتی ہے اور کبھی ذہنی طور پر۔ آپ دیکھیں گے کہ پچھلی چند دہائیوں سے محض ایک مختصر سا طبقہ رہ گیا جس کے چہرے پر رونق کا بھونڈا نقاب ہے، باقی ہر چہرے سے یہ نقاب تو اتر چکا ہے۔
آنے والے کل میں خدا جانے مزید کون کون سے نقاب اتریں۔ بہر حال یہ چہروں کی رونق ختم ہونے کی ایک وجہ تو خوں کا سفید ہو جانا ہے۔ آج کل لوگوں کو دو ہی رنگ پسند ہیں، ایک سفید اور دوسرا کالا۔ سفید وہ خون رکھتے ہیں اور کالے دل۔ لال تو بس آنکھیں رہتی ہیں۔ کچھ سالوں سے ہماری ذہنی طور پر پرورش ہی ایسی کی جا رہی ہے کہ اس کے یہ نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ہماری گودیاں ہماری نسلوں کو نفرت آمیز سبق سکھاتی آ رہی ہیں۔ ہمارے مدارس ایسے ایسے ہیرے پیدا کر رہے ہیں جن کی تابناکی نے ملک و قوم کو تباہی کے آخری دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ہمارے بڑوں نے ہمارے لیے جینے کی کھلی فضا بھی نہیں چھوڑی۔ چننے کے لیے زیادہ متبادل بھی نہیں بچائے۔ اب تک تو ہم ایکسٹریم ازم کے عادی ہو چکے ہیں۔ یہ لت ہمارے خون کی لالی لے اڑی ہے۔ یہ یا پھر وہ، تیسری کوئی بات کرنے کو ہم تیار ہی نہیں۔ یہ باتیں ہماری نسلوں سے کیسے کیسے گناہ کروا رہی ہے اور ہم آنکھوں کی پٹی پر مزید پٹیاں باندھے غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ ہمارے بڑے دور نوح کی ضدی روحیں ہیں۔ اپنی حقیقت قبول کرنے کی بجائے وہ حقیقت کو انگوٹھا دکھاتے رہتے ہیں، یہ ساون کے ایسے اندھے ہیں، جن کو ہرا ہی ہرا سوجھتا ہے، یعنی یہ ایسے دور میں اندھے ہوئے تھے جب ان کے سامنے آئینہ رکھا گیا تھا لہذا ان کو آج تک اپنے آپ کے سوا کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا، چت بھی ان کی ہے اور پٹ بھی ان کی اور اگر انٹا آ جائے تو وہ بھی انہیں کا ہوتا ہے۔
ہمارا تو بس خسارہ ہی خسارہ ہے۔ ہمیں اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ ہمیں ان کی غلامی کرنا پڑے، ان غلاموں کے ہم غلام بنیں، یہ حکم صادر کریں ہم ان کی جی حضوری کریں۔ یہ الف کے بعد ہمیں پ پڑھا دیں اور ہم چپ چاپ بنا ’ب‘ کا سوال کیے پڑھتے جائیں۔ اگر ہم سوال نہیں اٹھائیں گے تو ایسے میں ب کی حیثیت کم ہو جائے گی اور دیکھتے ہی دیکھتے ب کی ہستی تک مٹ جائے گی۔
آج کل ہمارے ملک میں ہمارے رہنماؤں کا ایک جملہ بہت مشہور ہے، ”بیگرز کانٹ بی چوزرز“ اس سے پہلے بہت کم لوگ اس جملے سے واقف ہوں گے لیکن اب یہ زبان زد عام ہے اور یہ جملہ ہمارے بڑوں کی سوچ کو بہت خوبصورتی سے عیاں کرتا ہے کہ وہ بیگرز ہیں۔ حالات نے انہیں بیگرز بننے پر مجبور کر دیا ہوا ہے۔ ان کے پاس کوئی چوائس نہیں ہے، یہ انہیں کا دور تھا جب سے ایکسٹریم ازم پروان چڑھنا شروع ہوئی کیونکہ ان کے سامنے ان کے بڑے ایک انگور اور ایک لنگور رکھ دیا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے لو بھئی چن لو ان میں سے ایک۔
اب انگور اور لنگور میں سے اس شخص کو بھی ایک چننا پڑتا تھا جس کو امرود یا چیتا پسند ہوتے تھے۔ خیر، وقت نے ان کی سوچوں پہ لنگوروں کے ایسے ٹھپے لگائے ہیں کہ اب زیادہ تر لنگور ہی لنگور نظر آتے ہیں۔ بات ہو رہی تھی بیگرز کی، تو یہ محاورہ جس کسی نے بھی لکھا یا مشہور کیا ہے میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ میں نے تو آج کے دور میں بیگرز کو ہی سب سے بڑے چوزرز دیکھا ہے۔ نہیں یقین تو کسی دن مشاہدہ کر کے دیکھ لیجیے گا۔
ہم محنت کی روزی کمانے والے دن میں اتنے پیسے نہیں کما سکتے جتنی دیہاڑی ان بیگرز کی لگ جاتی ہے۔ ایک دفعہ تو مجھے یاد ہے، بہت سال پہلے کی بات ہے، ٹاؤن شپ جنت چوک میں ایک بزرگ بیگر کو ایک گاڑی والے انکل نے ڈالر ہی تھما دیے تھے۔ کافی ٹریفک ہونے کے باعث روڈ بلاک تھا تو گزرتے ہوئے اس بزرگ نے مجھے وہ ڈالرز میں سے ایک دکھاتے ہوئے کہا بیٹا یہ کون سا نوٹ ہے۔ آپ یقین نہیں کریں گے میں نے اپنی زندگی میں ڈالر ہی پہلی بار دیکھا تھا۔
اور وہ بھی ایک بھکاری کی وساطت سے۔ میں نے تھوڑی حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے اس بھکاری بزرگ کو عام زبان میں سمجھاتے ہوئے کہا، بابا جی، یہ باہر کے ملک کا سو روپیہ ہے۔ اتنا کہہ کر اس کو ڈالر واپس کر دیا۔ اس کے بعد آج تک دوبارہ ڈالر ہاتھ میں پکڑ کر نہیں دیکھا۔ اور اس بزرگ بھکاری نے اب تک پتا نہیں کتنے ڈالر اللے تللے کر دیے ہوں۔ اب بات کی جائے کھانے پینے کی، اسی دور کی بات ہے کہ اگر ہمارا دل ہاسٹل کے کھانے سے اکتا جاتا اور دل کرتا کہ باہر کا کھانا کھائیں تو پیسے دیکھتے، گنتے، مہینے بھر کے خرچوں کا حساب لگاتے، اگر اس میں سے پیسے بچ جاتے تو بریانی یا برگر کھانے کا سوچ لیا جاتا ورنہ بازار سے گزرتے ہوئے واپسی پر ان چیزوں کی بس خوشبو ہی لے آتے۔
اور یہاں فوڈ سٹریٹس میں کتنے بیگرز پڑے ہیں، کسی دکان سے گول گپے مانگ کر کھا رہے ہیں کسی دکان سے کباب کہیں سے بریانی مل رہی کہیں سے لسی اور پتا نہیں کیا کیا۔ آج کل تو کسی بیگر کو 10 روپے دو تو وہ واپس ہاتھ میں تھما دیتا ہے۔ بلکہ آپ کو 10 روپے ساتھ اور دے گا۔ میرے بچپن کی یاد ہے کہ امتحان سے فارغ ہونے کے بعد سکول سے باہر نکلے تو ریڑھی سے کچھ کھانے کی چیز خریدی اور ریڑھی والے نے بقایا ایک روپیہ واپس کیا۔
اس دور میں پانچ روپے جیب خرچ بہت اہمیت رکھتا تھا۔ خیر ریڑھی کے پاس ہی ایک عورت اپنے چھوٹے سے بچے کو گود میں اٹھائے میرے پاس آئی اور مجھ سے اللہ کے نام پر مانگا۔ اب امتحان کے دن تھے دعاؤں کی سخت ضرورت تھی تو میں نے بڑا دل کیا اور وہ بچا ہوا ایک روپیہ اس عورت کو تھما دیا۔ مجھے اور کچھ ٹھیک سے یاد ہو نہ ہو لیکن جس ناشکری سے اس نے وہ روپیہ میرے ہاتھ پہ واپس دھرا، اس عورت کے چہرے کے تاثرات مجھے آج بھی یاد ہیں، ”رکھ کول ای“ میں نے اس دن کے بعد شاید ہی کبھی کسی فقیر پر ترس کھایا ہو گا۔
یہ میں ہی نہیں بہتوں کا پالا بھکاریوں سے پڑتا ہی رہتا ہو گا، خصوصاً لاہور کی مصروف سڑکوں پر تو بھکاری عام نظر آتے ہیں۔ ان دنوں میرا قیام ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں تھا۔ سو مجھے یونیورسٹی سے فارغ ہو کر سفر کر کے ہاسٹل جانا ہوتا تھا۔ اکثر اکبر چوک میں کھڑے بس کا انتظار کرتے کرتے دیکھنے کو بہت عمدہ لوگ اور اعلی نسل کے بھکاری ملتے تھے۔ اکبر چوک سے جناح ہسپتال کی جانب جانے والی سڑک کے فٹ پاتھ پر ایک کھمبا تھا۔
اتنی مصروف سڑک پر شاید ہی کسی انسان کی نظر اس کھمبے پر پڑتی ہو۔ بیچارہ تن تنہا ڈھیروں بجلی کی تاروں کا بوجھ لیے سردی گرمی کھڑا رہتا تھا، مگر ایک دن مجھے احساس ہوا کہ وہ کھمبا تنہا نہیں ہے وہ کسی کی کمائی کا ذریعہ ہے۔ بس کے آنے میں ابھی وقت تھا، سو خود کو مصروف رکھنے کے لیے میں نے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا، میرے دیکھتے ہی دیکھتے ایک جوان بھکاری بیساکھی پر لڑکھڑاتا ہوا دور سے چلا آ رہا تھا، محو حیرت میری نظر اس پر ٹک گئی، اس نے بیساکھی کے سہارے چلتے ہوئے گاڑیوں کے ہجوم میں سے مخالف سڑک بڑے ہنر سے پار کی اور میرے پاس کھڑے کھمبے پر آ کر ہاتھ ڈالا، ہاتھ ڈالتے ہی وہ ایک دم بالکل سیدھا کھڑا ہو گیا، اس نے اپنی بیساکھی کھمبے پر لٹکا کر تالا لگایا اور پیدل چلتا ہوا چلتا بنا۔
میں نے زندگی میں پہلی بار اتنا بڑا معجزہ اپنی ان دو گناہ گار آنکھوں سے دیکھا کہ ایک کھمبے نے مسیحائی کر دی۔ ایسے کئی واقعات مجھے دوران سفر دیکھنے کو ملتے رہتے ہیں، بس اپنی بات ختم کرنے کے لیے آخری کا ذکر کرنا پڑے گا، قصور ڈی ایچ کیو کے سامنے بھی بیگرز کی بھرمار ہے، اکثر آپ کی ٹکر اس جوان عورت سے ہوئی ہو گی وہ جس کا ہاتھ سمیت بازو جلا ہوا ہے۔ سارا سال اس کے بازو کا زخم ہرا ہی رہتا ہے۔ لیکن مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ اتنا گہرا زخم ہے تو درد بھی تو انتہا کا ہو گا نا، تو پھر ایسے میں وہ منہ پر میک اپ کیسے کرتی ہو گی؟ وہ بھی ایک ہاتھ سے۔ کمال ہنر ہے۔ داد دینا پڑے گی۔
یہاں ہمارے اردگرد، آس پاس ایسے چوزرز بھی ہیں جو بظاہر تو بیگرز نہیں لیکن سوچ متماثل ہے۔ ان کے پاس ڈنکے کی چوٹ پر ہٹ دھرمی کی چوائس ہے، آج وہ یہ چاہتے ہیں تو کل کچھ اور۔ ان کی ہٹ دھرمی ہی ہے کہ انہیں سب حاصل ہے اور ہمارے لیے فقط یہ ہٹ دھرمی ہی لا حاصل ہے۔ آخر میں زبان زد عام محاورہ درست کرنے کی جسارت کرنا تھی کہ میرے مطابق بیگرز کانٹ بی لوزرز اینڈ سٹرگلرز کانٹ بی چوزرز، کیونکہ کچھ بھی ہو جائے چاہے چت پٹ انٹا سب ان بیگرز کا ہو، ہم سٹرگلرز کو اپنا مستقبل سنوارنے کے لیے صرف اور صرف سٹرگل کرنا ہے، اس کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔
ہمارے پاس بہانے کرنے کا کوئی بہانہ نہیں، ہماری سوچ میں بھکاریوں والا پرزہ ہی نہیں فٹ کیا گیا۔ ہم یہ بالکل بھی نہیں چاہیں گے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو اپنا ہی غلام بنائیں، ہم انہیں زندگی کے اصل معنی سکھائیں گے۔ ہم انہیں ہر فن مولا بنائیں گے اور ہم ان غلامی کی زنجیروں کو توڑ کو عقل و دانش کے پھولوں سے ان کچے ذہنوں کو خوشبودار کریں گے۔ میرا کامل یقین ہے کہ ہمارے مخلصین آنے والے کل میں عقل و فن کی خوشبوئیں بکھیریں گے نہ کہ اجارہ داری اور ہٹ دھرمی کی بدبو سے معاشرے کی آلودگی میں اضافہ کریں گے۔


