انقلاب در انقلاب کا خواب اور مہنگائی کے ستائے عوام


انقلاب آئے مگر ایسا نہ آئے کہ امید
سایہ خورشید سے اور دھوپ شجر سے نکلے

ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر سید فیصل سبزواری نے پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے بڑا خوبصورت شعر پر اپنی تقریر کا اختتام کیا۔ یہ شعر نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے، ایک فلسفہ ہے۔ جسے سمجھنے کے لیے سمندر جتنا علم درکار نہیں، بلکہ صرف تھوڑا سی شعور کی آنکھیں کھول لی جائیں تو اس شعر کی حقیقت کا ادراک ہو جائے گا۔

پاکستان میں ہمیشہ انقلاب کی ہی باتیں ہوتی رہی ہیں، انقلاب نہ ہو گیا قیامت ہو گئی کہ بپا ہونے کا نام نہیں لے رہی۔ کوئی نیا پاکستان بنانے نکلتا ہے تو کوئی روشن پاکستان کا دعوے دار ہوتا ہے۔ ہر کوئی اپنا نعرہ لے کر مارکیٹ میں بیچنے آ جاتا ہے۔ جو گاہک کو اچھی طرح سبز باغ دکھائے اسی کا مال زیادہ فروخت ہوتا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں نیا پاکستان کا نعرہ بہت بکا، یہاں تک کہ وہ نعرہ ترقی کرتے کرتے ریاست مدینہ میں تبدیل ہو گیا۔ اس سے پیشتر تین دفعہ بننے والے وزیراعظم نواز شریف نے روشن پاکستان کا نعرہ لگایا تھا ان کا نعرہ بھی خوب بکا۔

پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ جس کے پاس پنجاب کی حکمرانی ہوگی وہی وزارت عظمیٰ کا تاج پہنتا ہے۔ پنجابیوں کو ہمیشہ جذباتی بلیک میل کیا جاتا رہا ہے۔ کبھی جاگ پنجابی جاگ اور کبھی پنجابیوں ڈٹ جاؤ کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ لسانیت کا بیج اسی صوبے سے بویا جاتا ہے اور نام سندھ اور کراچی پر لگادیا جاتا ہے۔ یہ الگ موضوع بحث ہے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر علامہ طاہر القادری صاحب بھی انقلاب کا نعرہ لے کر میدان عمل میں آئے تھے مگر سب کی طرح ان کا انقلاب خوب بکا مگر وہ بھی چائنا کا مال ثابت ہوا۔ چلے تو چاند نہ چلے تو شام تک۔ دو کزن کے اس انقلاب نے ایک کزن کو تو وزارت عظمیٰ کا تاج پہنا دیا اور دوسرا کزن واپس بیرون ملک چلے گئے۔

ریاست مدینہ کے انقلاب کو ختم کر کے اب دوبارہ روشن پاکستان کی بنیاد ڈال دی گئی ہیں۔ مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں قائم ہیں۔ مرکز میں والد اور پنجاب میں بیٹا حکمرانی کر رہا ہے۔ مہنگائی ختم کرنے کا دعویٰ لے کر آنے والوں نے مہنگائی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ پیٹرول کی قیمت میں یکمشت 30 روپے کا اضافہ برداشت کی سکت اب عوام میں نہیں ہے۔ جبکہ 15 دن کے بعد اسی شرح سے مزید اضافہ کرنے کی قوی امید ہے۔ کیونکہ آئی ایم ایف نے سختی سے اس شرط پر عملدرآمد کرنے سے ہی فنڈ جاری کرنے کو مشروط کر دیا ہے۔ اب یہ وفاقی حکومت کی سخت ترین مجبوری ہے کہ وہ پیٹرول کی قیمتوں میں لازمی اضافہ کریں۔

10 جون کو وفاقی حکومت سالانہ بجٹ بھی پیش کرنے جا رہی ہے۔ یقینی طور پر یہ بجٹ قطعی عوام دوست نہیں ہو گا۔ مزید ٹیکسز اور مہنگائی کا طوفان آئے گا۔ کچھ لوگ تو پیٹرول کی قیمتیں 200 روپے بھی برداشت کر لیں گے اس سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، سرکاری افسران، وزراء اور ان کے چیلوں کے لیے تو ویسے بھی یہ سب سرکاری مراعات کے زمرے میں آتا ہے (جس کا وہ لوگ بے دریغ استعمال بھی اپنے باپ کی جائیداد سمجھ کر کرتے ہیں ) ، اگر فرق پڑے گا تو ایک موٹر سائیکل سوار غریب شخص کو پڑے گا جس کے ماہانہ اخراجات میں تقریباً 1000 سے 1500 کا یکمشت اضافہ ہو جائے گا۔

محترمہ مریم نواز صاحبہ فرماتی تھیں کہ اگر پیٹرول پر ایک روپیہ بھی بڑھے تو میاں صاحب پر گراں گزرتا ہے، اب ان کی اپنی حکومت نے یکمشت 30 روپے کا اضافہ کر دیا ہے تو میاں صاحب خیریت سے ہیں یا نہیں۔ ان کے دل کی شریانیں صحیح کام کر رہی ہیں یا غم عوام میں اضطراب کا شکار ہیں۔ ویسے بھی میاں صاحب کی پلیٹیں اکثر خطرے میں ہی رہتی ہیں۔ کب کیا ہو جائے کسی کو کچھ خبر نہیں ہوتی۔

عوام کے غم گساروں، ہمدردوں نے ابھی تک چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے، اپوزیشن اور حکومت دونوں ایک ہی پیج پر موجود ہیں۔ اپوزیشن بھی حکومت کی اور حکومت بھی اپوزیشن کی ہے۔ اس لئے کوئی کسی خوش فہمی میں نہ رہے کہ عوام کا کچھ بھلا ہو سکتا ہے۔ قیامت ابھی دور ہے، عوام کو ابھی مزید عشق کے امتحانوں سے گزرنا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے بچوں کو بیچنے پر مجبور ہوجائیں یا سمندر میں کود کر خودکشیاں کر لیں یا حقیقی اسلامی انقلاب کی طرف اپنے قدم کو بڑھائیں!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ذیشان یاسین تاجی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments