مہنگائی، گداگری اور غیر یقینی صورتحال
آج کے دور میں ہمیں بہت سارے مسائل کا سامنا ہے۔ جن میں سرفہرست مہنگائی، غیر علانیہ لوڈشیڈنگ اور پانی کی قلت جیسے دیگر کئی مسائل ہیں جو منہ کھولے کھڑے ہیں اور ہم ان کے سامنے بے بس ہیں اور گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہیں۔ یہ مسائل ایسے ہیں جن کو جلدبازی اور جذبات کی رو میں بہہ کر حل نہیں کیا جاسکتا صرف مناسب حکمت عملی سے ہی دور رس اور مثبت نتائج ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔
حالات کے پیش نظر کچھ مسائل ایسی نوعیت کے ہیں کہ ان کو فوری توجہ اور حل کرنے کی ضرورت ہے جیسا کہ گداگری کا منہ زور طوفان جس نے ہمیں بری طرح جکڑ لیا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ مانگنا اپنی توہین سمجھا جاتا تھا لیکن اب جگہ جگہ بڑی دیدہ دلیری سے مانگنے والے نظر آتے ہیں جو خود کو سفید پوش کہہ کر اس طبقہ کہ توہین کرتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ لوگوں میں احساس، خودداری، لحاظ و شرم ختم ہو گئی ہے۔ ہاتھ پھیلانے میں ان انہیں کوئی عار محسوس نہیں ہوتا۔
بے شک مہنگائی نے کمر توڑ رکھی ہے اور بے روزگاری عام ہے لیکن ایسی حالت میں کچھ موقع پرست لوگ بھرپور فائدہ اٹھانے کے چکر میں ہیں۔ جس کی وجہ سے مستحق اور حق دار کا حق مارا جاتا ہے۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ کون مستحق ہے اور کون نہیں۔
فی الوقت ہر گلی کوچے، دکان، بازار، پارکوں حتٰی کہ اسکولوں کے باہر بھی مانگنے والوں کی جم آفریں تعداد دیکھنے کو ملتی ہے جو لوگوں کو جذباتی باتیں کر کے جیسے کہ اپنے بچوں کا صدقہ، بچوں کی لمبی زندگی، میاں بیوی کی خوشحال زندگی، آسودگی، عمرہ و حج وغیرہ کا واسطہ دے کر پیسے ہتھیانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر کسی ایک مانگنے والے کو دے دیا جائے تو وہ اپنے باقی ساتھیوں کو بھی آگاہ کر دیتا ہے اور یوں مانگنے والوں کی قطار لگ جاتی ہے۔ ایسے مانگنے والوں کا ایک مافیا ہے جو گروہ در گروہ کام کر رہے ہیں اور جنہوں نے اپنے علاقے بانٹے ہوئے ہیں اور لاکھوں کا منافع کما رہے ہیں۔
یہ نام نہاد مانگنے والے حق دار کا حق مار دیتے ہیں۔ اب تو ہٹے کٹے، جسمانی طور پر بظاہر صحت مند لوگ بھی سڑکوں اور مختلف اشاروں پر مانگتے نظر آتے ہیں کچھ مانگنے والی خواتین نے ننگ دھڑنگ بچے اور ان کی دودھ کی بوتل پکڑے ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثر تو مانگنے والے محسوس بھی نہیں ہوتے پاس آ کر یا گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹاتے ہیں کہ وہ سفید پوش ہیں ان کی مدد کریں ایسے حالات میں ڈر بھی لگتا ہے کہ انجانے میں کوئی نقصان ہی نہ کر دیں۔ اب ایسی صورتحال میں بندہ سوچتا ہے کہ ان کو دینا جائز ہے کہ نہیں لیکن مسلمان ہونے کے ناتے ہماری پہلی سوچ یہی ہوتی ہے کہ ہم کون ہوتے ہیں یہ فیصلہ کرنے والے کہ کون حق دار ہے اور کون نہیں۔ کیا ہم حق دار ہیں جو اللہ تعالی نے ہمیں اتنی نعمتوں سے نوازا ہوا ہے اور دینے والا ہاتھ بنایا ہوا ہے۔
بقول واصف علی واصف صاحب ”کہ ہم نے کون سا اپنے پلے سے دینا ہے۔ ہم نے تو اللہ کی راہ میں دینا ہے اور اللہ تعالی کے دیے ہوئے میں سے دینا ہے“
لیکن صورتحال اس وقت سنگین و گمبھیر ہو جاتی ہے جب مانگنے والے اچانک آپ کے سر پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ جو آپ خرید رہے ہیں وہ لے کر دیں جیسے دودھ، دہی، بچوں کے کھانے پینے کی چیزیں، آٹا، چینی، گوشت حتٰی کہ حلوہ پوری غرض کچھ بھی خرید رہے ہیں تو وہ لے کر دیں۔ اب ان کی تسلی پچاس روپے سے نہیں ہوتی۔ اگر دس بیس دو تو واپس کر کے شرمندہ کر دیتے ہیں۔ اکثر چھوٹے بچے مانگتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ بچے آتے کہاں سے ہیں ان کے پیچھے ان کے گھر والے ہوں گے یا گروہ ہو گا۔ جو ادھر کی کہیں ان کی نگرانی بھی کر رہا ہو گا اور ان کو لانے لے جانے کے فرائض بھی سر انجام دے رہا ہو گا۔ مانگنے کا یہ طریقہ انتہائی غیر مناسب ہے اور اس کے سدباب کے لئے انتہائی اقدامات کی ضرورت ہے۔
سب سے اہم تو یہ ہے کہ مانگنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ سکیورٹی پر مامور لوگ ان کو سوسائٹی، فلیٹ، بازار یا اردگرد کے علاقوں میں آنے ہی نہ دیں۔ دوسرا یہ کہ ہم مستحق لوگوں خاص طور پر ان لوگوں کی مدد کریں جن کو ہم جانتے ہیں خاص طور پر جو ہمارے ہمسائے ہیں یا غریب رشتہ دار ہیں لیکن یاد رکھیں کہ اس کی گئی مدد کی تشہیر کر کے اپنی نیکی کو ضائع نہ کریں۔ اپنے گردونواح میں نظر دوڑائیں آج کے بے روزگاری کے دور میں بہت سارے ایسے گھر ہیں جہاں بچے بھوکے سوتے ہیں۔ جہان واقعی ویرانی و محرومی کا راج ہے۔ مہنگائی اپنے عروج پر ہے اور روزگار نہ ہونے کی وجہ سے لوگ خودکشی کرنے کو آسان حل سمجھتے ہیں ان لوگوں کی مدد کریں۔
ہمیں اپنی سوچ پر بھی کام کرنا چاہیے کام چھوٹا ہو یا بڑا اس سے فرق نہیں پڑتا۔ ہر کام محنت اور لگن سے کریں تاکہ حلال کر کے کھا سکیں۔ کچھ لوگ کام کرنا ہی نہیں چاہتے چھوٹا یا بڑا کام یہ تو بعد کی بات ہے۔ ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں بیٹھے بٹھائے تنخواہ مل جائے اور کچھ کرنا نہ پڑے اور جن کو کام مل جاتا ہے وہ اس کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے بلکہ احسان جتا کر کام کرتے ہیں۔
حکومتی سطح پر لوگوں کو ہنر سکھایا جائے تاکہ وہ اپنے ہاتھ سے محنت مزدوری کر کے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔ یومیہ اجرت میں اضافہ کیا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں غریب دو وقت کی روٹی کھا سکے۔
پیشہ ور بھکاریوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ گداگری سے معاشرے کو پاک کیا جا سکے اور حقدار کو اس کا حق مل سکے۔
عوام کو باور کرایا جائے کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہت افضل ہے۔ ہمیں ہر حال میں محنت کر کے کھانے کو فوقیت دینی چاہیے۔
پاکستان ایک عظیم ملک ہے جہاں کے مخیر حضرات دل کھول کر لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ چھوٹے بڑے خیراتی اداروں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ یہاں خیرات و زکٰوۃ کا تناسب بہت زیادہ ہے۔ لیکن موقع پرست گروہ اور گداگری مافیا کے لوگ ہر طرف ہاتھ مارتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ضرورت سے زیادہ حاصل کر لیتے ہیں اور امداد کے حقیقی حقدار محروم رہ جاتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ایسے لوگوں کی حوصلہ شکنی کریں اور ان کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ حقدار کو اس کا حق مل سکے۔


