تعلیمی بجٹ پر ایک اور کٹ


قوموں کی ترقی میں جو نقطہ بنیادی محرک کا کردار ادا کرتا ہے وہ علم ہے، ترقی اور تنزلی میں بنیادی لائن تعلیم ہی کھینچتی ہے، کسی بھی ریاست کا تعلیمی نظام اس کے ماضی اور حال کو جانچنے کے ساتھ ساتھ مستقبل کو پرکھنے کا ذریعہ بھی ہوتا ہے، تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ، جہاں کسی قوم نے اپنے تعلیمی نظام کی طرف سنجیدگی سے توجہ دی وہ قوموں کی صف میں ضرور آگے بڑھی، اور جس نے اس حقیقت سے پہلو تہی کی وہ پستی اور گمنامی کے گڑھے میں گر گئی، کیس سٹڈی کے طور پر کسی بھی ترقی یافتہ ملک کو بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے۔

اس پس منظر میں بحیثیت قوم اگر ہم اپنے کردار و عمل کا جائزہ لیں تو ہمیں اپنا نظام تعلیم مصلحتوں کا شکار نظر آتا ہے، ہم نے اپنی سات دہائیوں پر مشتمل تاریخ میں اپنے تعلیمی اداروں کی تعداد میں تو اضافہ کر لیا، ملک میں جہاں جامعات کی تعداد میں خاصا اضافہ ہو چکا ہے وہاں تعلیمی مسائل بھی بہت بڑھ چکے ہیں ان مسائل کی ایک بنیادی وجہ حکومتوں کی ترجیحات کی فہرست میں تعلیم کا نچلے درجہ پر ہونا ہے، یہی وجہ ہے کہ ان جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری کا معاملہ ہو یا وائس چانسلرز سرچ کمیٹیوں کی تشکیل، نئی جامعات کے قیام کا معاملہ ہو یا پرانی یونیورسٹیوں کے معیار کی بات۔

اس نظام کے مرکز و محور ”استاد“ کی تقرری کا معاملہ ہو تو وہ بھی ٹی ٹی ایس اور بی پی ایس کی بحث میں الجھا ہوا نظر آئے گا، یہ تمام معاملات اپنی جگہ پر توجہ کے متقاضی تو تھے ہی، مگر ان نا مساعد حالات کے باوجود پاکستانی یونیورسٹیاں واحد شعبہ ہیں جنھوں نے گزشتہ چند سالوں میں شاندار ترقی کا سفر طے کیا اور پاکستانی یونیورسٹیوں کی بین الاقوامی رینکنگ میں اضافہ ہوا۔ عالمی ادارے پاکستان کی اعلی تعلیم میں ترقی کے سفر کو سراہ رہے تھے۔

گزشتہ برسوں ہم نے اپنے سے سات گناہ بڑے ہمسائے سے زیادہ، تحقیقی مقالات تخلیق کیے تھے، تاہم حکومتوں کی پالیسیاں یونیورسٹیوں کی ترقی پر کاری ضرب لگا رہی ہیں اور ترقی کا یہ سارا عمل واپس ہونے کا خدشہ ہے، اور اس سے بڑھ کر اب ان سرکاری جامعات کی بقا کا مسئلہ پیدا ہو گیا ہے، ان کا اپنا وجود خطرے میں پڑ چکا ہے، پہلے سے کم تعلیمی بجٹ میں مزید کمی کر دی گئی ہے، اور شنید ہے کہ آئندہ بجٹ میں مزید کٹ لگائے جا رہے ہیں۔ ہم اپنے جی ڈی پی کا صرف اڑھائی فیصد تعلیم کی مد میں مختص کرتے تھے جس کی شرح زکوۃ کے برابر تھی اور اعلی تعلیم کی مد میں تو صرف ایک فیصد با مشکل مختص ہوتا تھا اب حکومت وہ بھی دینے کو تیار نہیں، اس صورتحال میں یونیورسٹیوں کی عالمی صف بندی میں ٹاپ 500 کی رینکنگ میں پہنچنے کا ہمارا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہوتا نظر نہیں آ رہا، کیونکہ ٹریول گرانٹ بند ہونے سے ہمارے ریسرچرز کو اپنی تحقیق دنیا کے سامنے رکھنے میں دشواری آ رہی ہے۔

ریسرچ فنڈنگ نہ ہونے سے ہماری تحقیق معیاری مقالوں میں شائع نہیں ہو پا رہی، اور نہ ہی ہمارے طلبا عالمی اداروں سے پی ایچ ڈی اور پوسٹ پی ایچ ڈی کرنے کی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں گے، ایسے ریسرچرز کی سینکڑوں درخواستیں گزشتہ کئی مہینوں سے التوا کا شکار ہیں۔

دوسری طرف ہمارے ملک میں شرح خواندگی پہلے ہی کم ہے اور اگر ہم اعلی تعلیم کی بات کریں تو ہمارے ملک میں آبادی کا صرف ایک فیصد طبقہ یونیورسٹی میں تعلیم کے حصول کے لیے پہنچتا ہے۔ اگر ہم اس ایک فیصد کو بھی تعلیم نہیں دے سکتے تو ہمیں سوچنا ہو گا کہ کہیں ہم کسی سازش کا شکار تو نہیں ہو رہے، کہیں ہماری جامعات کو اسی طرح تباہ تو نہیں کیا جا رہا جس طرح ہمارے سرکاری سکول برباد ہوئے۔ آج حالت یہ ہے کہ ملک کی چھوٹے اور درمیانے درجے کی جامعات کے پاس اپنے اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے فنڈز نہیں۔ ملک کے مخدوش معاشی حالات اپنی جگہ پر مگر ایجوکیشن کے بجٹ میں کٹ سے اس تعلیم نظام کی بقا کے حوالے سے بہت سے سوالات ابھر رہے ہیں۔

جامعات جو کہ آزادی اظہار کا موثر فورم ہوا کرتی ہیں ان کی اناٹومی پر کاری ضرب لگائی جا رہی ہے۔ حکومت کو فوری طور پر اس طرف توجہ دینی چاہیے تاکہ اساتذہ غیر ضروری امور میں الجھنے کی بجائے علم و تحقیق پر بھر پور توجہ دیں اور ملک میں اعلی تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے میں اپنا کردار یکسوئی سے انجام دے سکیں اور اقوام عالم کی صف میں اپنی جگہ بنا سکیں۔

( ڈاکٹر محبوب حسین۔ پنجاب یونیورسٹی میں تاریخ کے استاد ہیں )

Latest posts by ڈاکٹر محبوب حسین (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر محبوب حسین کی دیگر تحریریں

ڈاکٹر محبوب حسین

مضمون نگار پارلیمینٹری ورکنگ گروپ کے ممبر اور پنجاب یونیورسٹی میں سیاسی تاریخ کے پروفیسر ہیں

dr-mahboob-hussain has 2 posts and counting.See all posts by dr-mahboob-hussain

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments