پیاسے سندھ کی آبی داستان


سندھ کا دوسرا نام اگر پیاسی دھرتی رکھ لیا جائے تو اس وقت غلط نہیں ہو گا کیونکہ سندھ اس وقت تاریخ کے بدترین زرعی اور پینے کے پانی کے بحران سے گزر رہا ہے سندھ میں اس وقت 70 فیصد پانی کی کمی ہے اور جو پینے کا پانی میسر ہے وہ 80 سے نوی فیصد انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔

دریائے سندھ پر انحصار کرنے والے آخری اضلاع سے لوگوں کی اکثریت نقل مکانی کر رہی ہیں۔ زمینیں خالی پڑی ہیں، اکثریت کسانوں اور زمینداروں کے گھروں کے چولہے بجھ چکے ہیں، لوگ مجبور ہو کر شہروں کا رخ کر رہے ہیں کہ وہاں پر محنت مزدوری کر کے اپنے خاندان کا پیٹ پال سکیں۔ حیدرآباد، ٹھٹہ، سجاول اور بدین سمیت مختلف علاقوں میں کھڑی فصلوں خصوصاً کپاس کو نقصان ہوا ہے، اس دفعہ کپاس کی فصل 35 سے 40 فیصد کم ہونے کو جا رہی ہے۔

سانگھڑ میں 50 سے 60، جب کہ پچھلی شاخوں (ٹیل) میں 80 فیصد تک پانی کی کمی ہے، سانگھڑ میں 3 میں سے ایک لاکھ ایکڑ پر کپاس کاشت نہیں ہو سکی ہے۔

سندھ کے موسم پنجاب سے ایک ماہ آگے ہیں، یعنی سندھ میں پنجاب سے ایک ماہ پہلے گرمیوں کا سیزن شروع ہوتا ہے جس کی وجہ سے ربیع کا سیزن بھی پہلے شروع ہوتا ہے۔

سندھ کو عموماً مارچ اور اپریل میں پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن روایت یہ چلتی آ رہی ہے کہ اس دورانیہ میں سندھ کو پانی فراہم نہیں کیا جاتا۔ پانی کی یہ فراہمی سندھ کے لئے مئی، جون میں جاکر شروع ہوتی ہے۔ اب اس میں بھی یہ ہوتا ہے کہ یہ پانی پہلے پنجاب کو فراہم کیا جاتا ہے بعد میں سندھ کو دیا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سندھ کی فصلیں پانی کی قلت کے سبب خراب ہو رہی ہوتی ہیں۔

دریائے سندھ کی ڈاؤن اسٹریم پانی کی سطح خطرناک حد تک گر گئی ہے اور شارٹ فال 60 فیصد تک جا پہنچا ہے، کوٹری ڈاؤن اسٹریم میں ریت اڑ رہی ہے۔

1991 کے پانی کے معاہدے کے تحت مئی کے مہینے میں کوٹری بیراج پر 15 ہزار کیوسک پانی ہونا چاہیے تھا لیکن اس وقت 200 کیوسک پانی بھی بمشکل چھوڑا جا رہا ہے، کاشت کاری ناپید ہے، صرف کوٹری بیراج سے نکلنے والی نہروں سے پینے کا پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

سندھ کا ایسا کوئی ضلع باقی نہیں جہاں پانی کی شدید قلت کے باعث مسلسل احتجاج نہ ہوا ہو۔ حقیقت یہ ہے کے کسان، آباد کار، ماہی گیر پوری سندھ میں پانی کی قلت کے باعث سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

وفاق کی طرف سے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم/فراہمی کے باعث زیادتی اور نا انصافی کی تاریخ رقم ہوتی چلی آ رہی ہے۔ وفاق اور ارسا پر پنجاب کے حکمران طبقے کا غلبہ قائم ہے جس کی وجہ سے وفاق اور ارسا پانی کی قلت کا بہانا بنا کر سندھ کو اپنے حصے کا پانی فراہم نہیں کر رہے۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے سندھ اور پنجاب کے تاریخی تنازعہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ پنجاب 1859 سے دریائے سندھ پر نہریں اور ڈیم بنا رہا ہے اور لوئر ریپیرین والے سندھ کے آبی حقوق کو تسلیم نہیں ہونے دیتا۔

1857 میں پنجاب کے حکمران طبقے کی وفاداری کے بدلے انگریز نے پنجاب کو دنیا کا آبپاشی کا بہترین نظام دیا اور یوں پنجاب کی زمینیں آباد ہونے لگیں۔ 1859 میں بنی دو آب کینال، 1885 سے 1901 تک سدھنائی، لوئر چناب، لوئر جہلم کینال وغیرہ سندھ کو فیصلہ سازی کے عمل میں شامل کیے بغیر تعمیر کئی گئیں۔ سندھ کے اعتراض کے بعد انگریزی حکومت نے صوبہ سندھ میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے مختلف کمیشن بنائے جن میں انڈیا اریگیشن کمیشن 1901، کاٹن کمیٹی 1919، راؤ کمیشن 1941 وغیرہ شامل ہیں۔ ان سب کمیشنوں نے دریائے سندھ کے نظام پر پنجاب کو سندھ کی اجازت کے بغیر مزید تعمیرات کرنے سے سختی سے منع کیا۔

سب سے اہم 1941 کا راؤ کمیشن تھا جس کی سربراہی کلکتہ ہائی کورٹ کے جج بی ایم راؤ کر رہے تھے۔ جس میں تجویز دی گئی کہ سکھر بیراج کے بعد سندھ میں 16 کروڑ روپے کی لاگت سے دو نئے بیراج بنائے جائیں، پنجاب پر 2 کروڑ لاگو کیے گئے تاکہ سندھ کو ہونے والے نقصان کی تلافی کی جا سکے۔ کمیشن کی تجویز کی بنیاد پر 1945 میں سندھ اور پنجاب کے درمیان پانی کا معاہدہ ہوا۔ جس کا آرٹیکل 8 یہ تھا کہ ”مستقبل میں پنجاب سندھ کی مرضی کے بغیر دریائے سندھ پر کوئی ڈیم نہیں بنائے گا تقسیم کے بعد ہندوستان (مشرقی پنجاب) اور پاکستان کے پنجابی حکمرانوں نے جو معاہدات کیے تھے ان میں سندھ کی نمائندگی نہیں تھی۔

تقسیم کے فوراً بعد جب تین دریاؤں ستلج، راوی اور بیاس کا پانی بند ہوا تو پنجاب کے حکمرانوں نے بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے اور ان دریاؤں پر بھارت کا حق تسلیم کر لیا۔

ایوب خان کا تشکیل کردہ انڈس بیسن ایڈوائزری بورڈ جس کا کام بین الاقوامی اداروں اور بھارت سے بات کرنا تھا، اس میں پنجاب کے علاوہ کسی صوبے کی نمائندگی نہیں تھی۔ بورڈ نے 1960 میں انڈس بیسن ٹریٹی کیا جس کے تحت تین دریا بھارت کو عطیہ کیے گئے اور دوسری جانب عالمی ادارے اور بھارت پاکستان کے نقصان کا ازالہ کریں گے۔

پنجاب کے حکمرانوں نے پورے پاکستان میں پانی کے بحران کے بہانے اور بھارت کے حکمران سے مل کر معاوضہ لے کر 1960 میں جہلم دریا پر منگلا ڈیم بنانا شروع کیا اس سے بھی آگے بڑھ کر 1968 میں دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم بنایا۔

1967 میں دریائے سندھ سے پانی لینے کے لیے جہلم لنک کینال بنانے کا کام بھی شروع کیا گیا، پر بھٹو کے دور حکومت میں سندھ کے اعتراض پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ جہلم لنک کینال کو سندھ حکومت کی رضامندی کے بغیر نہیں کھولا جائے گا۔ اور صرف سیلابی صورتحال میں کھولا جائے گا، لیکن یہ کینال آج بھی 12 ماہ ہی کھلی چھوڑی ہوئی ہے۔

ہمیں یہ ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کے تمام بڑے دریا درحقیقت ٹرانس باؤنڈری (مختلف ممالک میں محفوظ قرار دیے گئے علاقے ) ہیں۔ اسی طرح دریائے سندھ ایک ٹرانس باؤنڈری دریا ہے، جو چین، بھارت اور پاکستان خیبر پختونخوا، پنجاب اور سندھ میں آ کر بہتا ہے۔

اس طرح سے، دریائے سندھ چین، بھارت اور پاکستان کے درمیان ٹرانس باؤنڈری دریا ہے، لیکن دریائے سندھ پاکستان کے اندر صوبوں کے اندر بھی ٹرانس باؤنڈری یا اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم دریا کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارے ملک پاکستان میں اس کے بالکل برعکس ہے۔

جب ممالک کے درمیان ٹرانس باؤنڈری یا ڈاؤن اسٹریم بہاؤ کی بات ہوتی ہے تو ہماری وفاقی حکومت ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ڈاؤن اسٹریم یا لوئر رپیرین بن جاتا ہے اور جب دریائے سندھ پر ڈاؤن اسٹریم یا لوئر رپیرین کے حق کی بات کرتے ہیں تو ملکی سالمیت خطرے میں آجاتی ہے۔

ستم ظریفی یہ بھی کہ انڈس واٹر ٹریٹی کے ذریعے انڈس ریور سسٹم پر ڈیم اور بیراج بنا کر دریا کا رخ موڑ دیا گیا، دریا کا ماحول تباہ کیا گیا، خوبصورت جنگلات تباہ کیے گئے، دریا کے دونوں کناروں پر رہنے والے لوگوں کی زندگیاں اور ان کا تاریخی روزگار تباہ کیا گیا۔ دریا کے اپ اسٹریم والے صوبے پنجاب کی دریا کے پانی پر بالادستی قائم کی گئی۔

اسی طرح پاکستان کے صوبوں میں پانی کی منصفانہ تقسیم کے لیے ایک کمزور اور ڈیمز کے لیے معاون 91 پانی کا معاہدہ قائم کیا گیا۔ وفاقی حکومت اور پنجاب ہمیشہ سندھ کا پانی چوری کرنے اور سندھ کو تباہ کرنے کے لیے اس معاہدے کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے۔

مندرجہ بالا واضح کی گئی صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک ایسے پانی معاہدے کی ضرورت ہے، جس کی بنیادیں ماحولیاتی، مقامی، جغرافیائی، ثقافتی اور پیداواری حقوق کی فراہمی پر استوار کی جائیں۔ پانی کی تقسیم نہ صرف زراعت کے مطابق ہو بلکہ دریاؤں کے رخ موڑنے اور اس پر ڈیموں کی تعمیر پر سختی سے پابندی لاگو کرنا اور اس پر عمل کرانا بھی شامل ہو (دریا کو دریا کے حق کی فراہمی) ، اس کے علاوہ نئے پانی کے معاہدے کے تحت انڈس ڈیلٹا کو پانچویں شیئر ہولڈر کے طور پر تسلیم کیا جائے، اس اصول پر اداراتی اور سماجی سطح پر عمل کرایا جائے۔

دریا کی دم پر صدیوں سے چلے آرہے مقامی کلچر اور ملاحوں کی رہائش اور ذرائع معاش کو بڑھاوا دینے کے اصول کو معاہدے کے بنیادی اصولوں میں شامل کیا جائے۔ اس طرح کے معاہدے کے سامنے آنے اور حقیقی شکل اختیار کرانے میں سب سے زیادہ اہم اور ناقابل فراموش بات یہ ہونی چاہیے کہ نچلی سطح پر موجود ہونے کی صورت میں سندھ اور سندھ کی عوامی اکثریت کو نہ صرف فیصلہ سازی کے عمل میں حصہ بنایا جائے بلکہ انہیں فیصلہ ساز ہونے کا درجہ دیا جائے۔

 

Facebook Comments HS