حکمران اور کاریگری


پاکستان میں حکمرانی کرنا کبھی بھی آسان نہیں رہا اس کو کانٹوں کی سیج کہہ لیں یا کانٹے ہی کانٹے کہہ لیں جو بھی حکمرانی کا نشہ لے کر کرسی پر براجمان ہوا اس کا نشہ اترتے زیادہ دیر نہ لگی قیام پاکستان کے بعد آنے والے حکمرانوں کا اقتدار سے جانا متنازع ہی رہا پاکستان کے شروع کے حکمران جس انداز سے اقتدار سے رخصت ہوئے وہ لوگوں کو شاید یاد نہ ہو لیکن آج کے دور میں سوشل میڈیا اتنی ترقی کر چکا ہے کہ کچھ بھولنا بھی چاہا جائے تو یہ ممکن نہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیں تو خفیہ ہاتھ کا ذکر ہر دور میں ہوتا رہا کبھی اس ہاتھ کو اندرونی اور کبھی بیرونی کہا گیا قائد اعظم محمد علی جناح کی رحلت سے لے کر آج تک خفیہ ہاتھ کا شور تو بہت مچایا گیا لیکن یہ ہاتھ خفیہ ہی رہا۔ میری ذاتی رائے میں اس خفیہ ہاتھ کا دوسرا عام سمجھنے والا نام کاریگری ہے اسی کاریگری کو لے کر پاکستان کی سیاست پر نظر ڈالتے ہیں ویسے تو اس کو تجربہ کار بھی کہا جا سکتا تھا لیکن اس میں خفیہ ہاتھ کا احاطہ نہیں ہوتا جب کاریگری کا لفظ سامنے آ جائے تو خفیہ ہاتھ کا ذہن میں آ جاتا ہے تو بات پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان سے شروع کرتے ہیں اب یقینی طور پر یہ سوچ نمودار ہوگی کہ قائد اعظم محمد علی جناح سے بات کا آغاز کیوں نہیں کر رہا تو اس کی وجہ سادہ سی ہے کہ ان کا یہ مقام نہیں کہ ان کی شخصیت کے بارے کوئی ایسی بات کی جائے جو تنازعہ پیدا کرے انہوں نے اپنی فہم و فراست سے ہمیں ایک ایسا ملک لے کر دیا جہاں ہم آزادی سے سانس لے سکتے ہیں انہوں نے اپنا فرض پورا کیا اور تاریخ میں اپنا مقام بنا گئے۔

پاکستان کے اقتدار پر بعد میں آنے والے حکمران کسی نہ کسی کاریگری کا شکار ہوئے وہ اقتدار میں یا تو کاریگری سے آئے یا پھر کسی دوسرے کی کاریگری کا شکار ہو کر رخصت ہو گئے۔ پاکستان کے اقتدار پر چوبیس منتخب اور سات نامزد ہونے ہونے والے وزیر اعظم کسی نہ کسی کاریگری کے باعث ہی وزیر اعظم کے مسند پر فائز ہوئے۔

پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان پاکستان کی پہلی کاریگری کا شکار ہوئے وہ جلسے میں خطاب کے لیے کھڑے ہوئے تقریر شروع کی گولی چلی وہ گر گئے اسٹیج سے گولی چلانے والے پر گولی چلی وہ ہلاک ہوا جس کے پاس تفتیش تھی۔ وہ بھی حادثے کا شکار ہو کر رخصت ہو گے اور سب کچھ کاریگری سے دو لائنوں کی تاریخ بن کر فائلوں میں گم ہو گیا یہ پاکستان کی تاریخ کی ایسی کاریگری تھی جس نے ہماری سیاست کا رخ متعین کر دیا جو آج بھی جاری ہے۔

کچھ بھی ہو ہماری ملکی سیاست کاریگری کے بغیر نا ممکن ہے۔ لیاقت علی خان کے بعد آنے والے چھ وزیر اعظم بھی کاریگری کا شکار ہوئے ان چھ وزرائے اعظم میں سب سے زیادہ محمد علی بوگرہ دو سال سے زائد عرصہ اور سب سے کم ابراہیم اسماعیل چندریگر ساٹھ دن وزیر اعظم رہے جس ملک میں چھ سال کے عرصہ میں چھ وزرائے اعظم تبدیل ہو جایں وہ کاریگری نہیں تو اور کیا ہے اور پھر اقتدار کی راہ داریوں میں ایسی کاریگری کا مظاہرہ کیا گیا کہ پورا نظام ہی لپیٹ دیا گیا سیاست دانوں کو ایک ایسا نظریہ دیا گیا جس سے سیاسی نظام کمزور ہو گیا اور جس کو پوری قوم ماں کا درجہ دیتی تھی۔

اس مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو کاریگری سے ہرا دیا گیا اور کوئی آج تک یہ بات سمجھنے کو تیار نہیں کہ جس گھر میں ماں کی تذلیل ہو وہ گھر قائم نہیں رہتا کیونکہ قدرت کو یہ ہر گز قبول نہیں لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت کا کاریگر قدرت کے رموز اور رازوں سے ناواقف تھا اور یہ تو سب جانتے ہیں کہ کاریگر ماہر نہ ہو تو پوری عمارت ہی زمین بوس ہو جاتی ہے اور پھر ایسا ہی ہوا ملک دو لخت ہوا اور پہلی بار غیر ملکی کاریگری سامنے آئی اور پھر ملکی سیاست میں کسی بھی تبدیلی کو غیر ملکی کاریگری قرار دیا جانے لگا

ستر کی دہائی بھٹو حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک کو بھی حکومت نے غیر ملکی کاریگری قرار دیا اور اس کے حامی تجزیہ کا ر آج بھی اسے غیر ملکی کاریگری قرار دیتے ہیں اور پھر تحریک نظام مصطفے کا رخ تبدیل کرنے کے لیے سول حکومت کو چلتا کیا اور مزید کاریگری یہ کی کہ نظام کی تبدیلی کے لیے چلنے والی تحریک کو دھاندلی کے خلاف تحریک کا شوشہ چھوڑ کر تحریک نظام مصطفے کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی اور عوام کو بھی سیاسی قیادت سے مایوس کرنے کی کاریگری کی گئی

تاریخ کی کتابوں میں بھی نظام کی تبدیلی کے لیے چلنے والی تحریک نظام مصطفے کے ذکر کو عالمی کاریگری سے دبا دیا گیا لیکن اس تحریک کے اثرات عوام کے دلوں سے آج تک نہ نکالے جا سکے۔ تحریک نظام مصطفے نے عالمی کاریگروں کو سوچنے پر مجبور کیا اور پھر سیاست میں کام، کردار اور عزت کی بجائے دولت کو معیار بنانا شروع کر دیا گیا تا کہ قوم کو کرپٹ کیا جا سکے پہلے سیاست میں پیسہ پھینکا گیا سیاست دان کرپٹ کیے اور پھر عوام بھی اسی زنجیر کا حصہ بن گئے کرپشن کرنا عام ہو گیا سیاست دان اپنی کرپشن کے لیے عوام کو بھی کرپٹ کرنے لگے یہاں تک کہ پاکستان عالمی طور پر کرپٹ ملکوں میں شامل ہو گیا جو جتنا بڑا کرپٹ اسے اتنا ہی بڑا عہدہ دیے جانے لگا کرپشن عام ہو گئی اور سیاسی رہنماؤں اور عوام کو کرپشن کے حمام میں بڑی کاریگری سے ننگا کر دیا گیا اور اس کا عمل آج بھی جاری ہے کیونکہ کوئی بھی نظام کی تبدیلی نہیں چاہتا سب اس کرپٹ نظام کی حفاظت کر رہے ہیں۔

جگہ کی کمی اور تحریر کی طوالت کے باعث دیگر حکمرانوں کی کاریگری پر لکھنا ممکن نہیں مختصر یہ کہ پاکستان کی سیاست میں تجربہ کار سیاست دان اور حکمرانوں کا آج کل بہت ذکر سننے کو مل رہا ہے صرف اتنا عرض ہے کہ یہ سب کے سب تجربہ کار نہیں کاریگر ہیں ان کی کاریگری عوام سمجھے کاریگر اور تجربہ کار میں فرق کی پہچان کرے ورنہ یہ اپنے تجربے سے ایسی کاریگری کا مظاہرہ کریں گے کہ تاریخ ان کو تو معاف نہیں کرے گی عوام بھی کاریگر کی کاریگری سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے

Facebook Comments HS