گول اے، لال اے: برانڈڈ تربوز
آج کل سوشل میڈیا پر ”گول اے، لال اے“ نامی ایک تربوزوں کی ویڈیو کافی وائرل ہے۔ اس ویڈیو میں تربوزے بیچنے والے خریداروں کی توجہ انتہائی دلچسپ طریقے سے اپنی طرف مبذول کروا کے تربوزے بیچ رہے ہیں۔ دراصل ”گول اے، لال اے“ کا نعرہ بار بار لگا کر انہوں نے خود کو ایک برینڈ بنا لیا اور اس کی بدولت وہ سب سے پہلے اپنی تربوزوں سے بھری گاڑی بیچ کر گھروں کو لوٹنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
دیکھنے میں یہ ایک مزاحیہ سا کلپ ہے۔ مگر سوچنے اور سمجھنے والوں کے لیے ایک انتہائی اہم پیغام بھی اس میں پوشیدہ ہے۔ وہ یہ کہ اگر آپ بھی زندگی میں کامیابیاں سمیٹنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کے دنیا سے گزر جانے کے بعد بھی آپ کا نام زندہ و سلامت رہے تو خود کو ایک برینڈ بنا لیجیے۔ اور برینڈ بننا اور بنانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر یہ سادہ لوح ان پڑھ تربوزے بیچنے والے خود کو ایک برینڈ بنا کر اپنی تربوزوں سے بھری گاڑی فل فور بیچنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو پڑھا لکھا طبقہ عقل و فہم کی ساری فراست و بلاغت کے باوجود خود کو برینڈ کیوں نہیں بنا سکتا؟
ایک کامیاب کاروبار کے لیے اس کو ایک برینڈ بنانے کی جستجو کا ہونا بہت ضروری ہے۔ یہودی اس لحاظ سے دنیا میں سب سے آگے ہیں۔ وہ ہمارے آلو ہمیں ہی لیز کی شکل میں برینڈ بنا کر مہنگے داموں بیچ رہے ہیں، اور ہم اور ہمارے بچے لیز کھا کر خود کو برینڈڈ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی طرح ہماری روزمرہ کی ہر چیز حتی کہ صابن سے لے کر مشروبات تک سب کے سب ترقی یافتہ قوموں کی ٹرینڈز کی کامیاب حکمت عملی کی مرہون منت ہے۔
لہذا، ہمیں بھی دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہونے کے لیے بین الاقوامی سطح کے برینڈز بنانا پڑیں گے۔ ہماری قابل اور محنتی نوجوان نسل کو نوکریوں کے پیچھے بھاگنے کی بجائے ذاتی کاروبار تشکیل دینے اور انہیں برینڈز بنانے کی طرف اپنی توانائیاں صرف کرنا ہوں گئیں۔ ہمیں ہمارے فرسودہ معاشی اور معاشرتی رجحانات کو ترک کر کے ترقی پسند رویوں کو اپنانا ہو گا۔ ورنہ غربت، جہالت اور بے روزگاری کی چکی میں ہم ہماری آنے والی نسلوں سمیت یونہی پستے رہیں گے


