عمران کا ”آزادی مارچ“ کامیاب ہوا یا ناکام؟


عمران خان نے اپنی حکومت کے خاتمہ کے ڈیڑھ ماہ بعد ہی عوام کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دے دی انہوں نے اسے ”آزادی مارچ“ قرار دیا جب کہ حکومت نے اس ”فتنہ و فساد“ لانگ مارچ کا نام دیا۔ عمران خان نے ملتان کے جلسہ عام میں ”لانگ مارچ“ کی تاریخ کا اعلان کرنا تھا لیکن ”گرفتاری“ کے خدشہ کے پیش نظر اور طاقت ور قوتوں کے ساتھ رابطہ کے باعث لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان پشاور سے کیا جہاں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ہے۔

اسی طرح پی ٹی آئی کے بڑے رہنماؤں نے گرفتاریوں سے بچنے کے لئے خیبر پختونخوا میں پناہ لے لی ویسے تو عمران خان اپنے جلسوں میں عوام سے اپنی ”آزادی و خود مختاری“ کے تحفظ کے لئے سڑکوں پر نکلنے کا عہد لیتے رہے لیکن انہوں نے پشاور میں پریس کانفرنس میں ”شارٹ نوٹس“ پر 25 مئی 2022 کو شاہراہ سرینگر پر پہنچنے کی کال دے دی۔ ایسا دکھائی دیتا ہے کہ عمران خان نے عجلت میں لانگ مارچ کی کال دی۔ عام تاثر تھا کہ حکومتی اتحاد قبل از وقت انتخابات کرانے بارے میں کنفیوژن کا شکار ہے۔

حکومتی حلقوں کی طرف سے یہ افواہ پھیلائی گئی کہ حکومتی اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی کے سوا بیشتر جماعتیں قبل از وقت انتخابات کرانے کے لئے تیار ہیں۔ حکومتی اتحاد کی طرف یہ تاثر دیا گیا کہ وہ عام انتخابات کروا کر اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے۔ حکومتی حلقوں کی طرف یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ عمران خان کو ”شاہراہ سرینگر“ پر شو آف پاور کرنے کی اجازت دے دی جائے گی لیکن لانگ مارچ کے شرکا کے 25 مئی 2022 کو اسلام آباد پہنچنے کے لئے ایک روز قبل وفاقی کابینہ نے پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ کر کے یہ پیغام دیا ہے ”عمران خان کو کسی صورت جلوس کے ہمراہ اسلام آباد داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی“

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد رانا ثنا اللہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ ”حکومت لانگ مارچ کے نام پر فتنہ و فساد برپا کرنے کی اجازت نہیں دے گی“ 2014 میں ریڈ زون میں عمران خان کے دھرنا نمبر ایک کو روکنے کے لئے اس وقت کی حکومت عمران خان کے مارچ کو اسلام آباد تک پہنچنے کی راہ میں حائل نہیں ہوئی عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے نواز شریف حکومت کو ریڈ زون میں داخل نہ ہونے کی یقین دہانی کرا رکھی تھی لیکن جب لانگ مارچ کے شرکا اسلام آباد پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو نواز شریف نے پولیس اور ایف سی کو لانگ مارچ کے شرکا کو ریڈ زون میں داخل ہونے سے نہ روکنے کی ہدایت جاری کر دی چوہدری نثار علی خان نے وزیر اعظم کی جانب سے لانگ مارچ کے شرکا کو ان کی مشاورت کے بغیر ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر بطور احتجاج استعفیٰ دے دیا تھا۔

لانگ مارچ کے شرکا کو ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت کا یہ نتیجہ نکلا کہ شرکا نے پارلیمنٹ ہاؤس کے ایک حصے اور ایوان صدر و وزیر اعظم ہاؤس جانے والے راستے پر قبضہ کر لیا وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کا عقبی راستے سے پارلیمنٹ ہاؤس میں آنا ممکن ہوا۔ پی ٹی آئی کے کارکنوں نے پی ٹی وی کی عمارت پر قبضہ کر کے اس کی نشریات معطل کر دیں یہ دھرنا 126 دن جاری رہا عمران خان کو اسلام آباد سے خالی ہاتھ ہی واپس جانا پڑا اس وقت ان کا مطالبہ قومی اسمبلی کے 4 حلقوں کھولنا تھا۔ ان کے مطالبہ پر 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف جوڈیشل کمیشن تو قائم ہو گیا لیکن انہوں نے اس کمیشن کی رپورٹ کو تسلیم کیا اور نہ ہی حکومت کے خلاف احتجاج ختم کیا۔

شنید ہے ”نادیدہ قوتوں“ کی جانب سے عمران خان سے رابطہ کر کے ”لانگ مارچ“ کی تاریخ کچھ دن موخر کرنے کے لئے رابطہ کیا لیکن عمران خان کی ضد آڑے آ گئی جوں ہی عمران خان پریس کانفرنس میں ”آزادی مارچ“ کی تاریخ کا اعلان کرنے لگے شاہ محمود قریشی کو ایک پراسرار فون آیا عمران خان نے انہیں فون بند کرنے کا کہا لیکن یہ فون ایک اہم شخصیت کی طرف سے تھا جس کے فون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ عمران خان نے فون کرنے والی شخصیت کے نام سے آگاہی کے باوجود شاہ محمود قریشی کو فون بند کرنے کہہ دیا۔

شنید ہے کہ عمران خان کا جن اہم شخصیات سے رابطہ ہے انہوں نے انہیں لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کرنے کا مشورہ دیا لیکن انہوں نے اس مشورہ کو قابل اعتنا نہ سمجھا اور لانگ مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دیا۔ پریس کانفرنس سے قبل اہم فون کا نمبر دکھانے پر عمران خان مسکرا دیے اور شاہ محمود قریشی سے کہا کہ ”بند کر دو اسے“ پھر بھی شاہ محمود قریشی نے فون سنا اور کہا کہ وہ کہہ رہے ہیں۔ آپ کال لیں ورنہ ٹریپ کر دیں گے۔ جس پر عمران خان نے کہا کہ ”بے شک کر دیں“ ۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ ”پچھلے دنوں اتنے جھوٹ سنے اب کسی پر اعتبار نہیں مجھے الیکشن کی تاریخ چاہیے مجھے لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھانے کے لئے پیغام دیا گیا کہ بس فیصلہ ہو رہا ہے۔ میں نے مارچ دو تین دن آگے کر دیا“ عمران خان ایک سانس میں قبل از وقت انتخابات کی تاریخ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دوسری سانس میں ”نیوٹرلز اور عدلیہ“ کو بیچ میں کھڑے ہونے کو مجرموں کا ساتھ دینے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کے ”لاکھوں“ لوگوں کے اسلام آباد پہنچنے کے خدشے کے پیش نظر سخت حفاظتی اقدامات کیے تھے چونکہ چند ہزار لوگ ہی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں جس پر انہوں نے عوام کو پہنچنے والی تکلیف پر معذرت کی پی ٹی آئی نے سیا سی کارکنوں کو اسلام آباد میں احتجاج کی اجازت کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تو پی ٹی آئی نے کسی ناخوش وار واقعہ کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا اگلے روز سپریم کورٹ پی ٹی آئی کو جی نائن کے سامنے اسی مقام پر جلسہ کرنے کی اجازت دے دی جہاں 2019 میں جمعیت علما اسلام نے عمران خان کی حکومت کے خلاف دھرنا دیا تھا جب کہ حکومت نے فاطمہ جناح پارک یا پریڈ گراؤنڈ میں پی ٹی آئی کو جلسہ کی اجازت دینے کی پیشکش کی جسے پی ٹی آئی نے قبول نہیں کیا جب کہ عمران خان اس بات پر مصر رہے کہ وہ ہر صورت میں ڈی چوک میں جا کر جلسہ کریں گے۔

لانگ مارچ کی صبح پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی، اسد قیصر اور فواد چوہدری نے سپیکر ہاؤس میں اہم حکومتی ارکان سے سیف ایگزٹ مانگا اور کہا کہ عام انتخابات کا اعلان بے شک تین چار ماہ کا کر دیا جائے لیکن حکومت نے عمران خان کو سیف ایگزٹ دینے انکار کر دیا پس پردہ نواز شریف کی ہدایات حکومت کو موصول ہو رہی تھیں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے۔

عام تاثر یہ ہے کہ عمران خان نے جن ”توقعات اور خواہشات“ کو پیش نظر رکھ کر لانگ مارچ کی کال دی وہ پوری نہیں ہوئیں سپریم کورٹ کی طرف سے اجازت ملنے ان کے اسلام آباد پہنچنے کے راستے میں جزوی طور رکاوٹیں دور ہونے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ڈی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی یہ تعداد لاکھوں تو نہیں تھی۔ 10، 15 ہزار کارکن 26 مئی 2022 کی صبح تک قانون نافذ کرنے والے اداروں سے الجھتے رہے پی ٹی آئی کے کارکنوں کے دباؤ کے پیش نظر حکومت کو ریڈ زون کی حفاظت کے لئے فوج طلب کرنا پڑی۔ عمران خان اسمبلیاں تحلیل کرنے کے لئے حکومت کو 6 روز کا الٹی میٹم دے کر واپس چلے گئے۔

Facebook Comments HS