رمضانی مسلمان


شکر ہے رمضان المبارک خیرو عافیت سے گزر گیا۔ خدا گواہ ہے ہر سال کی طرح اس بار بھی یہ برکتوں والا مہینہ مجھ پر بہت بھاری گزرا۔ ایک پل بھی جو رتی بھر سکون میسر آیا ہو، حرام ہے۔

وہ دن جو سب کے لیے رحمتوں اور برکتوں کے ہوتے ہیں۔ مجھ جیسے لوگوں کے لیے شدید ذہنی اذیت کا باعث بنتے ہیں۔ ہماری ساری مسلمانیت رمضان کے مہینے میں جاگتی ہے۔ رمضان المبارک میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ کون روزہ رکھ رہا ہے کون نہیں۔

روزہ رکھا ہے؟ یہ ایک شرعی سوال بن گیا ہے۔ جو یہ سوال نہ کیا کرے اس کا روزہ مکروہ ہوتا ہے۔ مجھے کسی کے عبادت گزار ہونے سے نہ ہونے سے کبھی کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔ کون نماز پڑھتا ہے، کون کتنے روزے رکھتا ہے۔ یہ کبھی میرا سر درد نہیں رہا۔ لیکن کچھ سال سے لوگوں نے بلاوجہ میری وجہ سے بہت زیادہ سر درد لگا رکھا ہے۔ میں نہیں جانتی۔ لوگوں کو میری اتنی پرواہ کیوں ہے۔ وہ میری فکر میں کیوں دبلے ہوتے ہیں۔ ان کے پاس میری فکریں پالنے کے کوئی اور کام نہیں ہے۔ میں خود کو نکمی سمجھتی ہوں۔ پھر جب لوگوں کو دوسروں کے معاملات میں مداخلت کرتے دیکھتی ہوں تو سوچتی ہوں کہ نکمے انسان کے مطمئن ہونے کے لیے دوسروں کا نکماپن کافی ہوتا ہے۔

خیر یہ لوگ مجھ سے بہت بہتر ہیں۔ یہاں میں طنز سے گریز کرنے کی کوشش میں ناکام ہو رہی ہوں۔ کیونکہ یہ رمضانی مسلمان جو سارا سال نماز کو پوچھتے نہیں۔ مسجد کا رخ نہیں کرتے۔ رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی ان کی مسلمانیت جاگ اٹھتی ہے۔ پھر یہ ہوتے ہیں۔ اور ان کی تبلیغ۔ ان بے چاروں کے اندر کا مولوی تڑپ تڑپ کر یوں باہر آتا ہے۔ جیسے کسی بچے کی پیدائش بہت مشکل سے ہوئی ہو۔ ان کا ایمان ہے۔ کوئی مر رہا ہے۔ روزہ رکھ لے۔ بچ جائے گا۔ روزے دار کے سامنے کچھ مت کھاؤ۔ جہنم کی آگ میں جل جاؤ گے۔ چاہے تم بیمار ہو مگر رمضان کا احترام کرو۔ باہر کچھ مت کھاؤ پیو۔ گناہ ملے گا۔

میں اپنے آس پاس رہنے والوں کو بہت اچھے سے جانتی ہوں۔ ہمارا ایک دوسرے سے کچھ بھی ڈھکا چھپا نہیں۔ پھر بھی میں اتنے لوگوں میں جس ذہنی اذیت سے دوچار ہوتی ہوں۔ اس کا اندازہ کوئی نہیں کر سکتا۔ میرا قصور اتنا ہے۔ کہ کچھ عرصہ سے مجھ سے روزے نہیں رکھے جاتے۔ جب رکھے جاتے تھے۔ تب میرے چہرے پر نور برستا تھا۔ یہ مجھے خود کبھی احساس نہیں ہوا۔ بلکہ ایک عمر رسیدہ خاتون نے کہا۔ روزے رکھنے سے تمہارے چہرے پر نور ہی نور ہے۔ اس وقت میں خوشی سے آئینے کے سامنے گئی۔ جہاں مجھے پیلاہٹ زدہ نور دکھائی دیا۔ میں گھبرا کر آئینے کے سامنے سے پیچھے ہٹ گئی۔

اب جب میں روزے نہیں رکھتی تو سب کو لگتا ہے کہ میرے چہرے پر پھٹکار برستی ہے۔ سچ کہتے ہیں۔ ایسے انسان کے چہرے پر پھٹکار ہی ہو گی۔ جو رمضان میں ایک مجرم ہو۔ وہ سب سے چھپتا پھرے۔ اپنے گھر میں بھی رمضان میں چور ہو۔ کسی ملازم کو پتا نہ چلے کہ میرا روزہ نہیں۔ وہ اتنا کام کر کے بھی روزے سے ہوتے ہیں۔ کیا کہیں گے۔ یہ کچھ کرتی بھی نہیں۔ پھر روزہ کیوں نہیں رکھتی۔ دو سال میں نے ان کی موجودگی میں کھانے پینے کی احتیاط برتی۔

پھر امی ابو نے کہا۔ تم خود پر جبر کیوں کرتی ہو۔ جب روزہ نہیں تو جب مرضی کھاؤ پیو۔ کون کیا کہتا ہے پرواہ نہیں کرو۔ جب روزہ نہ رکھنے کی وجہ ہی کھانا پینا ہے تو پھر اپنی روٹین کے مطابق کے چلو۔ پہلے مجھ میں جو رمضان کے متعلق لوگوں کا ڈر تھا وہ کافی حد تک کم ہو گیا۔ لیکن یہ ڈر ڈر ہی رہتا تو اچھا تھا۔ کیونکہ اس کے بعد جس ذہنی کرب سے مجھے گزرنا پڑا۔ وہ بہت اذیت ناک تھا۔ گھر میں کوئی افطار دعوت ہوتی۔ تو مہمانوں کو افطاری سے زیادہ میرے روزے کی فکر ہوتی۔

لوگوں یہ بات سمجھنے کو تیار ہی نہیں کہ ایک بیمار انسان کے لیے روزہ رکھنا کتنا مشکل ہے۔ جانتے بوجھتے کہیں گے۔ ڈاکٹر کو چھوڑو۔ تم روزہ رکھو۔ دیکھنا ٹھیک ہو جاؤ گی۔ میں نے یہ تجربہ کر کے دیکھا۔ تو اس کے بعد میں ٹھیک ہونے کے بجائے چار دن بستر پر پڑی رہی۔ پھر میں نے ایسے کسی بھی فری کے مشورے پر عمل کرنے سے توبہ کر لی۔ اور نہ پھر کسی دعوت میں میزبان بنی نہ مہمان۔ میں نے سوچا اب لوگ دور رہیں گے نہ ملنا ہو گا نہ کوئی مشورہ ملے گا۔

لیکن یہ لوگ سکون سے کہاں جینے دیتے ہیں۔ کال پہ کال کر کے اپنے اندر کا موٹیویشنل اسپیکر باہر نکال کر دم لیں گے۔ آخر افطاری کے نام پر جتنا کھایا پیا ہوتا ہے۔ وہ کہیں پر ہضم بھی کرنا ہوتا ہے۔ اور مولوی بھرے پیٹ سے فتویٰ نہ دے لیں۔ ان کا نماز روزہ قبول نہیں ہوتا۔ خدارا اپنے اندر کے رمضانی مسلم کو کنٹرول رکھا کیجے۔ آپ کی تبلیغ بابرکت مہینے کی رحمتوں کو دوسروں کے لیے زحمت بنا دیتی ہے۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “رمضانی مسلمان

  • 01/06/2022 at 9:34 صبح
    Permalink

    آپ نے بہت بہترین انداز سے اپنا تجزیہ تحریر کیا ہے۔ مجھے بھی بلکہ میرے جیسے لاتعداد لوگوں کو بھی اسی قسم کے مسائل کا سامنا ہے۔

    • 01/06/2022 at 1:20 شام
      Permalink

      Thank you

Comments are closed.