پاپولزم کو فکری اور سیاسی جواب


یہ بات طے ہے کہ پراجیکٹ عمران خان کے ذریعے برپا کی گئی آمرانہ مقبول پسندی (Authoritarian populism) نفرت انگیزی پھیلا رہی ہے۔ سماج کے اندر جتھہ بندی کی سیاست کو پروان چڑھا رہی ہے۔

یہ آمرانہ مقبول پسندی مکالمے اور ڈائلاگ کی نفی کرتی ہے۔ کسی گروہ کو، سیاسی جماعت یا کسی اور ملک کو نشانہ بنا کر دشمنی کی بنیاد رکھتی ہے۔ کسی مسیحا کا تصور پیش کر کے جلد سے جلد نتائج حاصل کرنے اور عجلت پسندی کی رجحانات کو سرایت کرنے کا باعث بنتی ہے۔ سماج کے اندر یا سماج کے باہر کسی خیالی دشمن کے خلاف تلوار سونت کر باہر نکلنے اور خیالی دشمن کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی تلقین کرتی ہے۔

نفرت انگیزی، مکالمے کی نفی، دشمن بنانے کا عمل، اک مسیحا کا تصور اور جلد سے جلد نتائج حاصل کرنے کے یہ تمام عناصر کسی سیاسی عمل، اجتماعی ذمہ داری اور دلیل کے ساتھ جدوجہد کرنے کا محرک اور قوت ارادی معاشرے سے چھین لیتے ہیں۔ مکالمے کی نفی اور نکتہ نظر کے اختلاف کو غداری قرار دینا یا پھر کرپشن قرار دینا آمرانہ مقبول پسندی کو جمہوریت دشمن بنا دیتا ہے۔ اسی طرح ثقافتی طور پر آمرانہ مقبول پسندی تنوع اور رنگا رنگی کو مسترد کر کے یکسانیت کو مسلط کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ عنصر آمرانہ مقبول پسندی اور انتہا پسند دہشت گرد تنظیموں میں قدر مشترک کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔ اس لیے طالبان کی تنظیموں کے ساتھ عمران خان کی چاہت کوئی حیرت کی بات نہیں۔

یہ بات یاد رہے کہ تاریخ کے تمام مقبول پسند رہنماؤں میں دوغلا پن اور اس کے نتیجے میں یو ٹرن لینے کا رجحان وافر مقدار میں پایا جاتا ہے۔ آمرانہ مقبول پسندی صرف یہی نہیں کرتی بلکہ ریاست اور ملک کے تمام اداروں، محکموں اور شاخوں کو اپنے زیر نگیں کر کے آمرانہ طرز حکمرانی کے رجحان کو تقویت دیتی ہے۔ کسی بھی پاپولسٹ سیاست دان میں مطلق العنانی کی خواہش نمایاں طور پر جھلکتی ہے اس لیے یہ صورتحال عمران خان کی ساتھ بھی ہے۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا کی سہولت کی وجہ سے مقبول پسندی کا یہ انتشار تیز رفتار ہو گیا ہے۔

سوال مگر یہ ہے کہ آمرانہ مقبول پسندی اور اس کے منفی اثرات کو کیسے روکا جائے؟ اس کے خطرناک نتائج کے آگے بند کیسے باندھا جائے؟ میرا خیال یہ ہے کہ آمرانہ مقبول پسندی کے خلاف ایک ساتھ تین محاذوں پر جدوجہد کرنی ہوگی۔

پہلا محاذ بیانیے کا ہے۔ مقبول پسند بیانیے کے تضادات، اثرات اور اس کا کھوکھلا پن ہر فرد کو مسلسل اور تکرار کے ساتھ پہنچانا ہے۔ متبادل جمہوری اور انسان دوست بیانیہ میڈیا کے ہر فورم کے ذریعے ہر طبقے اور ہر زبان کے لوگوں تک مسلسل پہنچاتے رہنا ہے۔ ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر اس کا جواب لازم ہے۔

میڈیا، اکیڈیمیا، آرٹسٹ اور فن کے ساتھ وابستہ لوگوں اور دانشوروں کے ذمہ داری ہے کہ کسی بھی عوام دشمن، جمہور دشمن اور تہذیب دشمن فکر، نظریے اور بیانئے کا تدارک کریں اور اس کے لئے میڈیا اور سوشل میڈیا کے تمام فورمز کا موثر استعمال کرے۔

آمرانہ مقبول پسندی کے تدارک کا دوسرا محاذ سیاسی ہے۔ سیاسی جماعتوں اور سیاسی کارکنوں کو ہر شہر کے ہر کوچے، ہر گاؤں کے ہر محلے، ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کے ساتھ اور تعلیمی اداروں کے طالب علموں کے ساتھ مسلسل رابطے بنانا ہے۔ مسلسل جلسے اور جلوس، مظاہرے، سیمینارز اور سٹڈی سرکلز کے ذریعے جمہوری اور عوامی بیانئیے کو سرایت کرنا ہے۔ بحث و مباحثے کی مجالس منعقد کرانی ہیں۔ عوامی رابطہ مہم کے ان تمام اجرا کی سوشل میڈیا کے ہر فورم پر موثر نشر و اشاعت کرنی ہے۔ یہ نشر و اشاعت بڑے پیمانے پر کرنی ہے اور مسلسل کرنی ہے۔ اس کے لئے ہر جمہوری سیاسی جماعت کو لازمی طور پر تمام دیہات اور شہروں میں سوشل میڈیا کی مضبوط، ماہر اور فعال ٹیمیں بنانی ہوں گی۔

مقبول پسندی کے تدارک کا تیسرا محاذ ادارتی ہے۔ ریاست اور حکومت کے تمام اداروں کو آمرانہ مقبول پسندی کے جلسے جلوسوں اور سوشل میڈیا پر اس کے دباؤ کو سختی کے ساتھ مسترد کرنا ہے۔ با الخصوص پاکستان میں عدلیہ، الیکشن کمیشن، فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہر صورت میں اس دباؤ کا مقابلہ کرنا ہو گا ورنہ ملک ایسے رجحانات کے گرداب میں پھنس سکتا ہے جس میں معیشت، سیاست اور معاشرت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان کو بچانا ہے تو آمرانہ مقبول پسندی کا مقابلہ کرنا ہے ورنہ پاکستان کی عالمی تنہائی خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خادم حسین

(خادم حسین پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور @khadimHussain 4 پر ٹویٹ کرتے ہیں۔ )

khadim-hussain has 9 posts and counting.See all posts by khadim-hussain

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments