عمران خان، اسرائیل اور جے کانت شکرے
پاکستان میں آج کل اسرائیل سے تعلقات اور رابطوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے، کہا یہ جاتا ہے کہ ایک پاکستانی وفد نے اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیلی صدر سے ملاقات کی یہ سب جانتے ہوئے کہ پاکستان اسرائیل کو اگر آج تسلیم کرتا ہے تو ہم اپنے بانیان کی سیاسی بصیرت کی مخالفت کریں گے جس سے یہ بات عیاں ہوگی کہ عالم اسلام کے ان عظیم مفکرین اور رہنماؤں نے اسرائیل کے معاملے پر جو موقف اپنایا تھا وہ غلط تھا، اس پر امریکا نواز حکومت کو اپنی واضح پالیسی سے قوم کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ پاکستان میں قائم کئی جماعتوں کے اشتراک سے بننے والی اس نا اہل اور کرپٹ ترین حکومت کو معلوم ہونا چاہیے کہ فلسطینی عوام کی خواہشات کے مطابق تنازع فلسطین کے منصفانہ حل تک پاکستان اسرائیل کو کسی بھی حال میں تسلیم نہیں کر سکتا۔
یہ بات ذہن میں بٹھانے کی ضرورت ہے کہ فلسطینیوں کی رضامندی کے بغیر تنازع فلسطین کا کوئی بھی حل اس کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا باتیں سعودی عرب میں زیر بحث ضرور ہوں گی تاہم جس طرح کی مجبوریاں مشرق وسطیٰ کے بعض ممالک کی ہو سکتی ہے وہ مجبوریاں پاکستان کی نہیں ہیں۔ کیونکہ پاکستان کا اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کے بارے میں ایک اصولی موقف رہا ہے۔ جس پر تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی چارسدہ میں ورکر کنوینشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نون لیگ کی حکومت اسرائیل کو تسلیم کر نے جا رہی ہے اور کہا کہ یہ بھارت سے کشمیریوں کے خون کا سودا کریں گے، اس بیان سے تحریک انصاف کے رہنما نے اسرائیل کے معاملے میں اپنا واضح موقف پیش کیا جب کی اس کی نسبت ایک مذہبی جماعت کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی مہم میں عمران خان ٹرمپ کے ساتھ تھا عمران حکومت نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازشیں کیں، مولانا کے اس بیان کا جواب صاف ہے جس پر میں سمجھتا ہوں کہ اگر ان کی بات میں صداقت ہے تو عمران خان کے ساڑھے تین سال میں اسرائیل کو کیوں نہ تسلیم کیا جا سکا۔
بطور وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ ہمارا موقف قائداعظم محمد علی جناح نے 1948 میں واضح کر دیا تھا کہ ہم اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کر سکتے جب تک فلسطین کو ان کا حق نہیں ملتا ان کی انصاف کے مطابق آبادکاری نہیں ہوتی جو کہ فلسطینیوں کا دو قومی نظریہ تھا کہ ان کو کوئی ان کی پوری ریاست ملے۔ عمران خان نے کہا تھا کہ جب ہم اسرائیل اور فلسطین کی بات کرتے ہیں تو کیا ہم خدا کو جواب دیں گے کہ ہم ان لوگوں کو جن پر ہر قسم کی زیادتیاں ہوئی ہیں جن کے حقوق سلب کیے گئے ہیں ان کو تنہا چھوڑ سکتے ہیں اس بات کو میرا ضمیر تو کبھی تسلیم نہیں کرتا عمران خان نے کہا تھا کہ پاکستان اگر اسرائیل کو تسلیم کرتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے فلسطینی زمین پر اس کا قبضہ بھی تسلیم کر لیا ہے انہیں خدشہ ہے کہ ایسی صورت میں کشمیر پر پاکستان کا موقف کمزور پڑ جائے گا۔
فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کا قیام 1948 میں عمل میں آیا تھا اس بات کو سات دہائیوں سے زائد وقت گزر چکا ہے مگر اب بھی دنیا کے بہت سے ممالک نے اسے تسلیم نہیں کیا ہے۔ پاکستان ان اسلامی ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ میں اپنے پڑھنے والوں کو یہ بتانا چاہوں گا کہ 1947 میں اسرائیل کے بانی ڈیوڈ بن گوریان نے قائداعظم محمد علی جناح کو اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے سے متعلق ٹیلی گرام بھیجا تو انہوں نے اس کا کوئی جواب ہی نہیں دیا ان کے اس رویے سے یہ اخذ کیا گیا کہ پاکستان اسرائیل کے ساتھ کوئی سفارتی تعلق قائم نہیں کر نا چاہتا۔
پاکستان میں فلسطین مخالف سرگرمیوں کی ہرگز اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر میں بربریت کی بدترین مثالیں قائم ہو رہی ہیں جس پر ہم خاموش نہیں بیٹھنا چاہیے۔ مسئلہ فلسطین حل کیے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا مطلب پاکستان کے مفادات کا نہیں نیتن یاہو اور امریکہ کے مفادات کا تحفظ ہے لہذا وزیراعظم عمران خان سے لاکھ اختلافات کرنے والے بھی اس بات پر ان کے مداح ہوں گے کیونکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر کے وہ قائداعظم کے راستے پر چل نکلے ہیں۔
اور یہ ایک حقیقت بھی ہے کہ کسی بھی مسلمان کا ضمیر اتنی گری ہوئی حرکت میں اسرائیل کا ساتھ نہیں دے سکتا تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں کی سب سے زیادہ لڑائیاں یہودیوں کے خلاف ہوئیں اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں بھی سب سے زیادہ یہودیوں نے کیں اور اس وقت بھی اسرائیل فلسطینیوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے۔ جیسا کہ عمران خان نے چارسدہ کنوینشن میں کچھ اشارے دیے بالکل اسی طرح بھارت اور اسرائیل کے آپس میں بہت ہی گہرے تعلقات ہیں یا دیگر الفاظ ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں اسرائیل ہر موقع پر بھارت کی مدد کرتا ہے بھارت اسرائیلی ہتھیاروں کا بھی اہم خریدار ہے۔
آج اگر ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں کا ہی جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ امریکہ عمران خان کے خلاف کیوں تھا عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے پر امریکی موقف دیکھیں، واضح ہے کہ تحریک کی کامیابی کی ایک وجہ عمران خان کی آزاد خارجہ پالیسی کے ساتھ ملکی خودمختاری کا ٹھوس موقف تھا۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ نواز لیگ کے گزشتہ ادوار میں بھی اس قسم کی حرکتیں سامنے آتی رہی ہیں سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنے دور حکومت میں وفد اسرائیل بھیجا نواز شریف دیکھنا چاہتے تھے کہ اسرائیل کے ساتھ تجارت اور تعلقات کیسے استوار ہوسکتے ہیں وزیراعظم نواز شریف کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی اسرائیل میں اہم ملاقاتیں طے کرتے تھے۔
مولانا اجمل قادری کے انکشافات کے مطابق انہوں نے 1998 میں نواز شریف کی ایما پر ان کے دور حکومت میں اسرائیل کا دورہ کیا تھا ان کے وفد میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم سردار عبدالقیوم خان سمیت دیگر لوگ شامل تھے۔ جبکہ عمران خان کی حکومت پر الزام لگانے والے آج خود ان کی حکومت کے اتحادی ہیں جو ماضی کی اس قسم کی سازشوں کو خاموشی سے پی گئے ہیں جبکہ الزام ایک ایسے شخص پر لگانے کی کوشش کی جسے آج دنیا عالم اسلام کا ہیرو مانتی ہے جس نے اقوام متحدہ کے فلور پر اپنی تقریروں سے دنیا عالم پر سکتہ طاری کر دیا تھا۔
لہذا جہاں موجودہ حکومت کو اسرائیل سے تعلق داری پر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے وہاں الٹا حریفوں کو ہی رگڑا جا رہا ہے مولانا فضل الرحمان خود کشمیر کمیٹی کی سربراہی میں کیا گل کھلاتے رہیں وہ سب کو معلوم ہے جبکہ ان دنوں وہ ملک میں جے کانت شکرے کا کردار ادا کر رہے ہیں جو گھر بیٹھے حکومت سے اپنے کام آسانی سے نکلوا رہے ہیں لہذا ان کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ کشمیر اور فلسطین ایک طرح سے جڑے ہوئے ہیں یہ دونوں ایک طرح کے مسئلے ہیں اگر پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لیتا ہے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کو کشمیر کے لیے کتنی بڑی قیمت ادا کرنا ہوگی۔ اگر پی ڈی ایم کی حکومت کی جانب سے چوری چھپے اس قسم کی کوشش کی گئی ہے تو یہ نہ صرف ایک بہت بڑی غلطی ہوگی بلکہ ان عظیم رہنماؤں کے افکار و خدمات سے غداری ہوگی۔


