ناسٹلجیا – کچھ باتیں
زمانے کی رفتار بہت تیز ہے۔ ترقی کرنے کا جنون یا خون ہر سر پر سوار ہے۔ ترقی کرنا کوئی ایسی بری بات بھی نہیں ہے مگر ترقی کے اس سفر میں ہمیں کبھی کبھار یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ کیا کوئی قیمتی سرمایہ ہم گنوا تو نہیں رہے؟
پچھلی چند دہائیوں میں ہم نے بہت سا فاصلہ طے کر لیا ہے۔ رشتوں، دوستیوں اور محبتوں کی طرف جانے والی گلیوں کے سامنے سیمنٹ کی بلند عمارتیں تعمیر ہو چکیں۔ اپنائیت، خلوص اور یادوں کی کھڑکیوں کو جہازی سائز کے اشتہاری بورڈ کھا چکے۔ گھنی چھاؤں دینے والے وہ پرانے درخت بھی اب ہمیں نظر نہیں آتے جو تپتی دوپہر میں پناہ تو دیتے ہی تھے مگر ان کے پاس سنانے کے لیے بہت سے پرانے قصے اور کہانیاں بھی تو ہوتی تھیں۔ مسافر، راہگیر، طالبعلم، مزدور اور ہر خاص و عام کے لیے ہر وقت میسر، کسی ولی کے مزار کی طرح۔
اب بہت وقت ہوا مجھے ایسے درخت نہیں ملتے۔ کیا ان بلند و بالا عمارتوں کے نیچے ان پرانے درختوں اور یادوں کے مدفن تو نہیں ہیں؟
اندرون شہر اور پرانے محلے چھوڑ کر نئی سوسائٹیوں میں بڑے گھر لینے کی دوڑ میں کیا ہم نے کچھ گنوا تو نہیں دیا؟
ہر شہر کے اندر ایک نیا شہر بستا ہے جس کی عمر پرانے شہر سے نسبتاً کافی کم ہوتی ہے۔ زیادہ لوگ اسی نئے شہر میں ہی زندگیاں بسر کرتے ہیں اور ان کی کل کائنات اسی شہر میں زندگی کا یا شاید موت کا سامان اکٹھا کرتے بیت جاتی ہے۔ ان کو اس پرانے شہر سے آشنائی اور ان گلی کوچوں میں رچی بسی خوشبوؤں، یادوں یا ناسٹلجیا سے کوئی ربط ہی نہیں ہوتا۔
مگر تہذیبی زوال کے اس دور میں آج بھی کچھ ایسے لوگ ہیں جو جانتے ہیں کہ شہر ہمیشہ پرانا ہی ہوتا ہے، تہذیب کا امین، روایت کا پیامبر۔ جو یادوں، زمانوں، محبتوں، مزاروں، مرقدوں، مدفنوں اور ان میں بسے مکینوں سے ہی قائم ہوتا ہے۔
پرانے شہر کی وہ گلیاں جو جانے کتنی صدیوں کا آہنگ آج تک پلٹا رہی ہیں، اگر بتیوں کی خوشبوؤں میں یادوں کی آمیزش لئے۔
ایسے ہی کسی پرانی گلیوں میں گھومنے والے میرے جیسے ناسٹلجیا کے مارے کو شاید وقت کی دھول میں اٹے پرانے چوباروں، دیمک زدہ کھڑکیوں اور بوسیدہ مکانوں میں کچھ پرچھائیاں نظر آجاتی ہیں جن سے بظاہر اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مگر کون جانے وقت، دل اور روح کے ان دھاگوں کے سمبندھ اور مابعد الطبیات کیا ہیں۔
پرانی گلیوں میں وہ سارے پرانے لوگ، پرانے خاندان، جو کبھی وہاں رہتے تھے اب شاید اس گلی کے کسی پرانے آدمی کی یادداشت کے علاوہ کسی کے ذہن و دل کے مکیں نہیں رہے۔ اور اس پرانے آدمی کو بھی شاید ایک شائبہ سا ہوتا ہے کہ اس شکل، اس نام کا کوئی رہتا تھا یہاں۔ اس کے علاوہ ان کا کوئی نشان کوئی گواہی کوئی یاد یہاں باقی نہیں ہے۔ جیسے وہ کبھی یہاں تھے ہی نہیں۔ ان کے اس وقت کے غم خوشیاں، امیدیں سب وقت کی پرانی قبر میں دفن ہو چکے ہیں۔
ایک حویلی تھی دل محلے میں
اب وہ ویران ہو گئی ہو گی
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ وقت کا چیزوں کو دفن کر دینے کا یہ عمل شاید ری سائیکلنگ کا ایک حصہ ہی ہے۔
مگر زمانے کی دوڑ چاہے جتنی تیز ہو جائے، ٹیکنالوجی کا اثر کتنا ہی گہرا ہوتا چلا جائے، انسانی منزلت کے معیارات جتنے ہی بدل جائیں مگر ان گلیوں میں زمانے ساکت ہیں۔
دیکھنے والوں کو دید کے ایک لمحے میں صدیوں کا درشن ہوتا رہے گا۔ ناسٹلجیا کے روپ سروپ ہمیشہ ہی وقت کی رفتار سے تیز جانے کون کون سے چوبارے، کس دروازے اور کس گلی کے کونے سے پورے چاند کی رات میں فسوں پھونکتے رہیں گے۔ مجھ جیسے ناسٹلجیا کے دیوانے اپنے زمان و مکاں سے پرے بہت پرے کسی انجانی جہت کا سفر کرتے اگربتی کی اس خوشبو کے تعاقب میں وہاں ضرور پہنچیں گے جہاں ان کی روح بستی ہے کہ ہر شے اپنے اصل کی جانب ہی تو لوٹتی ہے۔


