معاشرے کی اخلاق باختگی: روون نہ آوے گر
یونان کی ایک اداکارہ نے معاشرے کی نفسیات جاننے کے لیے ایک دلچسپ تجربہ کیا۔ شہر کے ایک چوک میں وہ بے لباس کھڑی ہو گئیں اور اعلان کیا گیا کہ وہ چھ گھنٹے تک اسی طرح بغیر ہلے جلے کھڑی رہیں گی اور لوگوں کا ردعمل دیکھیں گی۔ پہلے تو لوگ ہجوم کی صورت میں وہاں اکٹھے ہو گئے۔ پھر ایک شخص نے ہمت کر کے انہیں ہاتھ لگایا، کسی بھی ردعمل کو نہ پا کر ہجوم میں قریب آنے کی ہمت پیدا ہوئی اور پھر کسی نے چٹکی لی، کسی نے تھپڑ دے مارا اور تقریباً چھ گھنٹے تک ہجوم بدتمیزی اور بد اخلاقی کی تمام حدود توڑتا رہا۔ چھ گھنٹے کے اس تجربہ کے بعد نفسیات دانوں نے یہ تجزیہ کیا کہ دراصل انسان اندر سے اتنا ہی وحشی اور بداخلاق ہے جتنا آغاز میں تھا۔ اخلاقیات صرف اسے اس وقت تک روکتی ہے جب تک معاشرتی پابندیاں رہتی ہیں۔ ان قیود کے ٹوٹتے ہی انسان مجسم بد اخلاقی بن جاتا ہے۔
بد قسمتی سے ہمارا معاشرہ بھی کچھ ایسی ہی صورت حال سے دوچار ہوتا جا رہا ہے۔ ہم جس مذہب کے پیرو بننے کا دعویٰ کرتے ہیں اس کی تعلیم تو یہ ہے کہ اخلاق کی اعلیٰ ترین تصویر پیش کی جائے۔ مگر آئے دن ہم عمومی انسانی اخلاق سے بھی گرتے جا رہے ہیں۔ کبھی ہم ایک بے بس، مجبور انسان کو گستاخی کے نام پر گھیر کر اس کا اس طرح شکار کرتے ہیں جیسے اکیلے جانور کو گھیر کر اس کے ٹکڑے کیے جاتے ہیں اور اس پر بس نہیں، اس کی لاش کو آگ لگا کر تصاویر کھنچوائی جاتی ہیں اور بڑے فخر سے ٹیلیوژن پر انٹر ویوز دیے جاتے ہیں کہ یہ خدمت ہم نے سرانجام دی ہے۔ حالانکہ یہ لوگ جس مذہب کی پیروی کا دعویٰ کرتے ہیں اس کی تعلیم تو یہ ہے کہ جانور کو ذبح کرتے ہوئے بھی چھری تیز کر لو تاکہ اسے تکلیف نہ ہو۔
ہمارا معاشرہ پر امن اور مہمان نواز معاشرہ سے آہستہ آہستہ شدت پسند اور سنگ دل معاشرے کی طرف جا رہا ہے اور اس میں بڑی وجہ سیاسی اور مذہبی لیڈروں کا اپنے مفادات کے حصول کے لیے لوگوں کے سامنے ایسے نمونے پیش کرنا ہے جس سے عوام بھی یہی سمجھتی ہے کہ اس قسم کا منفی رویہ انہیں مقبول کر سکتا ہے، اگر سیاستدان کھلے طور پر ایک دوسرے پر غیر اخلاقی زبان میں غیر اخلاقی الزامات لگائیں اور جلسوں میں بڑے فخر کے ساتھ اپنے مثبت کاموں کا ذکر کرنے کی بجائے مخالفین کے منفی کاموں کا ذکر کر کے تحقیر آمیز جملے استعمال کریں اور اس پر ان کے حامی موالی واہ واہ کے نعرے بلند کریں تو بالآخر نو جوان طبقہ اس بات سے متاثر ہو گا کہ عقل کی بات کی بجائے جگت کی زیادہ اہمیت ہے۔
پنجاب کے دیہات میں ایک روایت یہ بھی رہی ہے کہ کسی شادی کے موقع پر مراثیوں کا ایک ٹولہ آ موجود ہوتا اور آپس میں ایک دوسرے پر جگتیں کس کس کر مخالف کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتا تھا۔ اور اس طرح شادی والے گھر سے زیادہ سے زیادہ پیسے بٹورنے کی کوشش کرتا تھا۔ اب یہ روایت شادیوں سے نکل کر سیاسی جلسوں تک پہنچ گئی ہے اور سیاسی لیڈران ایک دوسرے پر صرف جگت بازی میں مصروف نظر آتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کرسکیں۔
جہاں تک مذہبی طبقے کا سوال ہے تو سوائے اپنے مخالف کے خلاف نفرت پھیلانے اور انہیں کافر اور واجب القتل قرار دینے، گستاخ ثابت کرنے اور غدار غدار کے نعرے لگانے کے علاوہ کوئی محبت اور رواداری کی بات نہیں کرتے تو ان کی اتباع کرنے والے ظلم کے نئے سے نئے طریق اختیار کرنے کو ہی مذہبی خدمت سمجھنے لگتے ہیں۔ اور یوں شدت پسندی اور سخت دلی قوم کا وتیرہ بنتی جا رہی ہے۔
اگر مطیع اللہ جان جیسے قابل صحافی کا، ایک گروہ سکول کے بچوں کی طرح ٹولہ بنا کر پھکڑ پن سے مذاق اڑائے تو میں سوچتا ہوں کہ ان بڑے بڑے دانشور کہلانے والے لوگوں کے رویہ کو کون سا گھن کھا گیا ہے۔
پچھلے دنوں ایک سیاسی جماعت کے جلوس میں ایک نوجوان پٹرول اپنے منہ میں لے کر زور سے باہر پھینک رہا تھا اور ماچس سے اس کو آگ لگا دیتا تھا۔ جس سے اس طرح لگتا تھا کہ اس کے منہ سے آگ کا ایک شعلہ نکل رہا ہے۔ یہ ایک عام تماشا ہے جو بازی گر اکثر دکھاتے ہیں مگر شومئی قسمت سے آگ قابو سے باہر ہو گئی اور اس بے چارے کا منہ شدید طور پر جل گیا۔ اس وڈیو کو دیکھ کر ہر اہل دل کو افسوس ہوا کہ بے چارہ نوجوان کس مصیبت میں گرفتار ہو گیا ہے۔ مگر اس سیاسی جماعت کے مخالفین نے ٹویٹر پر بڑی بے رحمی سے اس کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ مجھے احساس ہوا کہ ہماری قوم بالکل اخلاق باختہ ہو چکی ہے اور احساس کی تھوڑی سی رمق بھی ان میں باقی نہیں رہی۔
ایک سرائیکی شاعر عصمت گرمانی نے کہا ہے
جیندی میت تے روون نہ آوے اگر
اوہندی میت تے کھڑکے کھلیندا تے نہیں


