پیٹرول بم اور غریب عوام کی خواری
یقین جانیے، میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر پریشان ہوں اور نہ ہی حیران کیوں کہ ملک کو ممکنہ طور پر دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے یہ زیادہ قیمت نہیں۔ آپ مگر یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جناب آپ رئیس زادے ہوں گے (اس میں کوئی حقیقت نہیں) جو ایسا سوچتے ہیں مگر عوام تو پریشان ہیں یا وہ بھی آپ کی طرح بے فکرے ہیں؟ میرے خیال میں اس سوال کا جواب دینا کچھ مشکل ہے۔
میری مثال ہی لے لیجیے، رات کے تقریباً 9 بج کر 50 منٹ پر بہت ہی پیارے اور نفیس دوست اور کولیگ مجتبیٰ نقوی کے واٹس ایپ سٹیٹس سے یہ انکشاف ہوا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہو گیا ہے۔ سوچا، پانچ، سات لیٹر پیٹرول تو موٹرسائیکل کی فیول ٹینکی میں آہی جائے گا، کیوں نہ ٹینکی فل کروا لی جائے، میری بھی مبلغ 150 سے 200 روپے کی بچت ہو جائے گی، بائیک میں۔ پیٹرول ختم ہونے پر سڑکوں پہ پیدل خوار نہیں ہونا پڑے گا چناں چہ درویش نے موٹرسائیکل نکالی اور پیٹرول کے حصول کی جستجو شروع کر دی۔
مسلم ٹاؤن میں گھر کے نزدیک پہلا پیٹرول پمپ بند تھا، فیروز پور روڈ کا رخ کیا اور ایم اے او کالج سے ہوتا ہوا سیکرٹریٹ کے یوٹرن سے واپس چوبرجی کے راستے گھر پہنچا اور یوں 100 روپے بچانے کی خواہش میں 150 روپے کا فیول خرچ کر ڈالا۔ پیٹرول پمپ تو کھلے تھے مگر شہریوں کے حملوں کی زد پر تھے اور میں ٹھہرا ایک امن پسند شہری۔ پیٹرول پمپوں پر شہریوں کے بے پناہ رش اور ان کی ایک دوسرے سے بے وجہ تکرار اور دھکم پیل نے ذہن میں بہت سے سوال پیدا کر دیے۔
سونے پر سہاگہ یہ کہ بعض پیٹرول پمپوں پر ایک کلومیٹر سے بھی طویل گاڑیوں کی قطاروں نے حیران کر دیا، میں نے سوچا ہو سکتا ہے، یہ میرا فریب نظر ہو مگر ایسا نہیں تھا۔ اور پولیس اہل کار ٹریفک کو رواں رکھنے کے لیے پوری طرح چوکس اور اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف۔ یہ سب کار سوار پیٹرول ڈلوانے کے لیے اپنی باری کے منتظر تھے، درویش جو ہمہ وقت مختلف فکروں میں۔ غلطاں رہتا ہے جس کے ذمہ دار استاد محترم وجاہت مسعود ہیں جن سے درویش کی تقریباً دو دہائیاں قبل ایک تربیتی نشست میں ملاقات ہوئی تو انہوں نے مجھ میں تنقیدی شعور کی ایک ایسی لٔو روشن کی جس کے بعد زندگی میں ہمیشہ ہر سوال کا جواب منطقی و تاریخی حوالوں سے پانے کی جستجو پیدا ہوئی جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہی ہوا ہے۔
درویش یہ نہیں چاہے گا کہ موضوع سے ہٹا جائے، اور ممکن ہے مجھ ناچیز کو اپنے استدلال کو پیش کرنے کے لیے استاذی منیر نیازیؔ کے ضرب المثل بن چکے اس مصرعے کا سہارا لینا پڑے،
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے
چناں چہ جب سوال ہی غلط تھے تو جواب درست ہونے کی امید رکھنا ہی عبث تھا۔ موضوع چوں کہ حالات حاضرہ پر ہے، خیال رہے کہ سابقہ حکومت نے جب آخری بار پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو انہی دنوں سابق وزیراعظم نے کم آمدن والے طبقے کے لیے ہدفی رعایت (ٹارگٹڈ سبسڈی) کا اعلان بھی کیا، موجودہ حکومت نے بھی کچھ اشیائے خورونوش پر ہدفی رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو محدود کیا جا سکے۔
میری بات درمیان میں۔ ہی کہیں رہ گئی، حیران مت ہوئیے، زندگی میں اکثر آپ وقت پر اپنی منزل پر نہ پہنچنے کا خمیازہ بھگتے ہیں۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ گاڑی کی ٹینکی فل ہو تاکہ آپ بروقت اپنی منزل پر پہنچ سکیں۔ ہو سکتا ہے، آپ ایک ہزار سی سی کار کے مالک ہوں، 13 سو، 15 سو، یا 18 سو سی سی ہارس پاور گاڑی آپ کی ملکیت ہو، گاڑی میں پیٹرول کا ہمہ وقت موجود رہنا ضروری ہے کیوں کہ پاکستان کے دیوالیہ ہونے کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں اور پاکستان میں پیٹرول کے ذخائر ختم ہو گئے تو؟
وطن عزیز کے متحرک وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف سے قرضے کی قسط کے حصول کے لیے سرگرم ہیں کہ پاکستان دیوالیہ ہو کر سری لنکا نہ بن جائے اور اس لیے عوام کی جلی کٹی بھی سن رہے ہیں مگر ان کی کوششوں سے پاکستان اگر مالی بحران پر قابو پانے میں کامیاب رہا تو یہ حقیقت میں ان کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔
میں وثوق سے تو نہیں کہہ سکتا لیکن ہر گاڑی کی فیول ٹینکی کی گنجائش چوں کہ مختلف ہوتی ہے، اس لیے فرض کر لیتے ہیں کہ آپ کی ٹینکی میں اگر 50 سے 70 لیٹر پیٹرول اوسطاً آتا ہے تو مطلب آپ نے طویل قطار میں گھنٹوں انتظار کر کے 15 سو یا زیادہ سے زیادہ 21 سو روپے بچا لیے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس رقم پر غریب اور کم آمدن والے طبقے کا استحقاق تھا۔ آپ یہ پوچھ سکتے ہیں کہ یہ کس طرح ممکن ہے؟ جواب سادہ سا ہے، پیٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے روز موٹر سائیکلوں، موٹر رکشوں، مسافر ویگنوں اور مقامی طور پر تیار کردہ 800 سو سی سی کی گاڑیوں کے علاوہ دیگر تمام گاڑیوں کے پیٹرول ڈلوانے پر پابندی عائد کر دی جاتی تو براہ راست وہ طبقہ مستفید ہو سکتا تھا جو رش کی وجہ سے شاید پیٹرول بھی نہ ڈلوا سکا اور اس رعایت کا حقیقی معنوں میں سب سے زیادہ مستحق تھا اور دلچسپ طور پر حکومت کو اپنی جیب سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑنا تھا اور چند روز ہی سہی، سفید پوش طبقے کی سفید پوشی کا بھرم قائم رہ جاتا۔ ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ناگزیر ہے تو ضرور کیجئے مگر غریب اور کم آمدن والے طبقے کی قیمت پر نہیں۔


