ریسٹ ان پیس سدھو موسے والا کہنے پر فتوے


ناکامی کی بہت سے وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کے میں یا ہم درست ہیں باقی سب غلط اور اس سے بڑھ کر اپنے صحیح ہونے کے بیانیہ کو درست کرنے کے لیے ہمارے پاس حوالہ جات بھی موجود ہوں جس سے ہماری انا سے بھرے ہوئے نظریے یا عقیدے کو تقویت ملے۔

ہر تصویر کے دو رخ ہوتے ہیں، مگر افسوس کے جیسے ہم گیلری سے اپنی تمام ناپسندیدہ تصاویر کوڑا دان کی نظر کرتے ہیں ویسے ہی اپنی عقیدے یا نظریہ کے خلاف تمام دلائل کو نظر انداز کر کے خود کو راہ حق کا مسافر ثابت کرنے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ کیونکہ انسانی فطرت ہے ہر شے کو ذاتی پسند ناپسند کی عینک سے دیکھنا چہ کے عینک میں دھند ہو یا اس کی منظر کو مقید کرنے کی وسعت ہی بہت محدود ہو۔

جی ہاں تو میرا موضوع ہے ”آر آئی پی“ جو کے کسی بھی انسان کی وفات پر کہے جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کے جب لتا منگیشکر صاحبہ کی وفات ہوئی تو سٹیٹس پر آر آئی پی لکھنے پر ”کھرے“ مسلمان دوستوں کو کافی ناگوار گزرا بالکل ایسے ہی چند روز قبل سدھو موسے والا کے بھیانک قتل پر چند احباب دوستوں کو دوبارہ یہ بات ناگوار گزری کے آر آئی پی لکھنا ان کے نزدیک مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق انتہائی غلط ہے۔

کچھ دوستوں سے بات کی جو کے چائے کے میز پر تھی کیونکہ سوشل میڈیا پر ایسے موضوع پر ایسے معاشرے میں بحث کرنا انتہائی حماقت ہے جو کے اپنے دین کی سر بلندی ثابت کرنے کے لیے اختلاف رائے رکھنے والے کو گالی دینا ثواب سمجھتے ہیں۔ حالانکہ یہی حال سیاسی اختلافات رکھنے والے کا ہے مگر شاید جس قوم کو ذاتی مطالعہ کی عادت کم اور فرسودہ روایات زیادہ قبول ہوں آپ ان سے کچھ بھی توقع کر سکتے ہیں۔

خیر تو بات ہو رہی تھی دوست کی جس کا دعوی تھا کے ایک غیر مسلم کے لیے آر آئی پی لکھنا گناہ ہے۔ ملنے پر پوچھا کے تم اپنی مرضی سے مسلمان گھر میں پیدا ہوئے؟ نہیں۔ اچھا تو اگر شیعہ یا کسی دوسرے فرقے میں پیدا ہوتے یا کسی دوسرے مذہب میں تو کیا تمھارے پاس کوئی حق تھا؟ بولا نہیں۔ تو جب ہمارے پاس اپنی مرضی سے کسی مخصوص مذہب، ذات، رنگ یا فرقے والے گھر میں پیدا ہونے کا حق نہیں تو ہمیں ان کو جنتی یا جہنمی کہنے کا بھی حق نہیں۔

جیسے ہمارا یہ یقین ہے کے ہماری جنت ہے ویسے ہر مذہب کے ماننے والوں کا اپنا ایک یقین ہے ہمارے ”آر آئی پی“ کہنے سے نا وہ ہماری جنت میں آئیں گے اور نا ان کی خواہش میں ایسا کچھ ہے ان کے لیے ان کا مذہب ہی سچا اور راہ نجات ہے۔ ہر مذہب کے ماننے والوں کی اپنی جنت اور جہنم ہوتی ہے ”آر آئی پی“ کہنے سے صرف ایک احساس ہمدردی ہوتی ہے نا کے ان کو اپنی جنت میں گھسیٹنا مقصود ہوتا ہے۔ ”یقیناً ہماری جنت کی طرف ان کی جنت اور حوریں بھی کمال کی ہوں گی“

بلکہ مسلمانوں کے اندر تو ایک فرقہ دوسرے فرقے کو کافر تک کہہ دیتا ہے۔ پیدا ہونے سے پہلے کسی سے نہیں پوچھا جاتا کے کہاں پیدا ہونا مگر پھر بھی ہم مسلمانوں اور بالخصوص پاکستانیوں کو کیوں بڑے مسائل چھوڑ کر ایسی باتوں پر توجہ مرکوز کر کے، دوسروں کے جنتی اور جہنمی ہونے کا سرٹیفیکیٹ تقسیم کرنے کا جنون چڑھا رہتا۔ شاید خود سے تحقیق و مطالعۂ کرنے کے بجائے دوسروں پر کفر کا فتوا لگا کر جنت میں اپنے لیے ایک درخت لگوا کر ثواب کمانا زیادہ آسان کام ہے۔

بہرحال کسی دانشور نے خوب کہا کے ”جو موسیقی سن نہیں سکتے وہ ہر رقاص کو دیوانہ سمجھتے ہیں“ اب بلبل ہند لتا منگیشکر جی ہوں یا سدھو موسے والا ہوں، یہ وہ ہستیاں ہیں جن کی موت نے ایک عالم کو رلایا ہے اور لاکھوں دلوں پر راج کیا ہے اور کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تاریخ کے اوراق پر زندہ و جاوید رہیے گے، ایسے لوگ مرتے نہیں ہیں بلکہ اپنے فن کے ذریعے زندہ رہتے ہیں۔

 

Facebook Comments HS