تحریک انصاف کی معاشی کارکردگی اعداد و شمار کی روشنی میں


ایک اور بات بھی بتاتا چلوں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت بڑھنے کے تناظر میں عوام کو ریلیف دینے کے لئے پٹرولیم مصنوعات پر سیلز ٹیکس رواں مالی سال میں کم کرنا شروع کر دیا تھا اور پھر حکومت کے آخری کچھ ماہ میں تو صفر سیلز ٹیکس کر دیا تھا۔ اس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ٹیکس کی مد میں سینکڑوں ارب روپے کی آمدنی کھوئی گئی مگر پھر بھی اس رواں مالی سال کی ٹیکس آمدنی تقریباً 23 % زیادہ ہے پچھلے مالی سال کی مناسبت سے۔

یہاں یہ بات ذکر کرنا بہت ضروری ہے کہ پاکستان کے ٹیکس کے نظام کا ڈھانچہ انتہائی بوسیدہ اور غیر پیداواری ہے۔ جی ڈی پی کی بڑھوتی اور ٹیکس میں بڑھوتی میں آپس میں اتنا تفاوت ہے کہ دونوں کا ایک دوسرے پر قیاس بالکل بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے، مثال کے طور پر زراعت کا جی ڈی پی میں بہت نمایاں حصہ ہے مگر ٹیکس میں بالکل نہ ہونے کے برابر ہے۔ جب تک ہمارے ٹیکس کا بنیادی ڈھانچہ ٹھیک نہیں ہو گا تب تک ون آف چیزوں کی بدولت ٹیکس کا جی ڈی پی سے تناسب تیزی سے اتار چڑھاؤ کا شکار رہے گا، اور موازنہ بے معنی ہو جایا کرے گا۔

ملکی و غیر ملکی قرضہ جات: قرضہ جات کے بارے میں ایک غدر بپا ہے کہ بس جیسے تحریک انصاف کی گورنمنٹ نے قرضے لے لے کر ملک کا دیوالیہ نکال دیا ہے۔ اب اتنی فرصت کسے یہاں کہ تفاصیل میں بھلا کیوں جائیں، سمجھنے کی کوشش آخر کیوں کریں۔ قرضہ جات پر بات کرتے وقت یہ حقیقت ذہن میں رکھیں کہ حکومت پاکستان کی کمائی اس کے مجموعی خرچوں سے زیادہ ہے، اسے مالی خسارہ کہتے ہیں اور یہ ہمارے بجٹ کی ایک مستقل خصوصیت ہے۔ اس مالی خسارے کو مختلف قسم کے ملکی قرضوں سے فنڈ کیا جاتا ہے، تو یہ بات یاد رکھیں کہ جب تک ہمارا مالی خسارہ ختم نہیں ہوجاتا، ملکی قرضے بڑھتے ہی رہیں گے، کم نہیں ہوں گے۔

بالکل اسی طرح، پاکستان کو کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا بھی سامنا ہوتا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو غیر ملکی قرضوں سے فنڈ کیا جاتا ہے، لہذا غیر ملکی قرضے تب تک بڑھتے ہی رہیں گے جب تک ہم کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو قابو میں نہیں لاتے۔ اس سے ہمیں یہ سمجھ آیا کہ کوئی بھی گورنمنٹ ہو، چاہے پیپلز پارٹی کی ہو، چاہے مسلم لیگ نون کی ہو، یا تحریک انصاف کی ہو، قرضوں کا بڑھنا تو لازم ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا قرضوں کے بڑھنے کی رفتار ہمارے جی ڈی پی کے بڑھنے سے موافق ہے یا نہیں اور کیا قرضوں کی ساخت میں کچھ بہتری لائی گئی ہے یا نہیں۔ اب ہم قرضہ جات کے ڈیٹا پر طائرانہ نظر ڈالتے ہی، تمام رقوم بلین روپے میں ہیں :

Table 4

اس ٹیبل سے ہماری پچھلے پیراگراف کی گزارشات سمجھنے میں مدد ملے گی۔ پہلی گزارش یہ تھی کہ ہر گزرتے سال کے ساتھ قرضوں کا حجم بڑھتا ہی رہے گا، کم نہیں ہو سکتا، جو کہ ہمیں سامنے نظر آ رہا ہے۔ دوسرا یہ کہ جی ڈی پی کے ساتھ قرضہ جات کا تناسب بھی بڑھتا ہی جائے گا، جو کہ پھر ہمیں نظر آ رہا ہے۔ اس ٹیبل سے جو بات کھل کر واضح ہے وہ یہ کہ پیپلز پارٹی کے دور کے اخیر سے مسلم لیگ نون کے دور کے اخیر تک قرضہ جات 71.1 % سے بڑھے ہیں جبکہ جی ڈی پی 54.6 % سے بڑھا ہے، جبکہ نون لیگ کے دور کے اختتام سے لے کر دسمبر 2021 تک قرضہ جات 66.5 % سے بڑھے ہیں جبکہ جی ڈی پی 56.6 % سے بڑھا ہے، یعنی کے تحریک انصاف کی حکومت کے دونوں اشاریے بہتر ہیں۔ مطلب یہ کہ مسلم لیگ کے دور کے اختتام پر جس طرح قرضہ جات کا جی ڈی پی سے تناسب پیپلز پارٹی کے دور کے اختتام سے بڑھا ہے، دسمبر 2021 تک وہ اس رفتار سے نہیں بڑھا۔

یہاں ملکی قرضے کے حوالے سے ایک بہت اہم بات عرض کروں کہ مسلم لیگ نون کے دور میں ملکی قرضے میں پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز کی شرح 20.8 % تھی جبکہ یہ شرح دسمبر 2021 میں بڑھا کر 56.7 % تک لے آئی گئی ہے۔ اکنامکس اور فائنانس سے شغف رکھنے والے احباب کو تو خبر ہوگی ہی، اور باقیوں کو بتانے کے لئے ہم ہیں ہی، کہ قرضہ جات کی ادائیگی کے عرصے میں طوالت معیشت اور قرضوں کی ساخت میں پائیداری کی علامت ہے، اور ایک خوش آئند حکمت عملی ہے۔

غیر ملکی قرضے کے ضمن میں بھی ایک بات عرض کر دوں کہ پاکستانی روپے میں زیادہ بڑھاوا ڈالر کی پاکستانی روپے کے مقابلے میں قدر بڑھ جانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ جبکہ ڈالر کے قرض کی واپسی ڈالر کی ہی کمائی سے ہونی ہے لہذا revaluation exchange سے قرض واپس کرنے کی استطاعت کم نہیں ہو رہی، صرف روپے میں رزلٹ دکھانے میں قرضے زیادہ نظر آتے ہیں۔ اگر قرضے روپے سے ڈالر خرید کر واپس کرنے ہوتے پھر یقیناً اس بات سے مسئلہ ہوتا، لیکن حکومتی قرضے ایسے واپس نہیں ہوتے۔

اب ہم ایک اور افسانہ بھی دیکھ لیتے ہیں کہ غیر ملکی قرضہ جات بہت ہی زیادہ بڑھا دیے گئے ہیں۔ حقیقت کچھ یوں ہے، رقوم بلین ڈالر میں ہیں :

Table 5

غیر ملکی قرضہ مسلم لیگ کی حکومت میں 45.9 % سے بڑھا، جبکہ تحریک انصاف کی حکومت میں صرف 26.4 % سے بڑھا۔ مزید براں، غیر ملکی قرضہ جات میں خالص اضافہ مسلم لیگ کی حکومت میں 22.1 بلین ڈالر تھا، جبکہ تحریک انصاف کی حکومت میں

18.5 بلین ڈالر تھا۔ یہاں یہ بھی قابل ذکر بات ہے کہ مسلم لیگ کے پانچ سالہ دور کے مقابلے میں تحریک انصاف کی ساڑھے تین سال کی حکومت میں غیر ملکی قرضہ جات پر سود کی ادائیگی ایک ارب ڈالر زیادہ تھی۔

ہم نے ابھی سٹیٹ بنک کی خودمختاری پر بات کرنی تھی، کووڈ کے زمانے میں دیے گئے معاشی پیکج کو زیر بحث لانا تھا، شوگر ملوں کو کاشتکاروں کو گنے کی فصل کی فی الفور ادائیگی پر نظر ڈالنی تھی، لارج سکیل مینوفیکچرنگ کے دو سالوں میں کیے گئے توسیعی منصوبوں پر اپنا نکتہ نظر دینا تھا، ڈیجیٹل بینکنگ اور الیکٹرانک منی انسٹیٹیوشنز کی ریگولیشن کے فوائد ذکر کر نے تھے، سٹارٹ اپس میں فارن انویسٹمنٹ پر نگاہ کرنی تھی، سپیشل ٹیکنالوجی زون اتھارٹی کی افادیت عیاں کرنی تھی، تاریخی کارپوریٹ منافع اور ڈیویڈینڈ کو اجاگر کرنا تھا، مالی خسارے اور مہنگائی کی وجوہات کی تفاصیل پر کچھ لکھنا تھا، مگر مضمون پہلے ہی بہت لمبا ہو چکا ہے اور اتنی ساری تفاصیل کے بوجھ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

لہذا ہم اپنے مضمون کو ختم کرتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ کسی بھی قسم کی غلطی سے آگاہ ہو جانے پر خاکسار کو مطلع کریں تاکہ اگر مضمون ایڈٹ نہ بھی ہو سکے کم از کم کانسیپٹ تو ٹھیک ہو جائے۔ اگر آپ کو ہمارا مضمون پڑھ کر شدید اختلاف ہو تو آپ کے اختلاف کا حق سر آنکھوں پر مگر ہم بھی بعینہ آپ سے غیر متفق ہونے کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔

اس مضمون کا یہ مقصد نہیں کہ یہ باور کرایا جائے کہ تحریک انصاف نے معیشت کی کوئی کایا پلٹ کر رکھ دی تھی مگر صرف یہ مقصد ہے کہ یہ جو لمبے لمبے اخباری اشتہارات معیشت کے بہت خراب ہونے پر دیے جا رہے ہیں اس کے بارے میں تھوڑی تفصیل بتا دی جائے تاکہ ریکارڈ درست رہے، سند رہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2