خودکشی کے رجحان کا تدارک ممکن ہے


گلگت بلتستان کے ضلع غذر سے ایک ہی دن میں دو نوجوانوں کی خود کشی کی اطلاع ہے ان میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی شامل ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں میں یہاں خودکشیوں کا رجحان وبائی شکل اختیار کر گیا ہے، اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خود کشی کرنے والوں میں ہر عمر اور جنس کے لوگ شامل ہیں۔ ویسے تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خود کشی کا رجحان پورا ملک بشمول گلگت بلتستان میں موجود ہے مگر ایسے واقعات رپورٹ نہیں ہوتے، چونکہ ضلع غذر میں رپورٹنگ زیادہ ہوتی ہے اس لئے یہاں نظر آتا ہے۔ گلگت بلتستان کی مشہور و معروف مذہبی، سیاسی و سماجی شخصیت سید یحییٰ مرحوم کے بقول خود کشیاں ہر جگہ ہوتی ہیں مگر دردانہ شیر غذر میں ہوتا ہے جو ایک متحرک صحافی ہے۔

اس رپورٹنگ کی وجہ سے ہی سرکاری اور غیر سرکاری، انفرادی اور اجتماعی سطح پر اس مسئلے کو سمجھنے اور قابو پانے کی مقدور بھر کوششیں بھی ہوتی رہی ہیں۔ پڑھے لکھے خاص طور پر نوجوان طلبہ اس بارے میں اپنی کاوشیں کرتے رہے اس کے باوجود بادی النظر میں ایسا لگتا ہے کہ کوئی مربوط ایسی کاوش جس میں ریاستی، غیر ریاستی اور بین الاقوامی ادارے و ماہرین سب شامل ہوں ہونا باقی ہے۔

اگر ہم خودکشیوں کے عالمی رجحان پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا تعلق کسی امیر یا غریب ملک یا کسی ایک براعظم تک محدود نہیں جاپان سے امریکہ، افریقہ سے یورپ تک ہر ملک میں صاحب ثروت اور نادار، مرد و زن، بچے، بڑے اور بزرگ سب ہی اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ 2022 ء کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے ممالک میں امریکہ خودکشیوں میں سرفہرست رہا ہے اس کے بعد جنوبی کوریا، جاپان اور فن لینڈ آتے ہیں۔ بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ براعظم افریقہ، افغانستان اور عراق جیسے جنگ زدہ ممالک اس فہرست میں آخر میں آتے ہیں۔ اس بارے میں یہ بات بھی مدنظر رکھنی ہوگی کہ اعداد شمار صرف رپورٹ ہوئے واقعات پر مبنی ہوتے ہیں بعض ترقی پذیر اور خاص طور پر جنگ زدہ ملکوں میں ایسے واقعات رپورٹ بھی نہیں ہوتے۔

دنیا بھر میں خود کشی کرنے والوں کی تعداد ملیریا، ہیپاٹائٹس، قدرتی آفات اور خوراک کی کمی کی وجہ سے مرنے والوں سے زیادہ ہے۔ 2019 ء کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر خود کشی سے مرنے والے کل اموات کا تین فیصد تھے۔ ان میں سب سے زیادہ جنوبی کوریا میں ساڑھے چار فیصد، سری لنکا میں تین اعشاریہ تین فیصد اور قطر میں تین فیصد اموات کی وجہ خود کشی بتائی گئی۔ اس فہرست میں یونان اور انڈونیشیا میں تعداد سب سے کم رہی۔

عالمی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ آبادی کے حساب سے سال میں ایک لاکھ کی آبادی میں اوسطاً نو لوگ خود کشی سے مرتے ہیں جن میں مرد و زن، نوجوان اور عمر رسیدہ سب ہی لوگ شامل ہوتے ہیں۔ سالانہ تقریباً آٹھ لاکھ لوگ خود اپنی زندگی کا خاتمہ خود ہی کرتے ہیں یوں ہر چالیس سیکنڈ میں دنیا میں کہیں نہ کہیں ایک شخص اپنی جان لے رہا ہوتا ہے۔ عالمی سطح پر خواتین میں نسبتاً یہ رجحان کم دیکھا گیا ہے تاہم بزرگوں میں سب سے زیادہ پایا جاتا ہے۔

فن لینڈ یورپ کا ایک خوشحال ملک ہے جس کی آبادی تقریباً 55 لاکھ ہے۔ یہاں کا تعلیمی نظام بہترین مانا جاتا ہے۔ فن لینڈ میں 1990 ء میں 1500 خود کشی کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے جو 2019 ء میں کم ہو کر 476 رہ گئے۔ تیس سالوں میں کمی کے باوجود فن لینڈ میں یہ واقعات اب بھی تشویش ناک سمجھے جاتے ہیں کیونکہ یہاں 25 سال سے کم عمر خواتین میں خود کشی کا رجحان اس دوران بڑھ گیا ہے۔

میری فن لینڈ کی ایک دوست جو خود ماہر تعلیم اور نوجوانوں میں لیڈر شپ کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے پیشے سے وابستہ ہے سے اس موضوع پر بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب 1990 ء تک جب یہ رجحان عروج پر تھا کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس کی بنیادی وجوہات کیا ہیں۔ نفسیات، تعلیم، سماجی علوم اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ماہرین سب اس کی کھوج لگانے میں لگے ہوئے تھے۔ ماہرین سمجھ چکے تھے کہ جس طرح ہر شخص کی اپنی ایک منفرد شخصیت ہوتی ہے اسی طرح خود کشی کرنے والے کی وجہ بھی الگ ہوتی ہے۔ کوئی ایک نفسیاتی یا سماجی وجہ ایسی نہیں جس سے مشترکہ طور نپٹ کر اس مصیبت سے جان چھڑائی جا سکے۔

فن لینڈ میں ابتدائی طور پر اکٹھا کیے اعداد و شمار نے مگر ایک خاص موسم کی نشاندہی ضرور کی جب یہ رجحان سال کے دیگر ایام کی نسبت بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق کرنے والوں میں علم کیمیا کے ماہرین کو بھی شامل کیا گیا تو یہاں کے لوگوں کے جسم خاص طور پر دماغ کے خلیوں میں کچھ کیمیائی اجزاء بائے گئے جو ایک خاص موسم میں متحرک ہوتے ہیں اور اپنا اثر دکھاتے ہیں۔

ماہرین نے اس مخصوص موسم میں لوگوں کے طرز عمل اور شب و روز کا جائزہ لیا، ان کی خوراک، لباس اور ماحول پر تحقیق کی گئی تاکہ انسانی جسم میں ایسے کیمیائی اجزاء کے پیدا ہونے کا ذریعہ معلوم ہو سکے۔ اس بارے میں ماہرین کی آراء کی روشنی میں ان اجزاء کے انسانی جسم میں پیدا ہونے سے روکنے پر کام ہوا جس کی وجہ سے فن لینڈ میں خودکشی کے واقعات میں تیس سال کے عرصے میں 76 فیصد کمی ہوئی۔

ضلع غذر میں اس مسئلہ کی وجوہات جاننے کے لئے کی گئی تحقیقات بھی کافی زیادہ ہیں مگر کتنی مستند اور قابل اعتبار ہیں اس کا معلوم نہیں کیونکہ تحقیق کرنے والے خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ حقائق پرکھنے کے کسی متفقہ قومی معیار کے بغیر کسی بھی تحقیق کو سند نہیں دی جا سکتی۔ چھان بین سے جو اعداد و شمار اور ماہرین کی جو سطحی رائے سامنے آتی ہے اس میں بڑی حد تک یکسانیت اور مماثلت پائی جاتی ہے۔

تقریباً تمام تحقیق کرنے والے متفق ہیں کہ دنیا بھر میں خود کشی کے صنفی رجحان کے برخلاف یہاں خواتین میں زیادہ ہے۔ 2010 ء سے 2017 ء کے درمیان ضلع غذر میں کل 125 خود کشی کے واقعات پولیس کے پاس رپورٹ ہوئے ان میں 70 عورتیں اور خاص طور پر 27 بڑی عمر کی خواتین شامل تھیں۔ ان 125 خود کشی کرنے والوں میں سے 67 نوجوان طلبہ تھے۔ عمر کے لحاظ سے 65 لوگ بیس سال سے کم، 101 لوگ تیس سال سے کم عمر کے تھے۔ خود کشی کے طریقہ کار میں 45 مرنے والوں نے خود کو لٹکایا تھا، 36 نے خود پر گولی چلائی تھی 29 نے دریا میں چھلانگ لگائی تھی جبکہ 6 نے زہر کھا لیا تھا۔

سال 2017 ء میں سب سے زیادہ 23 خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے ان میں سے 10 مئی کے مہینے میں ہوئے تھے۔ سال کے مختلف مہینوں میں ہوئے خود کشی کے واقعات میں مئی، جون اور نومبر، دسمبر میں یہ واقعات سب سے زیادہ نظر آتے ہیں جس سے یہاں اور فن لینڈ کے رجحان میں مماثلت نظر آتی ہے جو مزید تحقیقات کا متقاضی ہے۔

خود کشی بھی دیگر جرائم کی طرح ایک ایسا جرم ہوتا ہے جو مجرم خود اپنے خلاف ہی سرانجام دے دیتا ہے۔ ماضی میں بھی حکومت نے کمیٹیاں بنائی ہیں جو واقعات کے ہونے کے بعد تحقیقات میں تو معاون ہو سکتی ہیں مگر ایسے جرائم ہونے سے نہیں روک سکتیں۔ فن لینڈ کا تجربہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ انسانوں میں خود کشی کے رجحان کا تدارک ایک مربوط حکمت عملی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اس مسئلے کے دیرپا حل کے لئے معاشرے کے مجموعی سماجی اور معاشی مسائل پر تحقیق اور بہتری کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر کام جاری رکھنے کے ساتھ لوگوں کی انفرادی نفسیاتی صحت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت بھی زیادہ تر لوگ اپنی نفسیاتی بیماریوں کا علاج خود ہی بہ آسانی دستیاب کیمیائی ادویات سے کرتے ہیں جن میں سکون بخش ادویات زیادہ مقبول ہیں جو مغربی ممالک میں منشیات کے زمرے میں تصور کی جاتی ہیں اور صرف ڈاکٹر کے نسخے پر دستیاب ہوتی ہیں۔

ایسی ادویات کا فوری اثر تو بہتر ہو سکتا ہے مگر دیرپا اثرات انتہائی منفی اور مضر ہونے کی وجہ سے ترقی یافتہ ممالک میں ان کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ایسے افراد جو سکون بخش ادویات اور دیگر نشہ آور مواد کے استعمال کا عادی ہو جاتے ہیں وہ جسمانی اور نفسیاتی پیچیدگیوں کا شکار ہو کر ایسی صورت حال سے دوچار ہوسکتے ہیں جو خود کشی جیسے المناک انجام پر منتج ہوتی ہے۔

خود کشی کے رجحان کو بھی نفسیاتی مسئلہ کے علاوہ ایک جسمانی بیماری سمجھ کر اس کے تدارک کے کے لئے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔ خود کشی کرنے والوں کا پوسٹ مارٹم قانونی طور پر لازمی قرار دے کر موت کی وجوہات تلاش کرنے کے ساتھ فن لینڈ کے طرز پر اس وبا پر قابو پانے کے لئے مرنے والوں کے جسم کا کیمیائی تجزیہ کر کے اس بیماری کی بنیادی وجوہات معلوم کرنا نجی شعبہ، بین الاقوامی اداروں اور حکومت کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔

جب تک اس وبائی کی بنیادی وجوہات کا معلوم نہیں ہوتیں تب تک کھوج کے دوران عام لوگوں میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی کی مہم چلانے اور کمیونٹی کا تعاون حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس سلسلے میں سماجی اقدار اور لوگوں کی نجی زندگی کی حساسیت کو مد نظر رکھنا بھی لازمی ہے تاکہ کمیونٹی کی طرف سے منفی رد عمل نہ آئے۔ فن لینڈ سے ہمیں یہ بھی سبق ملتا ہے کہ اس مسئلے پر قابو پانا ممکن ہے مگر اس کا کوئی فوری حل نہیں بلکہ یہ ایک صبر آزما مربوط حکمت عملی سے ہی ممکن ہے جس میں وقت لگتا ہے۔

.


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی احمد جان

علی احمد جان سماجی ترقی اور ماحولیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔ گھومنے پھرنے کے شوقین ہیں، کو ہ نوردی سے بھی شغف ہے، لوگوں سے مل کر ہمیشہ خوش ہوتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر شخص ایک کتاب ہے۔ بلا سوچے لکھتے ہیں کیونکہ جو سوچتے ہیں, وہ لکھ نہیں سکتے۔

ali-ahmad-jan has 256 posts and counting.See all posts by ali-ahmad-jan