اتنا سنّاٹا کیوں ہے بھائی
رسی جل گئی، مگر بل نہیں گیا۔ راج گیا۔ تخت و تاج گیا۔ اقتدار گیا۔ مگر خود پسندی اور نرگسیت کا یہ عالم ہے کہ اپنے آپ کو ناقابل متبادل (ان ڈسپینسیبل) سمجھے جانے کے تصور میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
مسئلہ یہ نہیں ہے کہ رسی کا بل نہیں جا رہا، مسئلہ یہ ہے کہ اس کی اس قدر ہرزہ سرائی پر ان حلقوں کو سانپ کیوں سونگھا ہوا ہے، جن کو ان کو بہر طور ’ریسپانڈ‘ کرنا چاہیے اور ان کے لئے حدود کا تعین کرنا چاہیے۔
پہلے کہا جاتا تھا کہ ”لاڑکانے اور لاہور کے وزیراعظم کے ساتھ برتاؤ میں زمین اور آسمان کا فرق ہوتا ہے۔“ مگر اب کہ یہ فرق تو ’لاہور یا ملتان کے وزیر اعظم‘ اور ’میانوالی کے وزیراعظم‘ میں زمین اور آسمان کے درمیان کے فاصلے سے بھی زیادہ نظر آ رہا ہے۔ ’موصوف‘ نے جو کچھ کیا اور کہا، آپ برداشت کرتے رہے، مگر جب اس نے آپ کے اختیارات کو چیلینج کیا، تو آپ نے اسے (بظاہر) آئینی طریقے سے گھر کا راستہ دکھا دیا۔ آپ غیر جانبدار ہو گئے۔ اچھا کیا۔ مگر اب جب وہ اپنے آپ کو خبروں میں رکھنے کے لئے اور محض توجہ حاصل کرنے کے لئے روز کوئی نیا چورن بیچنے کے لیے آ جاتا ہے، تو اس کی ہر ہر بات کو آپ کی جانب سے بہرحال برداشت کرنے والی روش سمجھ سے باہر ہے۔
مانا کہ آپ کے ”حلقوں“ میں بھی ایک بھاری تعداد اب تک اس کی حمایت میں برسر پیکار ہے، مگر یہ کیسی غیر جانبداری ہے کہ اس کی کہی ہوئی بات کے ایک فیصد برابر بات بھی اگر کوئی ’بولانوی‘ ، ’مہرانوی‘ ، ’وسیبوی‘ یا حتیٰ کہ ’لاہوریہ‘ یا ’رائے ونڈوی‘ بھی کہے، تو آپ اسے سیاسی موت مار کے اس پر غداری کے الزام لگا کر، اس کو عبرتناک سبق سکھا دیتے ہیں۔ اس کی تحریر و تقریر و تشہیر پر پابندی لگا دیتے ہیں، مگر اگر ’موصوف میاں والوی‘ کچھ بھی (یعنی کہ کچھ بھی) کہے تو اسے مباح ہے۔ اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ کوئی قدغن نہیں۔
بلے ہو ایسے انصاف اور غیر جانبداری پر!
ملک کے تین بار وزیراعظم رہنے والے سینیئر سیاستدان نے گوجرانوالہ جلسے میں لندن سے خطاب کرتے ہوئے آپ کو آڑے ہاتھوں لیا، تو ان کی تصویر، آواز اور کوئی بھی بیان چلانا، ”حضرت پیمرا“ نے چینلز کے لئے گناہ کبیرہ قرار دے دیا، جب کہ ’موصوف‘ نے کبھی ملک پر ایٹم بم گرا دیا، کبھی اداروں کو متنازع بنا دیا (جو کہ کرسی چھننے کے بعد مستقل ہی بنا رکھا ہے ) تو کبھی عدلیہ اور فوج کے اہم ترین، ذمہ داروں کو سخت ترین دشنام طرازی کا نشانہ بنوایا، مگر ہمارے اداروں کا کسی بھی قسم کا رد عمل ندارد!
اب کہ جب اس نے ملک کے تین لخت ہو جانے کی بات کی اور پہلے انفرادی جرنیلوں کو ’میر جعفر‘ اور ’میر صادق‘ کے القابات سے نوازنے کے ساتھ ساتھ ’جانور‘ کہنے کے بعد اب فوج کے کسی ایک جرنیل کو نہیں، بلکہ پورے ادارے کے (خدانخواستہ) تباہ ہو جانے کی بات کی، تب بھی کوئی آواز نہیں آ رہی۔
کچھ دن پہلے سابق صدر نے لائٹر نوٹ پہ چلتے چلتے ”کھڈے لائن“ والا بیان دیا تو، ہمارے ’مستعد‘ اداروں کی جانب سے اگلے روز ہی حوصلہ شکنی پر مشتمل بیان جاری ہو گیا، مگر اب کی بار پیمرا نے ازراہ تکلف محض وہ ایک بیان نشر کرنے سے منع کر دیا، جس میں موصوف نے ملک کے تین لخت ہونے کا قول زریں عنایت فرمایا تھا۔ جبکہ اصولاً اس طرح روز بہ روز خطرناک بنتے جا رہے ’لاڈلے‘ کے انداز و بیان کے نشر کرنے پر ویسی ہی پابندی لگنی چاہیے، جیسی بانی ایم کیو ایم یا مسلم لیگ (ن) کے سربراہ کی تحریر و تقریر پر ہے۔ یہ ایک طرف مکھی کی بھنبھناہٹ پر بھی مستعدی کی انتہا اور دوسری جانب ریل کے اوپر سے گزر جانے پر بھی نظر اندازی کی انتہا والا دوہرا معیار سمجھ سے باہر ہے۔
’موصوف‘ اس قدر خطرناک ترین بیان آخر دے کیوں رہے ہیں؟ بقول معروف تجزیہ کار اور صحافی سید طلعت حسین کے : ”سابق وزیراعظم، اس بگڑے ہوئے بچے کی طرح اپنے والدین (بالخصوص ’ابو جی‘ ) سے اپنی بات منوانے اور ان کی توجہ حاصل کرنے کی کوششوں میں مگن ہے، جو پہلے تو چیختا چلاتا ہے، پھر بھی اس کی بات نہیں مانی جاتی، تو وہ اپنے آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتا ہے۔ اور جب پھر بھی اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا، تو وہ گھر کی چیزیں توڑنا شروع کر دیتا ہے۔ اور یہ ’موصوف‘ اب اس تیسری اسٹیج پر پہنچ چکا ہے۔ اس نہج پر پہنچنے کے بعد والدین اس بگڑے ہوئے بچے کو دو چار تھپڑ بھی رسید کر دیتے ہیں، مگر وہ اس میں بھی خوش ہوتا ہے، کہ چلو! سزا کی صورت میں ہی سہی، مگر مجھے توجہ تو حاصل ہوئی۔“
تو اس بات سے قطع نظر کہ اس ’بگڑے ہوئے بچے‘ کی جانب سے ان عجیب و غریب حرکتوں کے پیچھے اسباب کیا ہیں اور وہ ان سے نتائج کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، آیا وہ محض توجہ ہی حاصل کرنا چاہتا ہے؟ یا کچھ اور۔ اس غریب ملک کے پسماندہ و بے بس عوام کے اذہان میں مچلتے اس سوال کا ابھرنا فطری تو ہے ہی! (جس پر کوئی پابندی نہیں لگا سکتا) کہ وہ نظام انصاف و عدل، جو ایگزیکٹو کو اپنے جائز اور آئین کی جانب سے تفویز شدہ اختیارات استعمال کرنے سے منع کرنے کے لیے (تعیناتیوں اور ٹرانسفرز کرنے سے روکنے کے لیے ) از خود نوٹس لینے کے لیے مستعد نظر آیا، جو ’لاڈلے‘ کی جانب سے صریحاً اور سیدھی سیدھی توہین عدالت پر یہ کہہ کر عذر تلاش کرتا رہا کہ ”ان تک عدالت کے احکامات ٹھیک سے نہیں پہنچ پائے ہوں گے ۔“
اب کی بار ملک توڑنے، ایٹمی اثاثوں کے غیر محفوظ ہونے / چھن جانے اور فوج کے تباہ ہونے والے بیانات پر خاموش کیوں ہے! ؟ اور وہ اسٹیبلشمنٹ، جو جائز بات کہنے پر بھی قدغن لگانے میں ملکہ رکھتی ہے اور یہ اس کی مستقل روایت بھی رہی ہے، تو اب اپنی بحیثیت ادارہ اور انفرادی طور پر اپنے اہم ترین جرنیلوں کی ہتک کیسے برداشت کر رہی ہے؟
اور اتنا سناٹا کیوں ہے بھائی؟


