ہماری معیشت کیسے اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکتی ہے؟


پاکستان کی پچھلی حکومت کے ساتھ آئی ایم ایف کے معاہدے کی شرائط پوری کرنے کے لئے فی یونٹ بجلی کی قیمتوں میں اضافے اور پٹرولیم کی مصنوعات میں بڑے اضافے کے ساتھ مہنگائی کا طوفان تقریباً دروازے پر دستک دے رہا ہے۔ یہ شرائط بادل ناخواستہ پوری کرنا اس لیے ضروری ہو گیا تھا تاکہ معیشت کو وینٹیلیٹر سے اٹھایا جا سکے۔ تجاری خسارہ خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے، بیرونی زرمبادلہ میں بہت کمی آ گئی ہے اور وقفے وقفے سے ڈالر کی اڑان جاری ہے۔ آئی ایم ایف کی پہلی قسط بجلی اور پٹرول کی سبسڈی ختم کرنے سے مشروط کی گئی تھی۔ دوست ممالک جیسے چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بھی اپنا تعاون آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی تکمیل کے ساتھ مشروط کر دیا تھا۔

اس بحث سے قطع نظر کہ پاکستان کی معیشت اس حال تک کیسے پہنچی، یہ بات طے ہے کہ معیشت کی بنیادی پالیسیوں میں انقلابی تبدیلی کے بغیر صحت مند اشاریے وجود میں نہیں آسکتے۔ میکرو اکنامک اور مائیکرو اکنامک پالیسیوں میں توازن لانے کے لئے اور عام آدمی پر مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ کم کرنے کے لئے انتظامی اصلاحات اب کوئی اختیاری بات نہیں رہی بلکہ لازمی شرط بن گئی ہیں۔

معیشت کو ٹریک پر لانے کے لئے برآمدات میں اضافہ اختیاری نہیں، لازمی ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کر کے پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی تعلقات میں خاطر خواہ بہتری آ جائے۔ جب تک تنازعات، انتہا پسندی اور دہشت گردی کی معیشت کو جڑوں سے اکھاڑ کر پھینکا نہیں جاتا، خطے کے ممالک اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ صحتمند اور منافع بخش تجارت ممکن نہیں۔

یہ بات قابل ستائش ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر خارجہ نے امریکہ، چین، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور ترکی کا دورہ کر کے عمران خان کی ہائبرڈ حکومت کی پیدا کردہ عالمی تنہائی کی دیواروں میں کچھ سوراخ کرلئے اور ان ممالک کے ساتھ تعلقات میں کچھ برف پگھلی ہے لیکن جب تک پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارت میں کوئی بڑی پیشرفت نہیں ہوجاتی، اس وقت تک برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ممکن نہیں۔

ٹیکسوں کے نظام کو سادہ اور براہ راست بنانا اس لیے ضروری ہے تاکہ آمدنی میں فوری اضافہ ممکن ہو سکے۔ بڑے بڑے کارخانہ داروں اور جاگیرداروں کے لئے چھوٹ اور رعایت کو فوری طور پر ختم کیا جائے جس کی وجہ سے ملکی خزانے کو بقول ڈاکٹر حفیظ پاشا سالانہ 420 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ اخراجات میں کمی کے لئے سول اور ملٹری بیوروکریسی، ججوں اور وزیروں مشیروں کا مفت پٹرول اور دوسرے غیر ترقیاتی اخراجات ختم کرنا اشد ضروری ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ نو آبادیاتی دور کی اشرافیت کو خیر آباد کہہ دیا جائے۔

مالی اور انتظامی اختیارات کو آئینی طور پر صوبائی حکومتوں کو منتقل کرنے سے صوبوں کی انتظامی صلاحیت مزید بڑھے گی، براہ ٹیکسوں کی مقدار میں اضافہ ہو گا اور صوبوں کی پیداواری صلاحیت میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ واپڈا کے ڈسٹری بیوشن نظام میں بہت بڑے سقم موجود ہیں جس کی وجہ توانائی کا بحران پیدا ہو رہا ہے۔ لائن لاسز میں بجلی کی بڑی مقدار ضائع ہو رہی ہے۔ پھر ایک طرف لوڈ شیڈنگ عوام کا جینا محال کر دیتی ہے اور دوسری طرف صوبوں کے قدرتی وسائل سے ماحول دوست صنعتکاری ممکن نہیں ہو پا رہی ہے۔ خیبرپختونخوا میں سستی بجلی پیدا کرنے کے لامتناہی امکانات موجود ہیں۔ اسی طرح بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے جنوبی اور نئے اضلاع میں معدنیات کے لامتناہی ذخائر اور معدنی صنعتکاری کے امکانات موجود ہیں۔ یہ تب ممکن ہے جب ان صوبوں اور علاقوں کے لوگوں کو وسائل کی ملکیت کا احساس ہو۔ جب پختونخوا اور اس کے نئے اضلاع میں ایکشن ان ایڈ آف سول پاور کا قانون ختم کر کے انتظامی اختیارات سیویلین انتظامیہ کو سونپ دیے جائیں۔ ان علاقوں کی پیداواری صلاحیت بڑھے گی تو ملک کو برآمدات کے لئے وافر مقدار میں مصنوعات ہاتھ آئیں گی۔ وقت آ گیا ہے کہ ریاستی مشینری کے اندر مرکزیت پسندی کی ذہنیت سے چھٹکارا پایا جائے۔

اسی طرح زرعی اجناس اور پولٹری میں میں بہت بڑا اور فوری اضافہ ممکن ہے۔ اس کے لئے پانی کی وافر مقدار ضروری ہے۔ پورے ملک کے ہر علاقے میں پانی کے چھوٹے چھوٹے ریزروائرز بنانے میں نہ وقت لگتا ہے اور نہ بہت بڑا سرمایہ۔ برسات میں پانی کی بہت بڑی مقدار ضائع ہوجاتی ہے۔ اگر ریزروائرز بنانے کا کام بطور پالیسی اپنایا جائے تو واٹر ٹیبل بھی برقرار رہے گا اور آبپاشی کا نظام بھی بہت بہتر ہو جائے گا۔ اسی طرح پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں چشمہ رائٹ بنک کا لیفٹ کینال، گومل زام کی نہر کی وسعت اور ٹانک زام کی نہر کی تکمیل سے لاکھوں ایکڑ اراضی سیراب ہو سکتی ہے۔

ملکی آمدنی کا ایک اور فوری ذریعہ ماحول دوست سیاحت اور ٹورازم ہے۔ سیاحت کے لئے عالمی اور علاقائی تنہائی کا فوری خاتمہ، انتہا پسندی اور دہشت گردی کا قلع قمع اور سیاحوں کے لئے لازمی بنیادی سہولیات پیدا کرنا اشد ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ پاکستان کے تمام صوبوں میں سیاحت کی ترویج کے لامتناہی امکانات موجود ہیں۔

ان چند اور فوری اقدامات سے عالمی اداروں پر معیشت کا انحصار کم ہو جائے گا اور پاکستان کی معیشت مکمل طفیلیت سے نکل آئے گی۔ فوری طور پر ان اصلاحات پر کام شروع نہ کیا گیا تو مزدور، کاشتکار اور سرکاری ملازمین پر مہنگائی کا بوجھ بڑھتا جائے گا، بے چینی اور اضطراب میں اضافہ ہو گا اور سیاسی عدم استحکام مزید بڑھ جائے گا۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خادم حسین

(خادم حسین پانچ کتابوں کے مصنف ہیں اور @khadimHussain 4 پر ٹویٹ کرتے ہیں۔ )

khadim-hussain has 9 posts and counting.See all posts by khadim-hussain

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments