نائجیریا: عالم دین سے جھگڑا، ہجوم نے ایک شخص کو زندہ جلا دیا


نائجیریا
نائیجیریا کی پولیس کا کہنا ہے کہ دارالحکومت ابوجا میں ایک عالم دین کی حمایت کرنے والے ہجوم نے عالم سے جھگڑا کرنے والے ایک شخص کو نذر آتش کردیا جس کے وہ شخص ہلاک ہو گیا۔ 30 سالہ احمد عثمان نامی شخص تحفظ امن کے ایک مقامی گروپ کا رکن تھا اور پولیس کا کہنا ہے کہ تقریباً 200 افراد اس کے خلاف متحرک تھے۔مارے جانے والے شخص اور عالم دین کے درمیان جھگڑے کی ابھی تک کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

گذشتہ ماہ سوکوٹو شہر میں ایک عیسائی طالبہ کو مسلمان طلبہ نے مار مار کر آگ لگا دی تھی جنہوں نے اس پر توہین مذہب کا الزام لگایا تھا۔ابوجا میں مارے جانے والے شخص کی شناخت پولیس نے ایک مقامی تحفظ امن کے رکن کی حیثیت سے کروائی ہے جو لوگبی ایریا میں فیڈرل ہاؤسنگ اسٹیٹ میں مقیم تھا۔

پولیس کو یہ شخص جائے وقوعہ پر ملا تو وہ شدید جھلسا ہوا تھا۔ اسے ہسپتال لے جایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔بی بی سی ابوجا کے رپورٹر کرس ایوکور کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ نائیجیریا میں ہجوم کی جانب سے تشدد میں اضافہ ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں مشتعل ہجوم آخر قانون ہاتھ میں کیوں لیتا ہے؟

انڈیا: ہجوم کے ہاتھوں مرتے شخص کے ساتھ سیلفیاں

’میرا بیٹا اس علاقے کو بچانے گیا جس سے اسے محبت تھی، مگر اسے زندہ جلا دیا گیا‘

’فیکٹری میں کچھ لوگ خاموش تماشائی بن گئے، باقی انھیں قتل کرنا چاہتے تھے‘

ہجوم کے ذریعے تشدد کا فروغ بہت خطرناکدو ہفتے قبل ابوجا کے مضافاتی علاقے میں کمرشل موٹر سائیکل چلانے والوں اور تاجروں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔کچھ دن پہلے، ہجوم کے تشدد کے نتیجے میں ملک کے تجارتی مرکز لاگوس میں ایک 38 سالہ ساؤنڈ انجینئر کی موت واقع ہوئی تھی۔انسانی حقوق کے کارلنوں کا کہنا ہے کہ ہجوم کے ہاتھوں تشدد کے متواتر واقعات کو فوجداری نظام انصاف پر عدم اعتماد کی وجہ تقویت ملتی ہے۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp